• Wed, 11 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

محمد صفا کے ایپسٹین فائلز پر بیان نے دنیا کے ’’دہرے معیار‘‘ پر نئی بحث چھیڑ دی

Updated: February 10, 2026, 9:58 PM IST | New York

اقوام متحدہ میں پیٹریاٹک وژن کے نمائندے محمد صفا کے بیان پر عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا تو پوری دنیا میں اسلام کو اجتماعی طور پر نشانہ بنایا جاتا۔ اور اب یہ خاموشی؟ حیرت انگیز ہے!

Muhammad Safa, Executive Director and Representative of the Patriotic Vision Association (PVA) to the United Nations. Photo: X
اقوام متحدہ میں پیٹریاٹک وژن اسوسی ایشن (پی وی اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور نمائندے محمد صفا۔ تصویر: ایکس

اقوام متحدہ میں پیٹریاٹک وژن اسوسی ایشن (پی وی اے) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر اور نمائندے محمد صفا نے حالیہ دنوں ایک بیان میں عالمی رویے پر سوال اٹھایا ہے کہ اگر بدنام زمانہ امریکی سرمایہ کار جیفری ایپسٹین مسلمان ہوتا تو دنیا بھر میں اسلام کو اجتماعی طور پر موردِ الزام ٹھہرایا جاتا۔ ان کے مطابق، چونکہ ایپسٹین ایک صہیونی پس منظر سے وابستہ تھا، اس لیے عالمی سطح پر وہ ردعمل ظاہر نہیں کیا گیا، جیسا ہونا چاہیے تھا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایپسٹین کیس ایک بار پھر عالمی میڈیا اور عوامی سطح پر زیرِ بحث ہے۔ جیفری ایپسٹین پر کم عمر لڑکیوں کے جنسی استحصال، انسانی اسمگلنگ اور طاقتور شخصیات سے روابط کے سنگین الزامات عائد رہے، جن کی تحقیقات اور عدالتی کارروائیاں برسوں جاری رہیں۔ ۲۰۱۹ء میں نیویارک کی جیل میں اس کی موت کے بعد بھی یہ کیس شکوک، سوالات اور تنقید کا مرکز بنا ہوا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: با اثر لیڈران کو بچوں کیساتھ زیادتی پر جوابدہ نہ بنانا انصاف کیخلاف ہے

محمد صفا نے یہ بات سوشل میڈیا پر ایک تبصرے اور بیان کے دوران کہی، جہاں انہوں نے اس نکتے پر زور دیا کہ عالمی میڈیا اور سیاسی حلقے بعض اوقات جرائم کو فرد کے مذہب، شناخت یا پس منظر سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ ان کے بقول، اگر یہی جرم کسی مسلمان سے منسوب ہوتا تو نہ صرف اس شخص بلکہ پورے مذہب کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا، جبکہ ایپسٹین کے معاملے میں بحث زیادہ تر فرد تک محدود رہی۔ چند ہی گھنٹوں میں یہ بیان مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہوگیا اور عالمی صارفین نے اس پر اپنی آرا کا اظہار شروع کر دیا۔ کچھ صارفین نے محمد صفا کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سیاست اور میڈیا میں واقعی دوہرے معیار موجود ہیں اور بعض شناختوں کے ساتھ نرمی برتی جاتی ہے۔ ان صارفین کا کہنا تھا کہ ایسے بیانات ضروری ہیں تاکہ اس تعصب کی نشاندہی ہو سکے۔

یہ بھی پڑھئے: غزہ جنگ کے سائے میں عالمی میڈیا کا بحران: صحافی ہلاکتیں، دباؤ اور سنسرشپ

دوسری جانب، متعدد صارفین اور تجزیہ کاروں نے اس بیان پر تنقید بھی کی۔ ان کے مطابق، ایپسٹین کے جرائم کی عالمی سطح پر شدید مذمت ہوئی، اور اس معاملے کو مذہب سے جوڑنا مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔ بعض ناقدین نے کہا کہ جرائم کو فرد کی ذات تک محدود رکھنا چاہیے، نہ کہ انہیں مذہبی یا نظریاتی فریم میں پیش کیا جائے۔ محمد صفا کا بیان ایک بار پھر اس سوال کو سامنے لاتا ہے کہ کیا عالمی ردعمل واقعی یکساں ہوتا ہے، یا مذہب، سیاست اور طاقت کے توازن اس پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ یہ معاملہ نہ صرف میڈیا کے کردار بلکہ بین الاقوامی انصاف کے معیار پر بھی بحث کو جنم دیتا ہے، خاص طور پر ایسے حساس معاملات میں جہاں متاثرین کے حقوق اور شفاف احتساب بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔
فی الحال، نہ اقوام متحدہ اور نہ ہی پیٹریاٹک وژن اسوسی ایشن کی جانب سے اس بیان پر کوئی باضابطہ وضاحت یا وضاحتی بیان جاری کیا گیا ہے، تاہم یہ واضح ہے کہ محمد صفا کے اس ایک جملے نے عالمی سطح پر ایک نئی اور حساس بحث چھیڑ دی ہے، جو آنے والے دنوں میں مزید شدت اختیار کر سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK