• Thu, 05 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’ہمارے ہاتھ باندھے گئے، ناروا سلوک کیا گیا اور کھلونے اور سامان بھی چھینا گیا‘‘

Updated: February 05, 2026, 10:57 AM IST | Rafah

مصری اسپتالوں میں علاج کے بعد صحت یاب فلسطینیوں کی تیسری کھیپ پر مشتمل پانچ بسیں بدھ کے روز رفح راہداری کے ذریعے غزہ پہنچ گئیں ۔

Women who returned to Gaza after recovering became emotional as they met their children. Photo: INN
صحت یاب ہوکر غزہ لوٹنے والی خواتین اپنے بچوں  سے مل کر جذباتی ہوگئیں  ۔ تصویر: آئی این این

مصری اسپتالوں میں علاج کے بعد صحت یاب ہونے والے فلسطینیوں کی تیسری کھیپ پر مشتمل پانچ بسیں بدھ کے روز رفح راہداری کے ذریعے غزہ پہنچ گئیں۔ گزشتہ سال طے پانے والے جنگ بندی معاہدے کے تحت اسرائیل کی جانب سے رفح راہداری دوبارہ کھولے جانے کے بعد واپسی کی اجازت پانے والی ان چند فلسطینی خواتین نے واپسی کے اس سفر کے دوران اسرائیلی افواج کے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا الزام عائد کیا۔ العربیہ کی رپورٹ کے مطابق ان خواتین کے مطابق اسرائیلی فوج نے ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھیں، ہاتھ پیٹھ پیچھے باندھ دیے اور دوران سفر ان سے کڑی تفتیش کی۔ ایک خاتون نے بتایا کہ پیرکو مصر سے سرحدی راہداری کے ذریعے واپسی کے دوران جب وہ اسرائیل اور اسکے اتحادی فلسطینی مسلح گروپ (ابو شباب گروپ) کے زیر کنٹرول علاقے ’یلو لائن‘ سے گزر رہی تھیں تو وہاں انہیں طویل دورانیے تک روکا گیا اور ان سے کھلونوں سمیت دیگر تحائف بھی چھین لیے گئے۔ 
خان یونس کے جنوبی علاقے میں خیمے میں مقیم۵۶؍ سالہ ہدیٰ ابو عابد نے رائٹرز کو ٹیلی فون پر بتایا کہ یہ رات دہشت، ذلت اور جبر سے بھری ہوئی تھی۔ واپس آنے والوں کو صرف ایک بیگ لانے کی اجازت تھی اور شروع میں ہی انہیں راہداری پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا کیونکہ یورپی سرحدی نگرانوں نے ان کے ساتھ موجود وہ کھلونے قبضے میں لے لیے جو وہ تحفے کے طور پر لا رہی تھیں۔ ایک اور۴۱؍ سالہ خاتون صباح الرقب نے بتایا کہ ان کی بس جس کے ساتھ دو فور بائی فور گاڑیاں تھیں ایک ایسی چوکی پر روکی گئی جہاں اسرائیل نواز مسلح فلسطینی موجود تھے جنہوں نے اپنا تعارف ابو شباب گروپ کے طور پر کرایا۔ صباح اور ہدیٰ نے بتایا کہ لاؤڈ اسپیکر پر نام پکارے گئے اور ابو شباب گروپ کے دو مرد اور ایک عورت ہر خاتون کو ایک سکیورٹی پوائنٹ پر لے گئے جہاں اسرائیلی فورسز ان کا انتظار کر رہی تھیں۔ وہاں ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ دی گئیں اور ہاتھ باندھ دیے گئے۔ 
ان خواتین نے مزید بتایا کہ ان سے حماس کے ساتھ تعلق ۷؍ اکتوبر(۲۰۲۳ء) کے حملے اور مسلح کارروائیوں سے متعلق دیگر سوالات پوچھے گئے۔ صباح کے مطابق حماس مخالف فلسطینی مسلح افراد نے یہ پیشکش بھی کی کہ وہ چاہیں تو اسرائیل کے زیر کنٹرول علاقے میں رہ سکتی ہیں۔ صباح جو دو سال قبل علاج کیلئے غزہ سے نکلی تھیں، اپنے ۷؍ بچوں کے پاس خیمے میں واپس پہنچ چکی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اسرائیلی افسر نے مجھ سے پوچھا کہ تم تباہ شدہ غزہ کیوں واپس جانا چاہتی ہو؟ جس پر میں نے جواب دیا کہ میں اپنے بچوں اور خاندان کے پاس جانا چاہتی ہوں۔ ہدیٰ نے تصدیق کی کہ یہ تفتیش دو گھنٹے سے زیادہ جاری رہی۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے ان الزامات کی سختی سے تردید کی ہے کہ ان کے دستوں نے غزہ واپسی کے دوران فلسطینیوں کے ساتھ بدسلوکی یا غیر مناسب رویہ اختیار کیا۔ اسرائیلی سیکوریٹی ادارے کا کہنا ہے کہ ان کے علم میں ایسا کوئی واقعہ نہیں آیا جس میں کسی کی املاک ضبط کی گئی ہوں یا کسی کو گرفتار کیا گیا ہو۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ’’ریجاویم‘‘ نامی مرکز میں شناخت اور تلاشی کا ایک عمل ضرور ہوتا ہے جو اسرائیلی فوج کے زیر کنٹرول ہے اور یہ عمل اسی طریقہ کار کا حصہ ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK