• Tue, 06 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایس آئی آر کے تحت نام میں معمولی فرق پر نوٹس، رائے دہندگان میں شدید ناراضگی

Updated: October 06, 2026, 3:17 PM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

کسی کے نام میں ’کے ‘اور ’کے ایچ ‘کا فرق ہے یا کسی کے نام میں ’ آئی ‘ کی جگہ ’ڈبل ای‘ ہے۔ اسی طرح ایک ہی خاندان میں اگر ۶؍ سے زیادہ بچے ہیں اور سبھی نے والد سے میپنگ کروائی ہے تو انہیں بھی ’انوملی/ لوجیکل ڈسکری پینسی‘ کا نوٹس دیا گیا ہے۔

Voters are having to contact the BLO regarding various issues. Photo: Inquilab
مختلف مسائل کے سلسلے میں رائے دہندگان کو بی ایل او سے رابطہ قائم کرنا پڑرہا ہے۔ تصویر: انقلاب

اسپیشل انٹینسیو ریویزن ( ایس آئی آر) مہم کے دوران کئی ووٹروںکو   ۲۰۰۲ء کی ووٹر لسٹ کی تفصیل اور موجودہ ووٹر لسٹ میں اندراج میں معمولی فرق پر ’انوملی/ لوجیکل ڈسکری پینسی‘ کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ ان میں  نام لکھنے میں معمولی فرق جیسے کسی کے نام میں ’کے ‘اور ’کے ایچ ‘کا  فرق ہے یا کسی کے  نام میں  ’ آئی ‘ کی جگہ ’ڈبل ای‘ (مثلاً جمیلہ ، ثمینہ ، آمنہ  ) لکھا  یا ایک ہی خاندان میں اگر ۶؍ سے زیادہ بچے ہیں اور سبھی نے والد سے  میپنگ کروائی ہے تو ۶؍ سے زیادہ بچوں کو بھی ’انوملی/ لوجیکل ڈسکری پینسی‘  کا نوٹس جاری کیا گیا ہے۔ اتنا ہی نہیں بلکہ والد اور بیٹا یا بیٹی میں ۱۵؍ سال کی عمر کا فرق ہے تو انہیں بھی نوٹس دیاجارہاہے۔ اس طرح معمولی معمولی وجوہات کی بناء پر نوٹس جاری کرنے سے ووٹروں میں شدید ناراضگی پائی جارہی ہے اور وہ نوٹس کا جواب دینے کیلئے اپنے دستاویزات جمع کرنے کیلئے پریشان ہو رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے:اگر مصر نے اسرائیل پر حملہ کیا تو سینائی باقی نہیں رہے گا: اسرائیلی وزیر

’کے‘ اور ’کے ایچ ‘کے فرق پر نوٹس 

شیواجی نگر ( گوونڈی)کی سابق کارپوریٹر رخسانہ صدیقی کی بیٹی ایسے ووٹروں میں شامل ہیں جنہیں معمولی فرق کے سبب  نوٹس جاری کیا گیا ہے۔  اس تعلق سے رخسانہ صدیقی سے رابطہ قائم کرنے پر انہوںنے بتایا کہ  ’’ملاڈ میں رہنے والی میری بیٹی نےایس آئی آر سروے میں  ۲۰۰۲ءکی میری تفصیل سے میپنگ کی تھی ۔اس وقت الیکشن کمیشن نے میرے نام کے اِملے میں غلطی کرتے  ہوئے رخسانہ  میں  ’کے ایچ‘ کی جگہ صرف ’کے‘لکھ دیا تھا۔  بعد ازیں مَیں نے اسے  درست کر وادیا اور موجودہ   ووٹر لسٹ میں میرا نام ’کے ایچ‘ کے  ساتھ رخسانہ لکھا ہے۔اسی اعتبار سے میری بیٹی کی ووٹر لسٹ میں صحیح اسپیلنگ (یعنی کے ایچ کیساتھ) رخسانہ لکھا ہے۔  ۲۰۰۲ء میں  رخسانہ  میں کے ایچ نہ ہونے پر میری بیٹی کو  ’لوجیکل ڈسکری پینسی‘ (نام میں فرق) کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔ یہ افسوسناک ہے۔ اتنے معمولی فرق کو تو الیکشن کمیشن کو قبول ہی کرلینا چاہئے تھا۔‘‘انہوں نے مزید بتایا کہ ووٹر لسٹ میں الیکشن کمیشن کی جانب سے مقرر کئے گئے لوگ ہی ناموں کا اندراج کرتے ہیں جو مسلمانوں کے ناموں کو درج کرنے میں اکثر غلطی کرتے ہیں  اور اب ان کی غلطیوں کا خمیازہ ہمیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔

کچھ ووٹروں کے نام میں ’آئی ‘کی جگہ اگر’ ڈبل ای‘  ہواور کہیں ’ڈبل ای ‘کی جگہ’ آئی‘ تو بھی اسے نام کا فرق بتایا جا رہا ہے۔ حالانکہ تصویر اور دیگر تفصیلات درست ہیں اس  لئے الیکشن کمیشن کو کم از کم اس طرح کا اعتراض نہیں کرنا چاہئے اور اتنے معمولی فرق کو نظر انداز کر دیناچاہئے۔‘‘

سیلف میپنگ کرنے پروالد سے عمر کے فرق پر نوٹس

چیتا کیمپ کے ایک ووٹر نے بتایاکہ ’’میری بیوی کا نام  ۲۰۰۲ء کی لسٹ میں موجود ہے، میں  نے اسی نام سے میپنگ کروائی تھی مگر حیرت انگیز طورپر ان کے نام جو نوٹس آیا ہے، اس میں ان کے اور ان کے والد کی عمر میں ۱۵؍ سال سے کم کے فرق  پر سوال کیاگیاہے۔‘‘ انہوں نےبتایا کہ’’ اوّل تو یہ فرق ۱۵؍ سال سے کم  کا نہیں ہے،اس لئے یہ نوٹس ہی  غلط ہے مگر سوال یہ ہے کہ جس ووٹر کانام ۲۰۰۲ء کی لسٹ میں  موجود ہے  اوراس نے اپنے نام  کے ساتھ ہی میپنگ (سیلف) کروائی ہے تو پھر اس  کے والدین  کے حوالے سے نوٹس کیوں؟ انہوں  نے یہ بھی کہا کہ ’’یہ گنجائش تو تھی کہ نام کے فرق کے بارے میں سوال اٹھایا جاتا کیونکہ پہلے ان کے نام کے ساتھ والد کا نام تھا اوراب شوہر کا نام ہے مگر  یہ حیرت انگیز ہے کہ والد  اوران کی عمر میں فرق کا نوٹس دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں جب متعلقہ بی ایل او سے رابطہ کیاگیا  تو اس نے بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے نوٹس کے غلط ہونے کا اعتراف کیا مگر کہا کہ سسٹم  نے نوٹس جاری کیا ہے، وہ کچھ نہیں کرسکتا، دستاویز دینے پڑیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: نئی دہلی: الیکشن کمیشن کے دفتر کی طرف اپوزیشن کا مارچ پولیس نے روکا، ارکان حراست میں

’’گھر گھر نوٹس نہیں دیئے جارہے ہیں‘‘

مبین منصوری یہ بھی کہا کہ چیف الیکشن کمشنر کی جانب سے یہ اعلان کیا گیا ہے کہ بی ایل او گھر گھر جاکر  نوٹس دیں گے اور دستاویزات قبول کریں گے لیکن ایسا بالکل نہیں ہو رہا ہے بلکہ ووٹروں کو بی ایل او کے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں۔گویا  الیکشن کمیشن کے کام کاج میں شفافیت نہیں اور تذبذب بہت ہے۔

اسی طرح کی شکایتیں وکھرولی، مدنپورہ اور دیگر علاقوں سے بھی موصول ہورہی ہیں۔

اس ضمن میں مہاراشٹر کے چیف الیکٹورل آفیسر ایس چوکلنگم  اور جوائنٹ چیف الیکٹورل آفیسر منوہر پرکار سے استفسار کیا گیا لیکن ان کی جانب  سے کوئی جواب نہیں ملا۔

مانخورد- شیواجی نگر اسمبلی حلقہ میں ۵۷؍ ہزار ووٹروں کو نوٹس

شیواجی نگر اسمبلی حلقہ میں ایس آئی آر کے تعلق سے شہریوں کی رہنمائی کرنے والے سماجوادی پارٹی کے سیکریٹری مبین منصوری نے بتایاکہ ’’ مانخورد- شیواجی نگر اسمبلی حلقہ میں ایس آئی آر شروع ہونےسے قبل تقریباً  ۳؍  لاکھ ووٹرس تھے ، ایس آئی آر کے پہلے مرحلے میں غیر حاضر، منتقل ہو چکے، انتقال کر گئے اور ڈپلیکیٹ (اے ایس ڈی ڈی ) کے بہانے تقریباً   ڈیڑھ لاکھ ووٹروں کے نام حذف کر لئے گئے اور ان ڈیڑھ لاکھ ووٹروں میں سے ۵۷؍ ہزار ووٹروں کو لوجیکل ڈسکری پینسی اور ۲۰۰۲ء سے میپ نہ ہونے کا نوٹس بھیجا گیا ہے۔

نوٹس کی نوعیت کے تعلق سے پوچھنے پرانہوںنے بتایا کہ ’’اگر کسی خاندان میں ۶؍ سے زیادہ بچے ہیں اور ان سبھی نے والد سے میپنگ کی ہے تو ایک ہی نام سے ۶؍ سے زیادہ کی میپنگ کرنے والوں کو  لوجیکل ڈسکری پینسی کا نوٹس دیاجارہا ہے جو کہ ایک قسم کا جبر ہے۔ اس کا حل یہ بتایاجارہا ہے کہ آدھے بچے والد سے میپنگ کروائیں اور آدھے اپنی والدہ سے کروائیں۔ پہلے تاریخ پیدائش  اندازاً لکھا دی جاتی تھی لیکن اگر دو بچوں میں  ۹؍ ماہ سے کم کا فرق ہے تو اسے بھی نوٹس دیاگیا ہے۔ صاف لفظوں میں یہ کہ ایک سال میں ۲؍ بچے کیسے پیدا ہو گئے ؟ یہ سوال قائم کیاجارہا ہےجبکہ یہ انسان  کے اختیار میں نہیں ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK