اگلے ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی تیاریاں ، سیکوریٹی ادارے سرگرم۔
EPAPER
Updated: April 18, 2026, 10:09 AM IST | Islamabad
اگلے ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کی تیاریاں ، سیکوریٹی ادارے سرگرم۔
پاکستان دوسرے دور کے مذاکرا ت کیلئے تیار ہے۔ پی ٹی آئی کی رپورٹ کےمطابق پاکستان نے اگلے ہفتے امریکہ اور ایران کے درمیان اہم مذاکرات کے دوسرے دور کی میزبانی کیلئے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ یہ ایک اہم امن معاہدے کی کوشش ہے جس کا مقصد مغربی ایشیا میں جاری جنگ کو ختم کرنا ہے جس نے عالمی معیشت کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
امریکہ اور ایران نے گزشتہ ہفتے کے آخر میں پاکستان میں مذاکرات کئے تھے جن کا مقصد تنازع ختم کرنا تھا لیکن یہ بات چیت اتوار کو کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی تھی۔
پاکستانی سرکاری ذرائع کے مطابق جمعہ کو دونوں فریق کو دوبارہ مذاکرات کی میز پر لانے کے لئے سفارتی سرگرمیاں شروع ہوئیں۔ اس میں کامیابی بھی ملی کیونکہ دونوں ممالک دو ہفتوں کی عارضی جنگ بندی پر قائم ہیں جس سے پاکستان کو ثالثی کی کوششیں دوبارہ شروع کرنے کا موقع ملا۔
پس پردہ کوششوں کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف بدھ کو تین ملکی دورے پر روانہ ہوئے جبکہ اسی دن پاکستان کے آر می چیف عاصم منیر تہران پہنچے۔
یہ بھی پڑھئے: اگر آبنائے ہرمز نہ کھلا تو دنیا بھوک سے دوچار ہوگی: اقوام متحدہ کا انتباہ
شہباز شریف نے سعودی عرب اور قطر کی قیادت سے ملاقاتوں کے بعد جمعرات کی رات ترکی کا رخ کیا جبکہ عاصم منیر نے ایران میں ۲۴؍ گھنٹوں سے زائد قیام کے دوران سیاسی اور عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں۔ اگرچہ ان ملاقاتوں کے نتائج کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا لیکن حکام کے مطابق جمعرات کی شام سے اسلام آبادمیں سیکویٹی ادارے اچانک متحرک ہو گئے۔ اسلام آباد کے حکام کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی میں تیاریاں شروع کر دی گئی ہیں ۔ ہزاروں پولیس اور فوجی اہلکار دیگر صوبوں سے بلائے جا رہے ہیں۔
روایتی طور پر بڑے سیکوریٹی انتظامات کے لئے اسلام آباد انتظامیہ صوبوں سے مدد طلب کرتا ہے۔ پہلے دور کے مذاکرات کے دوران۱۰؍ ہزار سے زائد اہلکار مامور کئے گئے تھے۔ یہ بھی اطلاعات ہیں کہ ٹرانسپورٹ کمپنیوں کو آگاہ کیا گیا ہے کہ اسلام آباد اور راولپنڈی آنے اور جانے والوں پر سخت پابندیاں لگ سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر جاری ایک پیغام کے مطابق یہ پابندیاں اگلے ہفتے کے اختتام تک برقرار رہ سکتی ہیں اور شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز یا پیشگی منصوبہ بندی سے سفر کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ اسی طرح ٹریفک کم کرنے کے لئے تعلیمی ادارے بند کئے جا سکتے ہیں اور ہوائی اڈے کے قریب کے بازار بھی بند کئے جا سکتے ہیں۔