رکن پارلیمنٹ نے کہاکہ وندے ماترم گانے کو ملک سے وفاداری کا امتحان نہ بنایا جائے۔
EPAPER
Updated: February 16, 2026, 10:55 AM IST | Hyderabad
رکن پارلیمنٹ نے کہاکہ وندے ماترم گانے کو ملک سے وفاداری کا امتحان نہ بنایا جائے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا کہ وندے ماترم گانے اور اس کا احترام کرنے کو ملک سے وفاداری کا امتحان نہیں سمجھا جانا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بی جے پی اورآر ایس ایس ہندوستان کو ایک مذہبی ملک بنانا چاہتے ہیں۔
جمعہ کو نیوز ایجنسی اے این آئی کے ساتھ ایک انٹرویو میں اویسی نے کہا کہ آئین ’ہم لوگ‘ سے شروع ہوتا ہے نہ کہ ’بھارت ماتا کی جئے‘ جیسے نعروں سے۔ انہوں نے مزید کہا کہ آرٹیکل۲۵؍ مذہبی آزادی کے بنیادی حق کی ضمانت دیتا ہے۔ درحقیقت، مرکزی حکومت نے۱۲؍فروری کو ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس میں قومی گیت وندے ماترم کا اسی طرح احترام کرنا لازمی قرار دیا گیا تھا جس طرح قومی ترانہ جن گنا من کا ہے۔ حکم نامے کے مطابق قومی گیت کے تمام چھ بند، جو ۳؍ منٹ اور۱۰؍سیکنڈ کے ہیں، گائے جائیں گے۔ ویر ساورکر کو بھارت رتن دینے کے مطالبے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جسٹس کپور کمیشن نے ساورکر کو مہاتما گاندھی کے قتل کی سازش میں ملوث قراردیاتھا۔
انہوں نے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کے خلاف تحریک عدم اعتماد اور قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے خلاف تحریک میں کسی بھی کردار سے انکار کیا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میونسپل انتخابات کے دوران بی جے پی نے بار بار ان کا نام لیا اور طنزیہ انداز میں کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ وہ مجھے پسند کرتے ہیں۔
ٹیپو سلطان کے معاملے پر انہوں نے کہا کہ ٹیپوانگریزوں سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے تھے۔ ٹیپو نے ویرساورکر کی طرح انگریزوں کو خطوط نہیں لکھے۔