Inquilab Logo Happiest Places to Work

پاکستان: اسحاق ڈار کا دعویٰ؛ آپریشن سیندور کے دوران امریکی مدد نہیں مانگی

Updated: August 24, 2025, 8:01 PM IST | Islamabad

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ آپریشن سیندور کے دوران پاکستان نے امریکی مدد کی سفارش نہیں کی تھی، ساتھ ہی انہوں نے ٹرمپ کے کردار کی بھی تردید کی۔

Pakistan`s Foreign Minister Ishaq Dar۔ Photo: INN
پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار۔ تصویر: آئی این این

پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ آپریشن سیندور کے دوران پاکستان نے امریکی مدد کی سفارش نہیں کی تھی، ساتھ ہی انہوں نے ٹرمپ کے کردار کی بھی تردید کی۔ وزیر خارجہ نے وضاحت کی ہے کہ آپریشن سیندور کے دوران اسلام آباد نے کبھی بھی امریکہ یا کسی تیسرے فریق سے ہندوستان کے ساتھ جنگ بندی کرانے کی درخواست نہیں کی۔ڈار کا بیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں انہوں نے دونوں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس پڑوسی ممالک کے درمیان جنگ بندی کرانے کا سحرا اپنے سر لیا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: صہیونی فوج اب غزہ میں باقی رہ گئی عمارتوں کو مسمار کرنا چاہتی ہے

پاکستانی میڈیا سے بات کرتے ہوئے،ڈار نے اعتراف کیا کہ ہندوستانی جوابی کارروائی کے دوران نقصانات کے بعد پاکستان نے خود ہی جنگ بندی کی درخواست کی تھی۔ انہوں نے کہا، ’’ہم نے امریکہ یا کسی اور ملک سے بات چیت کا اہتمام کرنے کو نہیں کہا۔ جنگ بندی کی درخواست پاکستان کی طرف سے آئی تھی۔‘‘ان کی باتیں ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس ہیں جس میں انہوں نے بار بار کہا تھا کہ واشنگٹن نے نئی دہلی اور اسلام آباد کے درمیان ’’صلح کرائی‘‘ تھی۔ناکامی کے باوجود، ڈار نے اسلام آباد کی مذاکرات کے لیے رضامندی ظاہر کی۔ انہوں نے کہا، ’’پاکستان کشمیر اور تمام مسائل سمیت ہندوستان کے ساتھ جامع بات چیت کے لیے تیار ہے۔‘‘ خبروں سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب نے مستقبل کی بات چیت میں مدد کی پیشکش کی ہے۔تاہم، ہندوستان طویل عرصے سے  اپنے موقف پر قائم ہے کہ ’’بات چیت اور دہشت گردی ایک ساتھ نہیں چل سکتی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ کی جانب سے سرجیو گور ہندوستان کے اگلے سفیر نامزد، مسک نے انہیں ’’سانپ‘‘ قرار دیا تھا

نئی دہلی کا اصرار ہے کہ جب تک پاکستان دہشت گردی کے ڈھانچے کو ختم نہیں کرتا اور سرحد پار حملے بند نہیں کرتا، تب تک بات چیت نہیں ہو سکتی۔ ڈار کے اعتراف سے تصدیق ہوتی ہے کہ ہندوستانی حملوں میں نور خان اور شورکوٹ ایئر بیس سمیت متعدد اہم مقامات کو نشانہ بنانے کے بعد پاکستان نے کشیدگی روکنے کی کوشش کی تھی۔ انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا کہ اسلام آباد نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے رابطہ کیا تھا، لیکن صرف اپنی جنگ بندی کی درخواست کرنے کے لیے، ثالثی کے لیے نہیں۔ٹرمپ کے دعوےہندوستان یا پاکستان کی طرف سے کوئی باضابطہ اعلان کرنے سے پہلے ہی، ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھتے ہوئے، اعلان کیا:’’امریکہ کی ثالثی میں طویل رات تک چلنے والی بات چیت کے بعد، میں یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں کہ ہندوستان اور پاکستان نے مکمل اور فوری جنگ بندی پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک کو مبارک ہو۔‘‘مئی کے بعد سے، ٹرمپ نے چالیس سے زیادہ بار دہرایا ہے کہ انہوں نے ذاتی طور پر ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ’’جوہری جنگ‘‘ کو روکا تھا۔ انہوں نے یورپی لیڈروں اور نیٹو کے اہلکاروں کے ساتھ ملاقاتوں میں مبینہ ثالثی کو جاری رکھا، یہ کہتے ہوئے کہ یہ ان کی دوراندیشی کا ثبوت ہے۔تاہم، نئی دہلی نے مستقل طور پر کسی بھی امریکی کردار سے انکار کیا ہے، اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ٹرمپ کے بیانیہ کو ’’ غیر منصفانہ ‘‘ قرار دیا ہے۔ جے شنکر نے زور دے کر کہا کہ جنگ بندی کا معاہدہ براہ راست دونوں فوجوں کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کے درمیان کیا گیا تھا۔
وزیراعظم نریندر مودی نے پارلیمنٹ کو بتایا کہ آپریشن سیندور صرف ہندوستان کی شرطوں پر، بیرونی مداخلت کے بغیر روک دیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ آپریشن سندوریہ ۲۲؍اپریل کو پہلگام میں دہشت گردی کے حملے کے بعد شروع ہوا، جس میں۲۶؍ شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ جواب میں، ہندوستان نےپاکستان کے زیر قبضہ کشمیر میں نو دہشت گرد کیمپوں کو نشانہ بنایا ۔جس کے بعد دونوں ملکوں کے مابین مسلح تصادم ہوا تھا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK