فلسطین اور ہندوستان نے ایک دوسرے کی مدد اور حمایت جاری رکھی ہے،ہندوستان مغربی کنارے میں صحت کے شعبے کیلئے امداد فراہم کرے گا، دوسری جانب فلسطین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل نشست کیلئے ہندوستان کی حمایت کررہاہے۔
EPAPER
Updated: August 20, 2026, 7:03 PM IST | Ramallah
فلسطین اور ہندوستان نے ایک دوسرے کی مدد اور حمایت جاری رکھی ہے،ہندوستان مغربی کنارے میں صحت کے شعبے کیلئے امداد فراہم کرے گا، دوسری جانب فلسطین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل نشست کیلئے ہندوستان کی حمایت کررہاہے۔
ہندوستان غزہ کے بوسیدہ صحت کے شعبے کو نئے انفراسٹرکچر اور طبی آلات کے لیے فنڈز کے ذریعے نئی زندگی دے رہا ہے۔جبکہ فلسطین اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل نشست کے لیے ہندوستان کی حمایت کر رہا ہے۔ فلسطینی سفیر عبداللہ محمد ابو شاوش نے کہا کہ وہ خطے میں اہم بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے لیے ہندوستان کی مدد کا خیرمقدم کرتے ہیں۔ واضح رہے کہ یہ بیان، ہندوستانی سفیرپریہ دنگناتھن رام اللہ پہنچی جہاں ان کی فلسطینی وزیر خارجہ ورسن آغابکیان شاہی سے ملاقات ہوئی اس کے ایک دن بعد آیا۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل: آسٹریلوی امدادی کارکن کی ہلاکت کی مجرمانہ تحقیق نہیں، آسٹریلیا ناراض
بعد ازاں بدھ کو نئی دہلی میں فلسطینی سفارت خانے میں میڈیا بریفنگ کے دوران، شاوش نے مزید کہا کہ ان کا ملک۲۰۲۸ء- ۲۹ء کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں غیر مستقل نشست کے لیے ہندوستان کی حمایت کرتا ہے۔شاوش، جنہوں نے فلسطین کے سفیر کے طور پر تعیناتی سے قبل اقوام متحدہ میں آٹھ سال خدمات انجام دیں، نے کہا، جب ہم مجموعی طور پر اقوام متحدہ اور خاص طور پر سلامتی کونسل کی اصلاحات کے بارے میں بات کرتے تھے، تو ہماری ایک اپیل بطور جنوبی ملک یہ تھی کہ ہندوستان کو کم از کم ان ممالک میں شامل کیا جائے جنہیں کونسل میں مستقل نشست حاصل ہو۔‘‘انہوں نے ہندوستان کی عالمی حیثیت کو ایک بڑی معیشت اور سیاسی طاقت کے طور پر ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ فلسطینی امید رکھتے ہیں کہ نئی دہلی اپنے اثر و رسوخ، بشمول اسرائیل سے تعلقات، کو ’’امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے‘‘ استعمال کرے گی۔
اسپتال کے علاوہ، ہندوستان ایک پیشہ ورانہ تربیتی مرکز کی بھی حمایت کر رہا ہے اور غزہ میں اعضاء کھونے والے افراد کے لیے مصنوعی اعضاء کی فراہمی پر تبادلہ خیال کر رہا ہے۔ شاوش نے کہا کہ دونوں ممالک طبی آلات، بشمول ڈائلیس مشینوں کے بارے میں بھی بات چیت کر رہے ہیں، جن میں سے کچھ کو اردن کے ذریعے فلسطین میں منتقل کیے جانے کی امید ہے۔ مزید برآں ہندوستانی وزارت خارجہ کے مطابق، رنگناتھن کے جاری دورے کے دوران، ہندوستان نے فلسطینی عوام کے لیے اپنی مسلسل حمایت اور خطے کے لیے مذاکراتی دو ریاستی حل کا اعادہ کیا ہے۔سفارت کار نے منگل کو شاہی سے ملاقات کی اور ہند-فلسطین تعلقات کی مکمل حدود پر تبادلہ خیال کیا، جس میں غزہ میں پیش رفت، انسانی ضروریات، اور فلسطینی عوام کے ساتھ ہندوستان کی دیرینہ ترقیاتی شراکت داری پر توجہ مرکوز کی گئی۔
یہ بھی پڑھئے: بنگلہ دیش: ۳۵؍ سال بعد پہلی بار صدارتی انتخابات کے لیے رائےدہی، کس کی فتح ہوگی؟
واضح رہے کہ یہ اکتوبر۲۰۲۳ء میں تنازع شروع ہونے کے بعد متاثرہ غزہ کے علاقے کا ہندوستان کا پہلا اعلیٰ سطحی دورہ ہے۔وزارت خارجہ کے مطابق، رنگناتھن نے ’’غزہ میں سنگین انسانی صورتحال پر ہندوستان کی تشویش کا اظہار بھی کیا اور شہریوں کو ’’انسانی امداد کی محفوظ، مستقل اور بلا رکاوٹ فراہمی‘‘ کی ضرورت پر زور دیا۔وزارت نے مزید کہا، ’’انہوں نے امن اور استحکام کی کوششوں اور مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع کے دیرپا سیاسی حل کے لیے ہندوستان کی حمایت کا اعادہ کیا۔‘‘ رنگناتھن کے دورے سے متوقع نتائج پر، شاوش نے کہا، ’’یہ ہم دونوں کے لیے انتہائی اہم ہے کیونکہ یہ انتہائی نازک وقت پر آیا ہے، جب فلسطینی تباہ کن صورتحال برداشت کر رہے ہیں، صحت کا شعبہ خاتمے کے دہانے پر ہے... اور ہندوستان ان ممالک میں سے ایک ہے جن سے ہم نے مدد کرنے کے لیے رابطہ کیا ہے۔‘‘
تاہم اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات میں تقریباً دو ماہ باقی ہیں، شاوش نے کہا کہ فلسطینی عوام کو ایک بار پھر اسرائیلی داخلی سیاست کی قیمت ادا کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، اور مزید کہا کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے۲۰۲۶ء کے اوائل میںقائم کردہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ غزہ میں تنازع کو عارضی طور پر حل کرنے کی جانب ایک قدم ہے، نہ کہ دیرپا امن قائم کرنے کے لیے۔