ایم آئی ایم سربراہ نے تشویش ظاہر کی کہ ایس آئی آر کو ملک میں ’’حقوق سے محروم شہریوں ‘‘ کاایک طبقہ بنانے کیلئے استعمال کیا جارہاہے۔
اسد الدین اویسی تلنگانہ میں اپنے پارلیمانی حلقے میں ایس آئی آر کے تعلق سے عوام کو بیدار کرتے ہوئے۔تصویر:آئی این این
تلنگانہ میں ۲۵؍ جون سے شروع ہونےوالی ایس آئی آر کے تعلق سے کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسدالدین اویسی نے اپنے پارلیمانی حلقے میں گلی گلی میں جاکر شہریوں کو بیدار کرنے کی کوشش کرتے ہوئے متنبہ کیا ہے کہ ایس آئی آر کے ذریعہ ’’حقوق سے محروم شہریوں‘‘ کی ایک جماعت تیار کی جاری ہے۔
ایک طویل ایکس پوسٹ میں انہوں نے نشاندہی کی کہ’’مرکزی حکومت نے پہلے دستاویزات پر مبنی ایس آئی آر مہم چلائی، جس کے نتیجے میں۱۳؍ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں کی ووٹر فہرستوں سے تقریباً۶ء۵؍ کروڑ نام حذف کر دیئے گئے۔ اب انہی ناموں کا جائزہ لے کر غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت، گرفتاری اور ملک بدری کیلئے مستقل نظام قائم کرنے کے مقصد سے کمیٹی بنائی جارہی ہے۔‘‘ انہوں نے کہاکہ’’ایس آئی آر کو ایسے ہندوستانیوں کا ایک مستقل طبقہ بنانے کیلئے استعمال کیا جائے گا جو حقوق سے محروم ہوں۔ ووٹ کا حق ہی غریبوں کا طاقتور طبقے کے خلاف واحد ہتھیار ہے۔ اگر یہ حق ان سے چھین لیا گیا تو حکومت ان کے ساتھ جو چاہے گی کر سکے گی۔ ہم پہلے ہی ایسی اطلاعات دیکھ رہے ہیں کہ لوگوں کو سرکاری فلاحی اسکیموں کے فوائد سے محروم کیا جا رہا ہے۔‘‘واضح رہے کہ بہار اور بنگال میں اس کا آغاز ہوگیاہے۔