پاکستان کا رن ریٹ خراب ہوگا ، ایک میچ ہارنے پروہ گروپ اسٹیج میں ہی باہر ہوسکتا ہے، بنگلہ دیش کی حمایت پر آئی سی سی پاکستان سپر لیگ کا این او سی بھی منسوخ کرسکتا ہے۔
EPAPER
Updated: February 05, 2026, 12:01 PM IST | New Delhi
پاکستان کا رن ریٹ خراب ہوگا ، ایک میچ ہارنے پروہ گروپ اسٹیج میں ہی باہر ہوسکتا ہے، بنگلہ دیش کی حمایت پر آئی سی سی پاکستان سپر لیگ کا این او سی بھی منسوخ کرسکتا ہے۔
پاکستان نے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں بھارت کے خلاف کھیلنے سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستانی حکومت نے اتوار کو کہا کہ اس کی ٹیم ٹورنامنٹ کھیلے گی لیکن ہندوستان کے خلاف میچ نہیں کھیلے گی۔ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے پی سی بی سے کہا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ اس دوران شائقین میں تجسس ہےکہ ہندوستان کے خلاف میچ کے بائیکاٹ کا پاکستان پر کیا اثر پڑے گا؟ان اثرات کا ایک تجزیہ ذیل میں پیش کیاجارہا ہے:
۱- گروپ مرحلے میں ہی باہر ہونے کاخطرہ
آئی سی سی کے کھیل کی شرائط کے مطابق میچ کا بائیکاٹ کرنے سے پاکستان کا ہی رن ریٹ خراب ہوگا۔ شق ۷.۱۰.۱۶؍میں کہا گیا ہے کہ میچ نہ ہونے کی صورت میں پاکستان کے ۲۰؍ اوورز میں صفر رن ہوگا جبکہ ہندوستان کا ایک اوور بھی نہیں ہوگا۔ اس سے پاکستان کا رن ریٹ منفی زون میں جا سکتا ہے چاہے وہ بقیہ میچ جیت جائے۔ گروپ اے میں ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ نمیبیا، نیدرلینڈز اور امریکہ شامل ہیں۔ اگر پاکستان تین میں سے ایک میچ بھی ہارتا ہے تو ٹیم گروپ مرحلے سے باہر ہو جائے گی۔ امریکہ نے گزشتہ ورلڈ کپ میں پاکستان کو شکست دے کر گروپ مرحلے سے باہر کر دیا تھا۔ نیدرلینڈز بھی آئی سی سی ٹورنامنٹس میں بڑے الٹ پھیر کا باعث بنتا رہا ہے۔
۲- آئی سی سی پاکستان پر ورلڈ کپ سے پابندی لگا سکتا ہے
آئی سی سی نے پاکستان سے کہا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظر ثانی کرے۔ عالمی ادارہ اب پی سی بی سے پوچھے گا کہ اس نے بائیکاٹ کیوں کیا؟ اگر پاکستان نے تسلی بخش جواب نہیں دیا تو آئی سی سی اس پر اسی ورلڈ کپ میں پابندی بھی لگا سکتا ہے۔ اس سےپہلے بھی پانچ ٹیمیں ورلڈ کپ کا بائیکاٹ کر چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: کولمبو کا موسم پاکستان کا ویلن بننے کو تیار: ورلڈ کپ سے اخراج کا خطرہ منڈلانے لگا
۳- پی ایس ایل کو این او سی نہیں ملے گا
پاکستان اس معاملے میں سیکوریٹی خدشات کا حوالہ نہیں دے سکتا، کیونکہ وہ اپنے تمام میچ ہندوستان کے بجائے سری لنکا میں کھیلے گا۔ یہاں تک کہ اگر پی سی بی بنگلہ دیش کی حمایت کو ایک وجہ بتاتا ہے تو بھی آئی سی سی کارروائی کر سکتا ہے کیونکہ آئی سی سی نے پہلے ہی پی سی بی کو متنبہ کرچکا ہے اگر اس نے بنگلہ دیش کی حمایت کی تو پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کو کوئی این او سی نہیں ملے گا۔
۴- ناک آؤٹ مرحلے میں پاکستان کیا کرے گا؟
پاکستان گروپ مرحلے میں ہندوستان کے خلاف کھیلنے سے انکار کرچکا ہے تاہم بورڈ نے یہ واضح نہیں کیا کہ آیا ناک آؤٹ میں بھی ہندوستان سے اس کامقابلہ رہا تو ٹیم کھیلے گی نہیں۔ آئی سی سی ذرائع نے’ دینک بھاسکر‘ کو بتایا کہ پاکستان سے اس کی وضاحت طلب کی جائے گی۔ اگر وجہ تسلی بخش نہ ہوئی تو پی سی بی کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ پاکستان ٹیم کے کپتان سلمان علی آغا نے پی سی بی کے فیصلے کے بارے میں کہا کہ ہم صرف ورلڈ کپ کھیلنا چاہتے ہیں، اگر حکومت کسی ٹیم کے خلاف کھیلنے سے انکار کرتی ہے تو ہم اس کی تعمیل کریں گے۔ ہم ٹورنامنٹ میں اپنا۱۰۰؍ فیصد دینے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
۵-آئی سی سی سے میزبانی کے حقوق حاصل کرنے میں دشواری
پاکستان نے ۲۰۲۵ء چمپئن ٹرافی کی میزبانی کی تھی۔ یہ۲۹؍سال بعد کسی آئی سی سی ٹورنامنٹ کی میزبانی کرنے کا ملک کو پہلا موقع ملاتھا۔ آئی سی سی اب یہ قدم اٹھا سکتا ہےکہ پاکستان کو مستقبل میں میزبانی کے مواقع نہ دئیے جائیں کیونکہ ہند-پاک میچ سے آئی سی سی کی آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے۔ میچ نہ ہونے سے آئی سی سی کی آمدنی کم ہو سکتی ہے۔ اس نقصان کی تلافی کے لیے آئی سی سی پاکستان کے سالانہ ریوینیو میں حصہ بھی کم کر سکتا ہے۔