• Thu, 03 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بار کونسل کے صدر منن مشرا کو سپریم کورٹ سے پھر جھٹکا

Updated: September 03, 2026, 10:52 AM IST | Agency | New Delhi

۲؍ سال سے زائد عرصہ تک بی سی آئی کا صدر رہنے پر حیرت کا اظہار کیا، فوراًالیکشن کروانے کی ہدایت دی، کہا : آپ بار کونسل آف انڈیا کے جمہوری طور پر منتخب صدرنہیں ہیں، صرف کارگزار ہیں۔

Manan Mishra has landed in serious trouble after speaking out against NALSAR students. Picture: INN
منن مشرا نالسار کے طلبہ کے خلاف بول کر بری طرح پھنس گئے ہیں۔ تصویر: آئی این این

سپریم کورٹ نے بار کونسل آف انڈیا کے سربراہ منن کمار مشرا کے اختیارات کی حد واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ مستقل اور منتخب صدر کی حیثیت نہیں رکھتے، بلکہ نئی بار کونسل کے انتخاب تک صرف پروٹیم چیئرمین کے طور پر فرائض انجام دے سکتے ہیں۔
چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، جسٹس جوائے مالیا باغچی اور جسٹس وی موہن پر مشتمل بنچ نے واضح کیا کہ عبوری سربراہ کا دائرۂ اختیار روزمرہ کے انتظامی امور تک محدود رہنا چاہیے۔ ایسے منصب پر فائز شخص سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ادارے کا معمول کا نظام چلائے، نہ کہ ایسے بڑے پالیسی فیصلے کرے جن کے اثرات ادارے کی سمت متعین کریں۔ عدالت نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ وہ ۲؍ سال سے زائد عرصہ بعد بھی اس عہدہ پر فائز ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: مہاراشٹر: ۲۰۰؍ سال بعد خاندان میں بیٹی کی پیدائش، جشن کا اہتمام

کورٹ نے جلد از جلد الیکشن کروانے کی ہدایت دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ نئی منتخب بار کونسل آف انڈیا کے قیام تک بی سی آئی  کے اہم پالیسی معاملات میں اٹارنی جنرل اور سالیسٹر جنرل کو شامل کیا جائے۔ عدالت نے یہ فرق بھی واضح کر دیا کہ روزمرہ کے انتظامی معاملات کے لیے ان کی موجودگی لازم نہیں، تاہم ایسے فیصلے جو پالیسی کی نوعیت رکھتے ہوں، ان میں ان کی شرکت اور رائے کو ملحوظ رکھنا ضروری ہوگا۔جسٹس جوائے مالیا باغچی نے کہا کہ عدالت کسی محاذ آرائی کو جنم دینا نہیں چاہتی، لیکن اداروں کی شفافیت، وقار اور اعتماد کو برقرار رکھنا بھی ناگزیر ہے۔ بی سی آئی  نے عدالت کی تجویز سے اتفاق کرتے ہوئے یقین دلایا کہ اہم پالیسی فیصلوں میں آئندہ اٹارنی جنرل اور سالیسٹر جنرل کو شامل کیا جائے گا. 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK