• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

چلتی بس میں ۱۶؍ سالہ طالبہ کے ساتھ زیادتی کے خلاف برہمی دہلی میں طالبات کا احتجاج، کینڈل مارچ نکالا

Updated: September 03, 2026, 10:43 AM IST | Agency | New Delhi

 مودی سرکار چوکنا، دہلی پولیس کو الرٹ کیاگیا، تفتیش میں تیزی کا حکم۔

Female students held a late-night candlelight march to assert their right to go out at night. Picture: INN
رات میں باہر نکلنے کے حق پر زور دینے کیلئے طالبات نے دیر رات کینڈل مارچ نکالا۔ تصویر: آئی این این

دہلی یونیورسٹی کی کئی طالبات نے گریٹر نوئیڈا میں۱۱؍ ویں جماعت کی طالبہ ۱۶؍سالہ لڑکی کی اجتماعی آبروریزی  معاملہ پر احتجاجی مارچ نکالا ۔ یہ مارچ نصف شب کو نکالا گیا جس میں عوامی مقامات کو خواتین کیلئے  زیادہ محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا گیا۔ دوسری طرف  جنتر منتر پر جین زی  کے احتجاج  کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہوجانےوالی مودی سرکار موجودہ واردات کی وجہ سے نوجوانوں میں پھیل رہے غصہ کے تعلق سے الرٹ ہوگئی ہے۔ دہلی پولیس کو جانچ میں تیزی کا حکم دیاگیا ہے جس نے بدھ کو بتایا کہ آبروریزی کے دوران طالبہ نے بھاگ جانے کی کوشش کی تھی مگر درندوں نے اسے ایسا نہیں کرنے دیا۔  پولیس نے فورنسک محکمہ کو خط لکھ کر بس سے لئے گئے نمونوں کی  رپورٹ جلد دینےکی اپیل کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: ایس آئی آر کیخلاف بنگلور میں پرکاش راج بھی سڑک پر اُترے، حراست میں لیا گیا

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں۱۶؍ سالہ لڑکی کے ساتھ اجتماعی آبروریزی کا گھناؤنا عمل اس بس میں انجام دیا گیا تھا، جس میں وہ سوار تھی۔  یہ بس ۴۵؍ منٹ تک چلتی ہے اور طالبہ کے ساتھ زیادتی ہوتی رہی۔ایئر کنڈیشنڈ بس کی کھڑکیوں  کے شیشوں موٹا پردہ لگا ہواتھا جس کی وجہ سے باہر سے کچھ نظر نہیں آرہاتھا۔  اس سانحہ کے بعد ایک بار پھر دہلی میں خواتین اور لڑکیوں کی سیکوریٹی پر سوالیہ نشان لگ گیا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: اندور میں ’’چھاتروں کی گونج‘‘ میں حکومت کی رخنہ اندازی، ایک ہفتے کیلئے ملتوی

منگل کی دیر رات طلبہ تنظیم ’اسٹوڈنٹس فیڈریشن آف انڈیا‘ (ایس ایف آئی) کی جانب سے ’ری کلیم دی نائٹ‘ مہم کے تحت منعقد  کئے  گئے اس مارچ کے دوران دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ڈی یو ایس یو) انتخابات کے پیش نظر تنظیم کے ’طالبات منشور‘ کو بھی جاری کیا گیا۔ منشور میں خواتین کی حفاظت، نمائندگی اور صنفی انصاف کو اپنے مطالبات میں مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ 

مظاہرین نے مارچ کے دوران کہا کہ خواتین کی حفاظت ان کی آزادی کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔انہوں  نے ان پابندیوں کی مخالفت کی جن کے تحت طالبات کو اندھیرا ہونے کے بعد گھروں کے اندر رہنے کو کہا جاتا ہے۔ طالبات نے کہا کہ یونیورسٹیوں اور ریاست کو یہ یقینی بنانا چاہیے کہ خواتین  بغیر کسی خوف کے تعلیم حاصل کر سکیں، سفر کر سکیں اور عوامی مقامات سے گزر سکیں۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK