• Thu, 12 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکہ نے پاکستان کو استعمال کیا پھر ٹوائلٹ پیپر کی طرح پھینک دیا: خواجہ آصف

Updated: February 12, 2026, 11:37 AM IST | Islamabad

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے ایک بیان میں کہا کہ امریکہ نے پاکستان کو استعمال کیا پھر ٹوائلٹ پیپر کی طرح پھینک دیا، انہوںنے امریکہ کے ساتھ ماضی کی قربت کے حوالے سے انتہائی دو ٹوک اعتراف کرتے ہوئے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ اس نے پاکستان کو محض اپنے مفادات کا آلہ کار بنایا۔

Pakistan`s Defense Minister Khawaja Asif. Photo: INN
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف۔ تصویر: آئی این این

پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے امریکہ کے ساتھ ماضیکے تعلقات  کے حوالے سے انتہائی دو ٹوک اعتراف کرتے ہوئے واشنگٹن پر الزام لگایا کہ اس نے پاکستان کو محض اپنے مفادات کا آلہ کار بنایا اور مقصد حاصل ہونے کے بعد ’’ٹوائلٹ پیپر‘‘ کی طرح استعمال کرکے پھینک دیا۔ واضح رہے کہ قومی اسمبلی میں گفتگو کرتے ہوئے خواجہ آصف نے تسلیم کیا کہ پاکستان اکثر اپنی دہشت گردی کی تاریخ سے انکار کرتا ہے، جسے انہوں نے"ماضی میں آمر حکمرانوں کی غلطی قرار دیا۔ تاہم انہوں نے افغانستان میں دو جنگوں میں پاکستان کی شمولیت کو بھی ’’غلطی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ آج پاکستان میں دہشت گردی ماضی کی انہی غلطیوں کا نتیجہ ہے۔

یہ بھی پڑھئے: محمد صفا کے ایپسٹین فائلز پر بیان نے دنیا کے ’’دہرے معیار‘‘ پر نئی بحث چھیڑ دی

بعد ازاں پاک امریکہ اتحاد پرآصف نے۱۹۹۹ء کے بعد امریکہ کے ساتھ صف بندی خصوصاً افغانستان کے حوالے سے پاکستان کو پہنچنے والے دیرپا نقصانات کا ذکر کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ۱۱؍ ستمبر۲۰۰۱ء کے حملوں کے بعد امریکہ کے ساتھ دوبارہ صف بندی کی پاکستان کو بھاری قیمت چکانی پڑی۔بعد ازاں وزیر دفاع نے تبصرہ کیا کہ اسلام آباد نے۲۰۰۱ء کے بعد امریکی قیادت میں افغان جنگ میں طالبان کے خلاف محاذ بنا کر واشنگٹن کا ساتھ دیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ تو بالآخر علاقے سے نکل گیا مگر پاکستان کو طویل تشدد، انتہا پسندی اور معاشی دباؤ کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔جبکہ آصف نے اس سرکاری بیانیے کو چیلنج کیا کہ افغان جنگ میں پاکستان کی شمولیت مذہبی ذمہ داری کے تحت تھی۔ 
تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ پاکستانیوں کو جہاد کے نام پر بھیجا گیا، جسے انہوں نے گمراہ کن اور انتہائی نقصان دہ قرار دیا۔انہوں نے پارلیمنٹ میں کہا کہ ’’دو فوجی آمر (ضیاء الحق اور پرویز مشرف) نے افغانستان کی جنگ میں اسلام کے لیے نہیں بلکہ ایک سپر پاور کو خوش کرنے کے لیے شرکت کی۔ ہم اپنی تاریخ سے انکار کرتے ہیں اور اپنی غلطیاں تسلیم نہیں کرتے۔ دہشت گردی ماضی میں آمرین کی غلطیوں کا ردعمل ہے۔‘‘ آصف نے مزید کہاکہ ، ’’جو نقصان ہم نے اٹھااس کی بھرپائی کبھی نہیں ہوسکتی۔‘‘  اور پاکستان کی غلطیوں کونا قابلِ تلافی قرار دیا۔آصف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان جنگوں کو جائز قرار دینے کے لیے پاکستان کا نظامِ تعلیم بھی تبدیل کیا گیا اور نظریاتی تبدیلیاں آج تک برقرار ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK