علاقےمیں سراسیمگی۔حادثاتی موت کاکیس درج۔تربوز اورکھانے پینے کی دیگرچیزوں کے نمونے فارینسک لیب میں بھیجے گئے۔ رپورٹ آنے پر موت کی اصل وجہ معلوم ہوسکے گی۔
عبداللہ ڈوکاڈیا، ی نسرین ڈوکاڈیا، عائشہ اور زینب جن کی پُراسرارطریقے سے موت ہوگئی ہے-تصویر:آئی این این
جنوبی ممبئی کے علاقے پائیدھونی میں ایک ہی خاندان کے ۴؍ افراد کی سنسنی خیز موت سے علاقے میں سراسیمگی پھیل گئی ہے ۔ غذائی سمّیت سے موت کا شبہ ظاہر کیا جارہا ہے ۔ تربوز اور کھانے پینے کے دیگر چیزوں کے نمونے جانچ کیلئے فارینسک لیب بھیج دیئے گئے۔ پولیس نےابتدائی تفتیش کی بنیاد پر حادثاتی موت کا کیس درج کرلیا ہے ۔
جے جے مارگ پولیس نے اس بارے میں تفصیل بتائی کہ سنیچر کی شب ساڑھے ۱۰؍ بجےایک خاندان کے ۹؍ افراد نے ایک ساتھ کھانا کھایا ا ور ۵؍افراد کھانا کھانے کے بعد اپنے گھروں کو لوٹ گئے جبکہ دیگر ۴؍افراد نے سنیچر اور اتوار کی درمیانی شب تقریباً ایک، ڈیڑھ بجے تربوز کھایا تھا جس کے ۲؍ گھنٹے کے بعد پیٹ میں درد ،قے اور دست کی شکایت ہونے پر فیملی ڈاکٹر سے رابطہ قائم کیا گیا ۔ تکلیف زیادہ بڑھنے پر انہیں جے جے اسپتال لے جایا گیا جہاں ان کی موت ہوگئی۔
اطلاع کے مطابق متوفیوں کی شناخت عبداللہ ڈوکاڈیا (۴۰)، ان کی بیوی نسرین ڈوکاڈیا (۳۵) اور ان کی بیٹیاں عائشہ (۱۶) اور زینب (۱۳) کے طور پر ہوئی ہے ۔ یہ خاندان پائیدھونی کے گھاٹی گلی میں واقع مغل بلڈنگ میں رہائش پذیر تھا۔ علاج کے دوران سب سے چھوٹی بیٹی زینب نے صبح سوا۱۰؍ بجے جبکہ عبداللہ ڈوکاڈیانے تقریباً ساڑھے ۱۰؍بجے آخری سانس لی ۔ بیوی اور بڑی بیٹی کا پہلے انتقال ہو چکا تھا ۔ عبداللہ ڈوکاڈیا موبائل فون کے سازوسامان کا کاروبار کرتے تھے ۔
والدین اور ان کی نوعمر بیٹیوں کی اچانک موت سے علاقہ میں سوگ کا ماحول ہے ۔ پڑوسیوں اور مقامی لوگ حیرت زدہ ہیں ۔ اس واقعہ سے علاقے میں سراسیمگی بھی پھیلی ہوئی ہے ۔ لوگ ان کی موت کی وجہ جاننا چاہتے ہیں ۔ فی الحال موت کی اصل وجہ کا پتہ نہیں چل سکا ہے ۔ حتمی بیان جاری کرنے سے پہلے حکام فارینسک رپورٹ کے منتظر ہیں۔
دریں اثناء پولیس سنیچر کو ہونے والی مذکورہ تقریب میں پیش کی جانے والی کھانے پینے کی تمام اشیاء کی جانچ کر رہی ہے ۔ جے جے مارگ پولیس نے حادثاتی موت کی رپورٹ درج کر کے مزید تحقیقات شروع کر دی ہے ۔ حکام نے کہا ہے کہ تمام ممکنہ وجوہات کا جائزہ لیا جا رہا ہے اور ابھی تک کسی حتمی نتیجے پر نہیں پہنچا جاسکا ہے ۔
جے جے اسپتال کے ڈین ڈاکٹر اجے بھنڈاروار نے انقلاب کو بتایا کہ ’’پوسٹ مارٹم کی رپورٹ تو آچکی ہے ، غذائی سمّیت سے موت ہونے کا امکان ہے لیکن جب تک ہسٹوپیتھولوجی رپورٹ نہیں آجاتی ،اس بارے میں حتمی نتیجہ ظاہر نہیں کیا جاسکتا ۔ فارینسک لیباریٹری کی رپورٹ آنے کے بعد ہی اصل وجہ سامنے آسکے گی ۔‘‘
فارینسک لیباریٹری کے ایچ او ڈی ڈاکٹر چکھلکر سے رابطہ کرنے پر انہوں نے شہر سے باہر ہونے کی وجہ سے اس بارے میں معلومات نہ ہونے کی اطلاع دی جبکہ ان کے معاون ڈاکٹر گجانن چوہان نے کہا کہ ابھی اس معاملہ کی رپورٹ مجھ تک نہیں پہنچی ہے ۔اتنا کہہ کر انہوں نے فون منقطع کر دیا۔ ساؤتھ زون( زون ایک ) کے ڈی سی پی پروین منڈے نے اس واقعہ کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ غذائی سمّیت سے ایک مسلم خاندان کے ۴؍افرا د کی موت ہونے کی اطلاع ہے۔ پولیس معاملہ کی مزید تفتیش کر رہی ہے ۔ فارینسک لیباریٹری کی رپورٹ کاانتظار ہے۔‘‘