ایس آئی آر کو لے کر سیاسی تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر دراصل پچھلے دروازے سے این آرسی نافذ کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔
EPAPER
Updated: September 28, 2026, 12:22 PM IST | Agency | New Delhi
ایس آئی آر کو لے کر سیاسی تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر دراصل پچھلے دروازے سے این آرسی نافذ کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔
ایس آئی آر کو لے کر سیاسی تنازعہ مزید شدت اختیار کر گیا ہے۔ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے الزام عائد کیا کہ ایس آئی آر دراصل پچھلے دروازے سے این آرسی نافذ کرنے کی جانب ایک قدم ہے۔ اویسی نے الیکشن کمیشن کی کارروائی، اس کے فیصلوں میں اختلافات اور ووٹر لسٹوں سے نام حذف ہونے کے معاملے پر کئی سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی پارٹی شروع ہی سے متعلقہ حکام کو متنبہ کرتی رہی ہے کہ یہ عمل مستقبل میں این آر سی کے نفاذ کی بنیاد بن سکتا ہے۔انہوں نے مرکزی وزیر داخلہ کے اس اقدام کا بھی حوالہ دیا جس کے تحت ان علاقوں میں آبادیاتی تبدیلیوں کی جانچ کے لیے ایک کمیشن تشکیل دیا گیا ہے جہاںاین آرسی کی حتمی فہرست شائع ہو چکی ہے۔ اویسی کے مطابق اس کمیشن کی سربراہی سپریم کورٹ کے ایک ریٹائرڈ جج کر رہے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:میں صرف مساوی حقوق کا مطالبہ کر رہی ہوں : فاطمہ ثنا شیخ
اویسی نے مزید کہا کہ وزیر داخلہ پہلے ہی این آر سی کی حتمی فہرست پر نظرثانی کیے جانے کی بات کہہ چکے ہیں۔ ان کے مطابق اس پس منظر میں خدشہ ہے کہ مستقبل میں لوگوں سے دوبارہ دستاویزات طلب کی جا سکتی ہیں اور انہیں اپنی شہریت ثابت کرنے کے لیے ایک نئے عمل سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔اپنے انتخابی حلقے میں ووٹر لسٹوں سے نام غائب ہونے کا ذکر کرتے ہوئے اویسی نے کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اے آئی ایم آئی ایم کے امدادی مرکز کے ذریعے متاثر افراد کو آن لائن ووٹر لسٹ میں اپنا نام شامل کرانے کے عمل میں مدد فراہم کی جا رہی ہے۔دوسری جانب انتخابی کمیشن نے ان الزامات کے درمیان واضح کیا ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق تمام فیصلے کمیشن کی متفقہ منظوری سے کیے گئے ہیں۔