آئی ٹی شعبہ کی ۶۵۰؍کمپنیوں میں کی گئی تحقیق میں انکشاف، ملازمت کیلئے اے آئی یا ڈیٹا اِسکل میں مہارت کی مانگ ۶۳؍ فیصد بڑھ گئی۔
EPAPER
Updated: February 16, 2026, 12:40 PM IST | New Delhi
آئی ٹی شعبہ کی ۶۵۰؍کمپنیوں میں کی گئی تحقیق میں انکشاف، ملازمت کیلئے اے آئی یا ڈیٹا اِسکل میں مہارت کی مانگ ۶۳؍ فیصد بڑھ گئی۔
مصنوعی ذہانت تیزی سے اپنی جگہ بنارہی ہے ا ور اب اندیشوں کے عین مطابق یہ ملازمتوں پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔ ایک طرف جہاں ایک تازہ رپورٹ میں یہ انکشاف ہوا ہے کہ اے آئی کی وجہ سے کمپنیوں میں بھرتیوں میں بہت معمولی ہی سہی مگر کمی آئی ہے وہیں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ نئی ملازمتوں کے حصول کیلئے اے آئی اور ڈیٹا اِسکل کی مانگ میں ۶۳؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ واضح رہے کہ دی ہند وسے بات کرتے ہوئے منسٹری آف الیکٹرانکس اینڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے سیکریٹری ایس کرشنن نے اس ضمن میں پیدا ہونےوالے اندیشوں کو ررفع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اے آئی کی وجہ سے جنتی ملازمتیں کم ہوں گی، اس سے زیادہ روزگار پیدا بھی ہوں گے۔ ‘‘
یہ بھی پڑھئے: ٹیکنالوجی کے فروغ سے ہند۔ جاپان تعلقات کو نئی رفتارملی
بہرحال انڈین کونسل فار ریسرچ آن انٹرنیشنل اکنامک ریلیشنز (آئی سی آر آئی ای آر) کی ایک تحقیق میں جو اوپن اے آئی کے تعاون سے کی گئی ہے، کے مطابق اے آئی کا استعمال مختلف شعبوں میں بھرتیوں کی ترجیحات کو ازسرِنو ترتیب دے رہا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) کے استعمال نے کمپنیوں کو بھرتیوں میں اعتدال لانے پر مجبور کیا ہے۔ بھرتیوں میں یہ کمی خصوصاً ابتدائی سطح پر ہوئی ہے۔ تحقیق میں پایا گیا کہ۶۳؍ فیصد کمپنیوں نے ایسے امیدواروں کی مانگ میں اضافہ رپورٹ کیا جو اپنے شعبہ کی مہارت کے ساتھ ساتھ اے آئی یا ڈیٹا سے متعلق صلاحیتوں کے حامل بھی ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اے آئی کے بنیادی کاموں میں شامل ہونے سے ہائبرڈ اسکل کی اہمیت بڑھ گئی ہے۔ ’’ اے آئی اینڈ جابز: دِس ٹائم اِز نو ڈِفرنٹ‘ (مصنوعی ذہانت اور ملازمتیں : یہ وقت بھی مختلف نہیں ہے)کے عنوان سے شائع اس تحقیق کو ہندوستان میں کمپنیوں میں اے آئی کے استعمال پر کی جانے والی سب سے جامع تحقیقات میں شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ اسٹڈی نومبر ۲۰۲۵ء سے جنوری۲۰۲۶ء کے درمیان ملک کے ۱۰؍ شہروں کی۶۵۰؍آئی ٹی کمپنیوں میں کی گئی۔ تحقیق کے مطابق’’کمپنیاں بھرتیوں میں معمولی کمی رپورٹ کر رہی ہیں، جو زیادہ تر ابتدائی سطح تک محدود ہے جبکہ درمیانی اور سینئر سطح پر تقرریوں میں استحکام برقرار ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہ رجحان کووِڈ کے بعد آئی ٹی سیکٹر کے وسیع رجحانات کے مطابق ہے اور اسے صرف اے آئی کے استعمال کی وجہ سے قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ‘‘ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جن پیشوں کو عام طور پر اے آئی سے متاثر ہونے والے سمجھا جاتا تھا، جیسے سافٹ ویئر ڈیولپرس اور ڈیٹا بیس ایڈمنسٹریٹرس انہی میں سب سے زیادہ مانگ میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ جنریٹیو اے آئی تکنیکی اور تجزیاتی کام کا متبادل نہیں بلکہ اس کی پیداواری صلاحیت بڑھانے والا ذریعہ بن رہی ہے۔ اے آئی سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے۱۹۰۰؍ سے زائد بزنس ڈویژنز میں پیداواری فوائد کی تعداد میں کمی کے مقابلے میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔