کلیان۔ مرباڈ اور کلیان۔ بھیونڈی روڈ پر گنجائش سے زیادہ مسافروں کو لے جانے والی گاڑیوں پر جرمانہ، اضافی سیٹ اکھاڑی گئیں۔
EPAPER
Updated: April 18, 2026, 11:56 AM IST | Ejaz Abdul Gani | Kalyan
کلیان۔ مرباڈ اور کلیان۔ بھیونڈی روڈ پر گنجائش سے زیادہ مسافروں کو لے جانے والی گاڑیوں پر جرمانہ، اضافی سیٹ اکھاڑی گئیں۔
گزشتہ دنوں کلیان۔ احمد نگر شاہراہ پر پیش آنے والے لرزہ خیز حادثے کی یادیں ابھی تازہ ہیں جس نے ۱۱ ؍خاندانوں کے چراغ گل کر دئیے تھے لیکن افسوسناک امر یہ ہے کہ اس خونی حادثے کے باوجود ٹرانسپورٹ مافیا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگ رہی ہے۔ منافع کی ہوس میں انسانی زندگیوں کو داؤ پر لگانے کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس پر قابو پانے کیلئے کلیان آر ٹی او نے کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔
ریجنل ٹرانسپورٹ آفس(آر ٹی او) نے کلیان۔ احمد نگر اور کلیان۔ بھیونڈی شاہراہوں پر ایک ہنگامی مہم چلائی ہے۔ اس کارروائی کے دوران ۱۲؍ ٹیکسیوں پر قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔ دوران معائنہ یہ انکشاف ہوا کہ ڈرائیوروں نے گاڑیوں کے اندرونی ڈھانچے میں غیر قانونی تبدیلیاں کر کے اضافی نشستیں نصب کر رکھی تھیں تاکہ زیادہ مسافر بھرے جا سکیں۔ آر ٹی او حکام نے موقع پر ہی ان نشستوں کو اکھاڑ پھینکا اور سخت وارننگ جاری کی۔
یہ بھی پڑھئے: یکم مئی سے رکشا اور ٹیکسی ڈرائیوروں کیلئے مراٹھی جاننا لازمی
قابل ذکر ہے کہ پیر کے روز قبل رائتےپل کے قریب ایک ایکو ٹیکسی مکسر ٹرک سے ٹکرا گئی تھی۔ تحقیقات میں یہ لرزہ خیز حقیقت سامنے آئی کہ جس ٹیکسی میں صرف ۶ ؍مسافروں کے بیٹھنے کی جگہ تھی جبکہ اس میں ڈرائیور نے ۱۱؍ افراد کو بٹھا رکھا تھا۔ اوور ٹیکنگ کی کوشش میں یہ بھری ہوئی گاڑی حادثے کا شکار ہوئی اور گنجائش سے زیادہ وزن ہونے کے باعث مسافروں کو سنبھلنے کا موقع تک نہیں مل سکا۔
مقامی شہریوں اور سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ محض چند ٹیکسیوں کو جرمانہ کرنا یا نشستیں ہٹا دینا مسئلے کا مستقل حل نہیں ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چیک پوسٹ پر تعینات عملے کی آنکھوں کے سامنے سے روزانہ یہ اوور لوڈڈ گاڑیاں کیسے گزرتی ہیں؟ کیا انتظامیہ صرف کسی بڑے حادثے کا انتظار کرتی ہے جس کے بعد ہی چند دنوں کے لئے ایسی مہم چلائی جاتی ہے؟
آر ٹی او افسر اشوتوش بارکل نے اگرچہ یہ دعویٰ کیا ہے کہ مسافروں کی حفاظت پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا لیکن زمینی حقائق بتاتے ہیں کہ جب تک مستقل نگرانی اور ڈرائیوروں کے لائسنس منسوخ کرنے جیسے سخت اقدامات نہیں کئے جاتے یہ کالی پیلی ٹیکسیاں موت کی سواری بنی رہیں گی۔