• Sun, 01 November, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

زمان، منہاس اور بیگ کی شاندار کارکردگی کی بدولت پاکستان نے سہ فریقی سیریز جیتی

Updated: November 01, 2026, 4:04 PM IST | Lahore

فخر زمان کی سنچری نے کامندو مینڈس کی سنچری کو پیچھے چھوڑ دیا۔ لاہور میں کھیلے گئے سہ فریقی سیریز کے فائنل میں پاکستان نے سری لنکا کو ۳؍ وکٹوں سے شکست دے کر خطاب اپنے نام کر لیا۔

Pakistani Players.Photo:INN
پاکستانی کھلاڑی۔ تصویر:ایکس

فخر زمان کی سنچری نے کامندو مینڈس کی سنچری کو پیچھے چھوڑ دیا۔ لاہور میں کھیلے گئے سہ فریقی سیریز کے فائنل میں پاکستان نے سری لنکا کو ۳؍ وکٹوں سے شکست دے کر خطاب اپنے نام کر لیا۔ سری لنکا نے کامندو مینڈس کے ۱۳۱؍اور پون رتنائیکے کے ۷۷؍ رن کی مدد سے ۸؍ وکٹوں کے نقصان پر ۳۲۵؍ رن بنائے۔ پاکستان کی جیت میں فخر زمان کے ۱۲۷؍ رن  کے علاوہ سعد بیگ (۷۴) اور عرفات منہاس (۳۱؍ گیندوں پر ۶۱؍ رن) کا اہم رول رہا۔ میزبان ٹیم نے ۳ء۱؍ اوور باقی رہتے ہی ہدف حاصل کر لیا۔


پہلے بلے بازی کی دعوت ملنے کے بعد سری لنکا نے محتاط انداز میں اننگز کا آغاز کیا۔ اویشکا فرنانڈو اور کامندو مینڈس نے نئی گیند کا سامنا کیا اور پھر آہستہ آہستہ رن بنانے کی رفتار بڑھائی۔ چھٹے اوور میں فرنانڈو نے نسیم شاہ کی گیندوں پر۲؍ چوکے اور ایک چھکا لگا کر اننگز میں تیزی پیدا کی، جبکہ ۱۰؍ویں اوور میں کامندو نے شاہین آفریدی کی گیند پر چھکا لگایا، جس سے سری لنکا کا اسکور بغیر کسی نقصان کے ۵۱؍رن ہو گیا۔ عرفات منہاس کی گیند پر کامندو کو کیچ کے پیچھے آؤٹ قرار دیا گیا تھا، لیکن انہوں نے ریویو لے کر اس فیصلے کو تبدیل کروا لیا۔ اس دوران پاکستان نے کچھ نپی تلی گیند بازی کی۔ ۱۷؍ویں اوور میں حارث رؤف نے فرنانڈو کے خلاف میڈن اوور کیا۔ اس کے اگلے ہی اوور میں سلمان آغا نے فرنانڈو کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا، جو ۳۸؍ رن بنا کر کھیل رہے تھے۔

یہ بھی پڑھئے:دہرادون: بجرنگ دل نے مسجد کی مرمت کا کام رکوایا، غیر قانونی تعمیر کا الزام

کافی دیر بعد کامندو نے چوکا لگایا اور اپنی نصف سنچری مکمل کی، جبکہ کوشل مینڈس نے حارث رؤف کی گیند پر چھکا لگایا۔ لیکن آغا نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کوشل کا وکٹ حاصل کر لیا۔ انہوں نے ایک بہترین ریٹرن کیچ پکڑا، جس کے نتیجے میں ۲۲؍ویں اوور میں سری لنکا کا اسکور ۱۰۹؍ رن پر ۲؍ وکٹ ہو گیا۔ پاکستان کے پاس سری لنکا کی اننگز کی رفتار روکنے کا موقع تھا، لیکن کامندو اور پون رتنائیکے نے سری لنکا کو اچھی پوزیشن میں برقرار رکھا۔ دونوں نے مل کر ۱۰۰؍ رن کی شراکت داری کی، جس سے رن بنانے کی رفتار تیز ہو گئی۔ کامندو نے اپنے ایک روزہ کرکٹ کیریر کی پہلی سنچری بنائی، جبکہ رتنائیکے نے اس سیریز میں چوتھی مرتبہ ۵۰؍سے زیادہ رن بنائے۔ ان دونوں کی بدولت ۴۱؍ویں اوور میں سری لنکا کا اسکور ۲۵۰؍ر ن  سے تجاوز کر گیا۔
تیسرے وکٹ کے لیے دونوں نے ۱۴۶؍رن جوڑے، لیکن اس کے بعد آفریدی نے کامندو کو ایل بی ڈبلیو آؤٹ کر دیا۔ داسن شناکا نے ۹؍ گیندوں پر ۱۷؍ رن بنائے، جس میں ایک چھکا اور ۲؍ چوکے شامل تھے، لیکن پھر آفریدی نے انہیں بھی آؤٹ کر دیا۔ اس کے بعد رؤف نے رتنائیکے اور نسیم نے جنتھ لیاناگے کو پویلین بھیج دیا۔ اس طرح سری لنکا نے محض ۲۹؍ رن کے اندر اپنے ۵؍ وکٹ گنوا دیے۔ تاہم، آخر میں سہان آراچیگے اور مہیش تھیکشنا نے کچھ ضروری رن جوڑے، جس سے سری لنکا پاکستان کے سامنے ایک مشکل ہدف رکھنے میں کامیاب رہا۔
پاکستان کی اننگز کا آغاز خراب رہا، کیونکہ دلشان مدوشنکا نے اپنے پہلے ۲؍اوورس میں ہی معاذ صداقت اور بابر اعظم کا وکٹ حاصل کر لیا۔ فخر زمان اور سعد بیگ نے اننگز کو سنبھالا اور رن بنانے کی رفتار برقرار رکھی۔ زمان نے چھکے لگائے، جبکہ بیگ نے مسلسل چوکے جڑے۔ ۱۰؍اوور کے بعد پاکستان کا اسکور۲؍وکٹوں پر ۵۰؍ رن ہو گیا۔ دونوں نے مسلسل رن بنانا جاری رکھا۔ بیگ نے اپنے ایک روزہ کرکٹ کیریر کی پہلی نصف سنچری بنائی، جبکہ زمان نے بھی ۵۰؍ رن کا ہندسہ پار کیا۔ اس دوران دونوں کے درمیان  ۱۰۰؍ رن کی شراکت داری بھی مکمل ہوئی۔

یہ بھی پڑھئے:کشور کمار کا سدا بہار گیت ’نخرے والی‘ نئے انداز میں لوٹ آیا

۲۶؍ویں اوور میں پاکستان کا اسکور ۱۵۰؍ رن سے تجاوز کر گیا۔ تیسرے وکٹ کے لیے ہونے والی ۱۴۹؍ رن  کی یہ شراکت داری اس وقت ٹوٹی، جب بیگ نے تھیکشنا کو کیچ دے دیا۔ بیگ نے ۷۵؍ گیندوں پر۷۴؍ رن بنائے، جس میں ۱۱؍ چوکے شامل تھے۔ اس دوران زمان بغیر کسی دباؤ کے کھیلتے رہے۔ انہوں نے اپنی۱۲؍ویں ایک روزہ سنچری مکمل کی اور مسلسل گیند کو باؤنڈری کے پار پہنچاتے رہے۔ آخرکار مدوشنکا کی گیند پر وہ بولڈ ہو گئے۔ اپنی ۹۹؍گیندوں کی اننگز میں انہوں نے ۶؍ چھکے اور۱۱؍ چوکے لگائے۔ کچھ دیر بعد سلمان آغا بھی آؤٹ ہو گئے، جنہیں دونتھ ویلالاگے نے بولڈ کیا۔ اس کے بعد پاکستان کو آخری ۱۳؍ اوورس میں ۹۶؍ رن کی ضرورت تھی، جو بعد میں آخری ۱۰؍اوورس میں کم ہو کر۸۲؍ رن رہ گئے۔
پاکستان کے لیے ۱۰؍اوور تک کوئی باؤنڈری نہیں لگی، لیکن پھر ۴۳؍ویں اوور میں عرفات منہاس نے شناکا کی گیند پر چوکا لگایا اور ۴۵؍ویں اوور میں اسیتھا فرنانڈو کی گیند پر ایک اور باؤنڈری لگائی۔ حسن نواز کی بلے بازی کچھ سست رہی، لیکن انہوں نے منہاس کے ساتھ مل کر شراکت داری قائم کی۔ اس کے نتیجے میں آخری ۵؍ اوورس میں جیت کے لیے ۴۶؍رن درکار رہ گئے۔ پاکستان کے لیے کچھ اوور اچھے رہے، جن میں منہاس نے شناکا اور مدوشنکا کی گیندوں پر چھکے لگائے، جس سے ہدف کا حساب ۱۸؍ گیندوں پر۱۸؍ رن رہ گیا۔ منہاس نے فرنانڈو کی گیند پر چھکا لگا کر ۲۸؍ گیندوں میں اپنی نصف سنچری مکمل کی۔ اس کے بعد انہوں نے ایک اور چھکا اور ایک چوکا لگایا، لیکن پھر آؤٹ ہو گئے۔ اسی اوور میں فہیم اشرف بھی آؤٹ ہو گئے، لیکن آخری سے پہلے اوور میں آفریدی نے مدوشنکا کی گیند پر چھکا لگا کر پاکستان کو جیت دلا دی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK