راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، اکھلیش یادو اور دیگر لیڈروں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا؛ ایس آئی آر اور ووٹر فہرست میں تبدیلیوں پر اعتراض۔
EPAPER
Updated: October 06, 2026, 2:34 PM IST | New Delhi
راہل گاندھی، پرینکا گاندھی، اکھلیش یادو اور دیگر لیڈروں نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا؛ ایس آئی آر اور ووٹر فہرست میں تبدیلیوں پر اعتراض۔
ہندوستان میں اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد ’انڈیا‘ بلاک کے ارکان پارلیمنٹ نے منگل کو نئی دہلی میں پارلیمنٹ سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کیا، لیکن پولیس نے انہیں منزل تک پہنچنے سے پہلے روک دیا۔ مارچ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے خلاف احتجاج کے لیے کیا گیا تھا۔ پولیس نے کانگریس کے لیڈروں راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی سمیت متعدد اپوزیشن ارکان کو مختصر طور پر حراست میں لیا۔ مارچ پارلیمنٹ کے مکر دوار سے شروع ہوا اور ارکان الیکشن کمیشن کے صدر دفتر نروچن سدن کی طرف بڑھے۔ پولیس نے انہیں پارلیمنٹ اسٹریٹ پر نیتی آیوگ کے دفتر کے قریب روک دیا۔ اس مقام سے الیکشن کمیشن کا دفتر تقریباً نصف کلومیٹر دور تھا۔ مارچ رکنے کے بعد اپوزیشن ارکان سڑک پر بیٹھ گئے اور دھرنا شروع کردیا۔
احتجاج میں لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی کے علاوہ راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکار جن کھرگے، پرینکا گاندھی، سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو، ترنمول کانگریس کے ابھیشیک بنرجی اور شیوسینا (ادھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے رکن پارلیمنٹ سنجے راؤت سمیت مختلف اپوزیشن جماعتوں کے لیڈر شریک ہوئے۔ دی ہندو کے حوالے سے اسکرول نے بتایا کہ مارچ میں تقریباً ۲۳۷؍ ارکان پارلیمنٹ شریک تھے۔ راہل گاندھی نے احتجاج کے دوران ایک پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا، ’’گیانیش، بات ختم ہوگئی، بھائی!‘‘ بعد میں انہوں نے سوشل میڈیا پر بھی چیف الیکشن کمشنر سے استعفے کا مطالبہ کیا۔ پولیس کی جانب سے حراست میں لیے جانے کے بعد رہائی پر راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو الیکشن کمیشن کے دفتر سے متصل آکاشوانی بھون کے اندر دیکھا گیا، جہاں سے ان کے الیکشن کمیشن کے دفتر تک پہنچنے کی کوشش کی اطلاعات سامنے آئیں۔
اپوزیشن جماعتوں کا بنیادی اعتراض ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (SIR) کے طریقۂ کار، ووٹروں کے نام حذف کیے جانے کے خدشات اور فارم ۶؍ میں مبینہ تبدیلیوں سے متعلق ہے۔ اپوزیشن کا مطالبہ ہے کہ SIR کا عمل روکا جائے، حذف کیے گئے اہل ووٹروں کے نام بحال کیے جائیں اور گیانیش کمار اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔ یہ جماعتیں الیکشن کمیشن کے کام کرنے کے طریقۂ کار اور اس عمل میں شفافیت پر بھی سوال اٹھا رہی ہیں۔ احتجاج کا فوری پس منظر پیر کو سپریم کورٹ میں ہوئی سماعت بھی ہے۔ چیف جسٹس سوریا کانت کی سربراہی والی بنچ نے واضح کیا کہ عدالت نے فارم ۶؍ کے کسی ترمیم شدہ ورژن کی منظوری نہیں دی۔ عدالت نے کہا کہ متعلقہ ریکارڈ پیش کیے جانے پر وہ یہ دیکھنا چاہے گی کہ فارم میں تبدیلی کس نے کی۔ تاہم عدالت نے چیف الیکشن کمشنر کو فوری طور پر معطل کرنے کی درخواست پر یک طرفہ عبوری حکم دینے سے انکار کیا اور مرکز، الیکشن کمیشن، گیانیش کمار اور دیگر متعلقہ فریقوں کو نوٹس جاری کیے۔
یہ بھی پڑھئے:راجیہ سبھا انتخابات کیلئے سرگرمیاں تیز، یوپی میں دسویں سیٹ بی جے پی اور سماجوادی کیلئے ٹیڑھی کھیربنی
فارم ۶؍ نئے ووٹر کے اندراج کے لیے استعمال ہونے والا قانونی درخواست فارم ہے۔ اپوزیشن نے عدالت کی اس وضاحت کو اپنے اعتراضات کی تائید کے طور پر پیش کیا ہے، جبکہ اس معاملے میں یہ بھی زیر بحث ہے کہ فارم کی تبدیلی کس اختیار کے تحت کی گئی۔ عدالت نے اس مرحلے پر یہ فیصلہ نہیں دیا کہ تبدیلی غیر قانونی تھی یا اس کے لیے کسی مخصوص فرد کو ذمہ دار قرار دیا جائے۔ الیکشن کمیشن پہلے ہی SIR کو انتخابی فہرستوں کی نظرثانی کا قانونی عمل قرار دے چکا ہے۔ کمیشن کے مطابق اس عمل کا مقصد اہل ووٹروں کو شامل کرنا اور انتخابی فہرستوں کو درست رکھنا ہے۔ کمیشن نے پہلے سیاسی جماعتوں سے بوتھ لیول ایجنٹس کی تقرری اور عمل میں شرکت بڑھانے کی بھی اپیل کی تھی۔ سپریم کورٹ بھی اس سے قبل بہار میں SIR کی قانونی حیثیت برقرار رکھ چکی ہے۔ عدالت کے مطابق الیکشن کمیشن کو انتخابی فہرستوں کی درستگی کے لیے محدود دائرے میں شہریت سے متعلق جانچ کا اختیار حاصل ہے، تاہم عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ شہریت کا حتمی فیصلہ متعلقہ قانونی اتھارٹی کے دائرۂ اختیار میں رہتا ہے۔
منگل کے مارچ سے پہلے دہلی پولیس نے پارلیمنٹ، وجے چوک اور الیکشن کمیشن کے صدر دفتر کے اطراف سکیورٹی سخت کردی تھی اور کئی مقامات پر بیریکیڈز لگائے گئے تھے۔ پولیس اور نیم فوجی دستوں کی اضافی تعیناتی بھی کی گئی تھی۔ احتجاج کے بعد اپوزیشن ارکان نے پارلیمنٹ اسٹریٹ پر دھرنا جاری رکھا۔ اس احتجاج میں اپوزیشن کی تمام جماعتیں شامل نہیں تھیں۔ اسکرول کے مطابق عام آدمی پارٹی اور دراوڑ منیتر کژگم نے مارچ میں شرکت نہیں کی، جبکہ بیجو جنتا دل نے، جو ’انڈیا‘ اتحاد کا حصہ نہیں ہے، مارچ میں شامل ہونے کی بات کہی تھی۔ اپوزیشن نے اعلان کیا ہے کہ الیکشن کمیشن اور SIR کے خلاف اس کی مہم صرف دہلی تک محدود نہیں رہے گی۔ کانگریس کے مطابق ۱۰؍ اکتوبر سے ۲۰؍ اکتوبر تک بلاک سطح پر میٹنگیں اور ۲۵؍ اکتوبر سے ۲۵؍ نومبر تک ریاستی اور ضلعی سطح پر ’ووٹ بچاؤ، ملک بچاؤ‘ مہم چلانے کا منصوبہ ہے۔