• Sat, 03 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ووٹ چوری پربرہم نواجون استعفیٰ سے کم کیلئے تیار نہیں

Updated: October 03, 2026, 12:46 PM IST | Nadeem Asran/Saadat Khan | Mumbai

ملک میں جمہوریت کی حفاظت کیلئے پُرعزم، کئی ایسے بھی تھے جن کے نام ایس آئی آر میں حذف ہوگئے ہیں، دیگر مسائل پر بھی گفتگو کی۔

Iftikhar Siddiqui during the protest. Photo: INN
افتخار صدیقی احتجاج کے دوران۔ تصویر: آئی این این

شیواجی پارک میں چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کیخلاف ہونے والے مظاہرے میں شریک چند نوجوانوں نے انقلاب سے بات چیت کی ، وہ استعفیٰ سے کم کیلئے تیارنہیں۔عارف خورشید ایک پرائیویٹ فرم کے ڈائٹریکٹر و پارٹنر ہیں اور مدنپورہ الفتح ٹاور میں مقیم ہیں ، نے اس احتجاج میں شامل ہونے پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ ملک میں آئین کو بالائے طاق رکھ کر بہت سے ایسے فیصلہ کئے جارہے ہیں جس سے ہندوستانی عوام کو کئی محاذ پر بے شمار مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس میں تعلیم، روزگار اور مہنگائی قابل ذکر ہیں ۔اس بار تو حکومت کے اشارہ پر الیکشن کمیشن نے توحد ہی کر دی ۔ ایس آئی آر کے ذریعہ کروڑوں ہندوستانیوں کے ناموں کو ووٹر لسٹ سے خارج کرکے انہیں اس ملک کا شہری ہونے اور رائے دہی کے حق سے ہی محروم کر دیا ۔ یہ لڑائی ووٹ چوری یا ووٹر لسٹ سے ناموں کے حذف کئے جانے کی نہیں بلکہ یہ لڑائی جمہوریت اور آئینی حقوق کی حفاظت کی لڑائی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس لڑائی میں صرف مسلمان، ہندو ، سکھ یا عیسائی نہیں بلکہ ہندوستان کے عوام شامل ہیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے:سی جے پی کے جیل بھروآندو لن میں نوجوانوں کا جم غفیر

افتخار صدیقی کا تعلق مالیگاؤں سے ہے ۔ ٹراویل ایجنسی چلانے والے افتخار خصوصی طور پر اس احتجاج میں شرکت کے لئے ایک دن قبل ممبئی آئے تھے ۔انہوںنےکہا کہ ’’ آج کرپٹ پالیسیوں ، دھرم کی سیاست اور ہندوستانی عوام کو نفرت کے آگ میں جھونک کرموجودہ حکومت نے اس ملک کو نہ صرف معاشی طور پر انتہائی کمزور کر دیا ہے بلکہ دیگر اقلیتی طبقات سے وابستہ کروڑوں شہریوں کے نام ووٹر لسٹ سے حذف کرکے اس ملک کا شہری ہونے پر ہی سوال اٹھا دیا ہے ۔‘‘

سکینہ نامی ایک برقع پوش لڑکی نے بتایاکہ’’میرا نام بھی ووٹر لسٹ سے غائب ہواہے ، اس لئے میں ووٹ چوری کرنے والوںکے خلاف اپنی ناراضگی درج کرانے آئی ہوں۔ ‘‘

یہ بھی پڑھئے: بھیونڈی: چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کیلئے دستخطی مہم

ایک اور برقع پوش طالبہ نے کہاکہ ’’میںڈگری کالج کی طالبہ ہوں۔۳؍سال سے نیٹ کا امتحان دے رہی ہوںلیکن تینوں سال پیپر لیک ہونے کی وجہ سےپہنچنے والے ذہنی کوفت سے مایوس ہوگئی ہوں۔ یہاں آنے کا مقصد طلبہ کے ساتھ ہونے والی ناانصافی کودرج کراناہے۔ الیکشن کمیشن کے چیف گیانیش کمار کے خلاف سی جے پی نے جو محاذ کھولا ہے، میں اس کی حمایت کرتی ہوں۔ انہیں فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہئے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK