پاکستان کو ۲۰۲۷ءمیں عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بورڈز آف گورنرز کی صدارت کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔یہ۱۹۵۳ء کے بعد پہلا موقع ہوگا جب پاکستان ان دونوں عالمی مالیاتی اداروں کے بورڈز کی صدارت کرے گا۔
EPAPER
Updated: October 16, 2026, 7:01 PM IST | New York
پاکستان کو ۲۰۲۷ءمیں عالمی بینک گروپ اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے بورڈز آف گورنرز کی صدارت کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔یہ۱۹۵۳ء کے بعد پہلا موقع ہوگا جب پاکستان ان دونوں عالمی مالیاتی اداروں کے بورڈز کی صدارت کرے گا۔
پاکستان کو ۲۰۲۷ءمیں عالمی بینک گروپ (World Bank Group) اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (International Monetary Fund IMF) کے بورڈز آف گورنرز کی صدارت کے لیے نامزد کیا گیا ہے۔ یہ ۱۹۵۳ء کے بعد پہلا موقع ہوگا جب پاکستان ان دونوں عالمی مالیاتی اداروں کے بورڈز کی صدارت کرے گا۔ پاکستان کی وزارتِ اقتصادی امور نے جمعہ، ۱۶؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء کو اس پیش رفت کی تصدیق کی۔ اعلان تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں منعقدہ عالمی بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاسوں کے مکمل اجلاس کے دوران کیا گیا۔
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد خان چیمہ کو ۲۰۲۷ء کے لیے دونوں اداروں کے بورڈز آف گورنرز کا آئندہ چیئرمین نامزد کیا گیا ہے۔ وہ عالمی بینک گروپ کے بورڈ آف گورنرز میں پاکستان کی نمائندگی بھی کرتے ہیں۔ وزارتِ اقتصادی امور نے اس پیش رفت کو ایک تاریخی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ذمہ داری کے ذریعے پاکستان کو عالمی معیشت، ترقیاتی مالیات اور بین الاقوامی اقتصادی تعاون سے متعلق اہم مباحث میں اپنا کردار ادا کرنے کا موقع ملے گا۔
یہ بھی پڑھئے:عمران خان ہی نہیں، بالی ووڈ کے کئی مشہور ستاروں کے پاس بھی ہندوستانی شہریت نہیں
احد خان چیمہ نے اجلاس کے موقع پر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان عالمی مالیاتی اداروں میں ترقی پذیر ممالک کی آواز کو مؤثر انداز میں پیش کرنے، ترقیاتی منصوبوں کے لیے قابلِ اعتماد مالی وسائل کی فراہمی اور مختلف بین الاقوامی اداروں کے درمیان بہتر تعاون کے فروغ کے لیے کام کرے گا۔ انہوں نے پائیدار اور جامع اقتصادی ترقی کے لیے نجی شعبے کی سرمایہ کاری متحرک کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔
اعلان کے بعد عالمی بینک گروپ کے کارپوریٹ سیکریٹریٹ نے احد خان چیمہ کو بورڈز کی صدارت سے متعلق ذمہ داریوں اور انتظامی امور پر بریفنگ دی۔ انہوں نے عالمی بینک گروپ کی نائب صدر اور کارپوریٹ سیکریٹری ارادھنا کمار کپور سے بھی ملاقات کی، جس میں پاکستان کی آئندہ مدت کے دوران ادارہ جاتی تعاون اور انتظامات پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے پیراگوئے کے مرکزی بینک کے گورنر اور سبکدوش ہونے والے چیئرمین کارلوس کاروالو اسپالڈنگ سے ملاقات کرکے آئندہ سال کی ترجیحات اور صدارت کی ذمہ داریوں پر گفتگو کی۔
پاکستان کی یہ نامزدگی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک آئی ایم ایف کے ساتھ مالی معاونت کے دو پروگراموں کے تحت کام کررہا ہے۔ ان میں ۷؍ ارب ڈالر کا توسیعی فنڈ سہولت پروگرام اور ۴ء۱؍ ارب ڈالر کا موسمیاتی و پائیداری سے متعلق سہولت پروگرام شامل ہیں۔ توسیعی فنڈ سہولت کا مقصد پاکستان کی ادائیگیوں کے توازن سے متعلق ضروریات پوری کرنے اور اقتصادی اصلاحات میں معاونت فراہم کرنا ہے، جبکہ دوسرا پروگرام موسمیاتی خطرات سے نمٹنے اور معیشت کی طویل مدتی مضبوطی میں مدد کے لیے ہے۔
حالیہ پیش رفت کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے عملے کے درمیان دونوں قرض پروگراموں کے جائزوں پر عملے کی سطح کا معاہدہ بھی طے پایا ہے۔ اس کے نتیجے میں پاکستان کو تقریباً ۲ء۱؍ ارب ڈالر کی مزید مالی معاونت ملنے کی توقع ہے، تاہم اس رقم کی فراہمی آئی ایم ایف کے ایگزیکٹیو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ویبھو نے فوٹوگرافر کو خبردار کر دیا، کہا: ریلز بنانے کے چکر میں حادثہ نہ کر بیٹھنا
عالمی بینک گروپ اور آئی ایم ایف کے بورڈز آف گورنرز دونوں اداروں کے اعلیٰ ترین فیصلہ ساز فورمز ہیں۔ ان میں رکن ممالک کے نمائندے شامل ہوتے ہیں اور یہ اداروں کی وسیع پالیسی سمت اور اہم معاملات پر غور کرتے ہیں۔ تاہم بورڈز کی صدارت سنبھالنے کا مطلب یہ نہیں کہ پاکستان کو دونوں اداروں کے قرضوں، پالیسیوں یا فیصلوں پر یکطرفہ اختیار حاصل ہوجائے گا۔ ان اداروں کے فیصلے ان کے مقررہ قواعد اور اجتماعی حکومتی ڈھانچے کے تحت کیے جاتے ہیں۔۲۰۲۷ء میں صدارت پاکستان کو عالمی اقتصادی مسائل، ترقیاتی مالیات، موسمیاتی خطرات اور ترقی پذیر معیشتوں کی ضروریات پر اپنا مؤقف پیش کرنے کے لیے ایک اہم سفارتی پلیٹ فارم فراہم کرسکتی ہے۔ اس موقع کے عملی فوائد کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ پاکستان عالمی شراکت داروں کے ساتھ کس حد تک مؤثر تعاون کرتا ہے اور ترقیاتی مالیات سے متعلق ترجیحات کو آگے بڑھانے میں کیا کردار ادا کرتا ہے۔
واضح رہے کہ پاکستان کی یہ نامزدگی عالمی مالیاتی اداروں میں نمائندگی کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ہے، لیکن اس سے ملک کے جاری معاشی چیلنجز خودبخود حل نہیں ہوں گے۔ اقتصادی استحکام، مالیاتی نظم و ضبط، سرمایہ کاری میں اضافہ اور اصلاحات پر عمل درآمد پاکستان کی داخلی معاشی پالیسیوں اور بین الاقوامی تعاون سمیت متعدد عوامل پر منحصر رہے گا۔