اکولہ میں بھیم شکتی اور اشوک پرتشٹھان نے مہاجن سے معافی مانگنے مطالبہ کیا، بصورت دیگر شہرمیں احتجاج شروع کرنے کا انتباہ دیا
EPAPER
Updated: February 01, 2026, 10:19 AM IST | Akola
اکولہ میں بھیم شکتی اور اشوک پرتشٹھان نے مہاجن سے معافی مانگنے مطالبہ کیا، بصورت دیگر شہرمیں احتجاج شروع کرنے کا انتباہ دیا
ناسک میں یوم جمہوریہ کی تقریب میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا تذکرہ نہ کرنے پر ریاستی وزیر گریش مہاجن کے خلاف ناراضگی ہے ۔ اس واقعہ پر ناراض امبیڈکر وادیوں کے رد عمل سامنے آرہے ہیں۔ اکولہ میں بھیم شکتی تنظیم اور اشوک پرتشٹھان نے جارحانہ موقف اختیار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ یوم جمہوریہ کے موقع پر ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا ذکر ضروری قرار دیا جائے اور یہ انتباہ بھی دیا ہے کہ اگر مہاجن معافی نہیں مانگتے ہیں تو ان کے خلاف احتجاج شروع کیا جائے گا۔ اس سلسلے میں اکولہ ضلع کلکٹر کے توسط سے وزیر اعلیٰ کو ایک مکتوب بھی دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ ناسک میں یوم جمہوریہ کے موقع پر منعقد ایک سرکاری تقریب میں وزیر گریش مہاجن کی تقریر نے بڑا تنازع کھڑا کر دیا۔ اس تقریب انہوں نے ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا نام نہیں لیا جس سے وہاں موجود حاضرین نے اعتراض بھی کیا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ماحول کچھ دیر کے لیے اس وقت کشیدہ ہو گیا جب پنڈال میں موجود ایک خاتون فاریسٹ آفیسر نے کھلے عام اعتراض کرتے ہوئے سوال کیا کہ ’’آپ معمار آئین کے نام کیسے بھول سکتے ہیں؟‘‘
اس دوران بھیم شکتی سماجی تنظیم، اکولہ اور اشوک پرتشٹھان نے الزام لگایا ہے کہ یوم جمہوریہ کے سرکاری پروگرام میں آئین کے معمار، بھارت رتن بابا صاحب امبیڈکر کا نام جان بوجھ کر نہیں لیا گیا۔ کلکٹر کو مطالباتی مکتوب پیش کرتے بھیم شکتی تنظیم نے واضح انتباہ دیا ہے کہ اگر مطالبات کو فوری طور پر تسلیم نہ کیا گیا تو ضلع بھر میں بڑے پیمانے پر احتجاج شروع کیا جائے گا۔ مکتوب میں یہ بھی کہا گیا کہ احتجاج سے پیدا ہونے والی صورتحال کی ذمہ دار حکومت ہوگی۔ بھیم شکتی تنظیم نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم کسی بھی حال میں آئین اور معمارِ آئین ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کی توہین برداشت نہیں کریں گے۔
مطالبہ کیا گیا کہ گریش مہاجن محب آئین اور امبیڈکروادیوں سے کھلے عام معافی مانگیں۔ تقریب میں اس بات پر اعتراض کرنے والی متعلقہ محکمہ جنگلات کی افسر کے خلاف کی گئی کارروائی فوری واپس لی جائے۔ یوم جمہوریہ پر تمام سرکاری دفاتر میں پرچم کشائی کے بعد بھارت رتن ڈاکٹر باباصاحب امبیڈکر کے نام کا تذکرہ لازماً کیا جائے اور تصویر کی پوجا کی جائے۔ تنظیم نے سنگین الزام لگاتے ہوئے کہا کہ فرقہ وارانہ ذہنیت رکھنے والے وزیر گریش مہاجن نے اپنی تقریر میں ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا ذکر نہ کرکے معمار آئین کی توہین کی ہے۔ مطالباتی مکتوب میں الزام لگایا گیا ہے کہ پھلے، شاہو اور امبیڈکر کے ترقی پسند افکار پر کھڑے مہاراشٹر میں ایسا واقعہ، صرف غفلت کا نتیجہ نہیں ہے، بلکہ فرقہ وارانہ ذہنیت پر مبنی جان بوجھ کیا گیا اقدام ہے۔