Updated: October 16, 2026, 9:01 PM IST
| Washington
ایک رپورٹ کے مطابق سابق امریکی آرمی چیف رینڈی جارج نے انتباہ دیا کہ امریکی میزائل دفاع کی قلت۲۰۳۰ء تک جاری رہ سکتی ہے، ایران پر امریکی-اسرائیلی جنگ سے قبل پیٹریاٹ اور THAAD انٹرسیپٹر کی قلت سے خبردار کیا تھا، جبکہ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ذخائر کو بھرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔
سی بی ایس نیوز نے جمعرات کو امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ معزول امریکی آرمی چیف آف اسٹاف جنرل رینڈی جارج نے ایران کے خلاف امریکی-اسرائیلی جنگ سے مہینوں قبل خبردار کیا تھا کہ امریکی میزائل دفاع کے ذخائر انتہائی کم ہیں اور بحال ہونے میں ۲۰۳۰ء تک کا وقت لگ سکتا ہے۔جارج نے دسمبر کے آخر میں یہ انتباہ دیا تھا، یعنی تنازع شروع ہونے سے دو ماہ قبل۔ تاہم وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے اپریل میں جب جنگ جاری تھی انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا تھا۔ پینٹاگون کے مالی سال۲۰۲۷ء کے فورس الاٹمنٹ پلاننگ میں شامل اس جائزے میں ٹرمینل ہائی آلٹیٹیوڈ ایریا ڈیفنس (THAAD) انٹرسیپٹر اور پیٹریاٹ میزائلوں کی قلت کی نشاندہی کی گئی تھی، جس میں سپلائی۲۰۳۰ء تک اسٹریٹجک طور پر کم سطح پر رہنے کی توقع ہے۔رپورٹ کے مطابق، حکام نے اس کمی کو یوکرین کو ہتھیاروں کی منتقلی، اسرائیل کے لیے امریکی فوجی حمایت اور دفاعی صنعت کی محدود پیداواری صلاحیت سے منسوب کیا۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی صدر نے امریکی-اسرائیلی جنگ کو ماحولیاتی نظام کے لیے نقصان دہ قرار دیا
جنگ سے سپلائی پر مزید دباؤ
واضح رہے کہ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکی ہتھیاروں کے ذخائر پر اضافی دباؤ ڈالا ہے۔ سینٹر فار اسٹریٹجک اینڈ انٹرنیشنل اسٹڈیز (CSIS) کے ایک اندازے کے مطابق امریکی افواج۲۰۲۶ء میں تقریباً۲۳۰۰ء پیٹریاٹ انٹرسیپٹرکے ساتھ داخل ہوئیں اور تنازع کے دوران ان میں سے ۱۰۵۰؍سے۱۴۳۰؍ کے درمیان استعمال کر لئے۔اس کے علاوہ اندازوں کے مطابق، جنگ سے قبل امریکہ کے پاس تقریباً تھاڈ انٹرسیپٹرز ۳۵۵؍تھے، جن میں سے اندازاً ۱۹۰؍سے۲۹۰؍ خرچ ہو گئے۔ریٹائرڈ میرین کرنل اور CSIS کے سینئر مشیر مارک کینسین نے سی بی ایس نیوز کو بتایا کہ چین کے ساتھ ممکنہ تنازع میں یہ سسٹم اہم ہوں گے۔مزید برآں انہوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا، ’’ بیجنگ کے ساتھ ایک بڑے تصادم کے لیے کافی ایئر ڈیفنس، میزائل ڈیفنس، انٹرسیپٹر سپلائی کی ضرورت ہوگی۔جبکہ ذخائر کو دوبارہ بھرنے میں سالوں لگ سکتے ہیں۔ CSIS کا اندازہ ہے کہ نئے تھاڈانٹرسیپٹر معاہدوں کو پورا ہونے میں چار سال سے زیادہ لگتے ہیں، جبکہ پیٹریاٹ PAC-3 آرڈرز میں اوسطاً ساڑھے تین سال لگتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو کےتعلق سے پوچھنے پر ٹرمپ نے کہا،’’ میں کسی پر بھروسہ نہیں کرتا‘‘
پینٹاگون نے قلت سے انکار کیا
پینٹاگون نے امریکی افواج کو گولہ بارود کی قلت کا سامنا ہونے کے دعووں کو مسترد کر دیا۔چیف ترجمان شان پارنیل نے سی بی ایس نیوز کو بتایا، ’’امریکی گولہ بارود کی قلت کے دعوے غلط ہیں۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ’’ واشنگٹن کے پاس صدر کے منتخب کردہ وقت اور جگہ پر حملہ کرنے کے لیے درکار ہر چیز موجود ہے۔‘‘