• Fri, 16 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہندوستان کی واپسی کی کوشش، ویسٹ انڈیز کی نظریں ٹی ۲۰؍ سیریز جیتنے پر

Updated: October 16, 2026, 10:03 PM IST | Mumbai

ہندوستان ہفتے کو پانچویں اور آخری ٹی ۲۰؍ بین الاقوامی میچ میں شاندار آغاز کو جیت میں بدلنے کی صلاحیت اور اپنے گیند بازوں کی حریف ٹیم کو میچ پر حاوی ہونے سے روکنے کی قابلیت پر توجہ مرکوز کرے گا۔ وہیں ویسٹ انڈیز کی نظریں سیریز جیتنے پر ہوں گی۔

T20 Team.Photo;X
ٹی ۲۰؍ ٹیم۔ تصویر:ایکس

 ہندوستان ہفتے کو پانچویں اور آخری ٹی ۲۰؍ بین الاقوامی میچ میں شاندار آغاز کو جیت میں بدلنے کی صلاحیت اور اپنے گیند بازوں کی حریف ٹیم کو میچ پر حاوی ہونے سے روکنے کی قابلیت پر توجہ مرکوز کرے گا۔ وہیں ویسٹ انڈیز کی نظریں سیریز جیتنے پر ہوں گی۔ ہندوستان کو جیت حاصل کرنے کے لیے اپنی جارحانہ صلاحیت کو مزید تیز کرنا ہوگا۔
سیریز ابھی ۲۔۲؍ سے برابر ہے اور حیدرآباد میں کھیلے گئے چوتھے میچ نے ہندوستان کو غور کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ویسٹ انڈیز کی ۲۴؍ رن سے جیت صرف یہ ظاہر نہیں کرتی کہ اس نے حریف ٹیم سے زیادہ رن بنائے، بلکہ یہ بھی بتاتی ہے کہ جارحانہ کرکٹ کھیلنے اور ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے اپنا کنٹرول کھو دینے کے درمیان کتنا باریک فرق ہوتا ہے۔ ہندوستان نے  ۲۴۸؍ رن کے ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے بہترین ارادے کے ساتھ شروعات کی اور پہلے ۴؍ اوورس میں بغیر کوئی وکٹ گنوائے ۶۰؍ رن بنا لیے۔ سنجو سیمسن نے ۲۳؍ گیندوں پر ۵۶؍ رن بنا کر ہندوستان کو مقابلے میں مضبوطی سے برقرار رکھا، لیکن اوپننگ شراکت داری ٹوٹنے کے بعد اس رفتار کو برقرار رکھنا مشکل ہو گیا۔ آخر میں ہندوستان کی پوری ٹیم ۳ء۱۹؍اوورس میں ۲۲۳؍ رن پر سمٹ گئی، جس سے ویسٹ انڈیز کو جیت حاصل ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے:آسکر کیلئے ہندوستان کی باضابطہ پیش کش فلم ’’گوندھل‘‘ نومبر میں ملک بھر میں ریلیز ہوگی

ہندوستان کے لیے سبق یہ ہے کہ اسے اپنا جارحانہ انداز چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے، بلکہ اس کے ساتھ بہتر سمجھ بوجھ کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔ جب ہدف کا تعاقب کرتے ہوئے ہر اوور میں ۱۲؍ سے زیادہ رن بنانے کی ضرورت ہو تو باؤنڈری لگانا ضروری ہے۔ لیکن اس کے ساتھ یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ کب ایک رن یا  ۲؍رن لے کر اسکور بورڈ کو آگے بڑھایا جا سکتا ہے، تاکہ دوسرے بلے باز کو غیر ضروری خطرے میں نہ ڈالا جائے۔
تلک ورما کے ۴۳؍ اور نتیش کمار ریڈی کے ۴۱؍ رن نے کچھ جدوجہد مظاہرہ ضرور کیا، لیکن ہندوستان کو ایسی کوئی شراکت داری نہیں مل سکی جو میچ کو مزید آگے تک لے جا سکتی۔ اتنے بڑے ہدف کا تعاقب کرتے وقت مسلسل وکٹ گرنا، رن بنانے کی رفتار سست ہونے سے کہیں زیادہ نقصان دہ ثابت ہوتا ہے۔
دوسری طرف، ویسٹ انڈیز نے تحمل اور طاقت کا بہترین تال میل قائم کر لیا ہے۔ کپتان شائی ہوپ نے حیدرآباد میں ۵۰؍ گیندوں پر ناٹ آؤٹ ۱۰۲؍ رن بنائے۔ سیریز میں یہ ان کی دوسری ناٹ آؤٹ سنچری تھی، جس نے ان کے جارحانہ مڈل آرڈر کے لیے ایک مضبوط بنیاد تیار کر دی۔ شیرفین ردرفورڈ نے ۲۶؍ گیندوں پر ناٹ آؤٹ ۴۹؍ رن بنائے، جس سے ویسٹ انڈیز کی ٹیم ۳؍ وکٹ کے نقصان پر۲۴۷؍ رن کے مضبوط اسکور تک پہنچ گئی۔ ہندوستانی گیند بازوں کے لیے مسئلہ صرف یہ نہیں تھا کہ انہوں نے کتنے رن دیے، بلکہ یہ بھی تھا کہ ہوپ نے کتنی آسانی سے پوری اننگز کو اپنی مرضی کے مطابق چلایا۔ شاندار فارم میں چل رہے بلے باز کو روکنے کے لیے صرف فیلڈنگ میں تبدیلی کرنا یا یارکر گیند پھینکنے کی کوشش کرنا کافی نہیں ہے۔ اس کے لیے مسلسل درست گیند بازی، رفتار میں تبدیلی اور بلے باز کو آسانی سے رن بنانے کے مواقع نہ دینے کی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ چوتھے میچ میں کیمو پال نے نظم و ضبط کی اہمیت ثابت کی، جب انہوں نے ۴۱؍ رن دے کر ۵؍ وکٹ حاصل کیے۔ ان کی شاندار گیند بازی نے ہندوستان کی اچھی شروعات کو مسلسل وکٹ گرنے کے سلسلے میں بدل دیا، جبکہ گداکیش موتی نے بھی اہم مواقع پر وکٹ لے کر دباؤ برقرار رکھا۔

یہ بھی پڑھئے:ٖکرکٹ کا چوتھا فارمیٹ ٹیسٹ ۲۰؍ سری لنکا میں شروع ہو رہا ہے

چناسوامی اسٹیڈیم اپنی چھوٹی باؤنڈری اور زیادہ رن والے میچوں کے لیے مشہور ہے، جہاں جارحانہ بلے بازی کو فائدہ مل سکتا ہے۔ لیکن ضروری نہیں کہ یہ میدان صرف اسی ٹیم کے حق میں رہے جو سب سے زیادہ جارحانہ کھیل کا مظاہرہ کرے۔ جو ٹیم اپنے وسائل کا بہتر استعمال کرے گی، وکٹ بچا کر رکھے گی اور دباؤ کے درمیان اپنی حکمت عملی کو صحیح طریقے سے نافذ کرے گی، وہی ٹیم فیصلہ کن برتری حاصل کر سکتی ہے۔ ہندوستان کو عرشدیپ سنگھ کی فٹنس پر بھی نظر رکھنی ہوگی، جنہیں گزشتہ میچ کے دوران کندھے میں چوٹ لگی تھی۔ ان کے کھیلنے یا نہ کھیلنے سے ٹیم کی گیند بازی کے توازن پر اثر پڑ سکتا ہے۔پہلا اور تیسرا میچ جیتنے کے بعد ہندوستان سیریز پر دوبارہ اپنا غلبہ قائم کرنا چاہے گا۔ وہیں، ۱۔۲؍ سے پیچھے ہونے کے بعد واپسی کرنے والی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو بھی لگ رہا ہوگا کہ اس کے پاس سیریز کا رخ بدلنے کی رفتار موجود ہے۔ گزشتہ ۴؍مقابلوں کے مطابق، جس ٹیم کی جارحانہ صلاحیت زیادہ تیز ہوگی، وہی سیریز جیت پائے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK