Updated: August 20, 2026, 4:18 PM IST
| Dhaka
بنگلہ دیش میں ۳۵؍ سال میں پہلی بار صدارتی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں، جس میں حکمران جماعت بی این پی کے امیدوار مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو پارلیمان میں دو تہائی اکثریت کی وجہ سے کامیابی حاصل ہونے کا امکان ہے۔۷۸؍ سالہ بی این پی لیڈر محمد شہاب الدین کی جگہ لیں گے، جنہوں نے 24 جولائی کو عہدہ چھوڑ دیا تھا۔
بنگلہ دیش کے ممکنہ صدر مرزا فخر الاسلام عالمگیر۔ تصویر: ایکس
بنگلہ دیش میں آج ۲۰؍ اگست کو صدارتی انتخابات منعقد ہو رہا ہے، جس کی ووٹنگ دوپہر۲؍ بجے سے شام ۵؍بجے تک قومی پارلیمان میں ہوگی۔ ارکانِ پارلیمان۱۹۹۱ء کے بعد پہلی بار اپنے صدر کا انتخاب کریں گے۔ حکمران بی این پی اور اس کی ہم خیال جماعتوں نے مرزا فخر الاسلام عالمگیر کو نامزد کیا ہے، جبکہ جماعت اسلامی کی قیادت میں۱۱؍ جماعتوں کےحزب اختلاف نے لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) کے صدر اولی احمد کو امیدوار بنایا ہے۔تاہم، چونکہ حکمران جماعت (بی این پی) کو پارلیمان میں دو تہائی اکثریت حاصل ہے، اس لیے ان کا امیدوار مرزا فخرالاسلام ملک کا۲۳؍ واں صدر بننے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ایران امریکہ جنگ: ٹرمپ کا دباؤ، جنوبی کوریا کو امریکی اتحاد پر تشویش
واضح رہے کہ بی این پی کے پاس۳۵۰؍ نشستوں والی جاتیہ سنسد میں۲۴۷؍ نشستیں ہیں، جبکہ جماعت کی قیادت والے اتحاد کے۸۱؍ اراکین پارلیمنٹ ہیں۔ جبکہ باقی نشستیں مختلف چھوٹی جماعتوں اور آزاد ارکین کے پاس ہیں۔ کل۳۴۹؍اراکین پارلیمان ووٹ ڈالیں گے۔ چٹاگانگ ۴؍ حلقہ عدالتی حکم کے تحت منتخب امیدوار کی نامزدگی منسوخ ہونے کی وجہ سے خالی ہے۔ صدارتی انتخابات اس لیے ضروری ہوئے کیونکہ سابق صدر۷۶؍ سالہ محمد شہاب الدین نے۲۴؍ جولائی کو سنگین صحت کی پیچیدگیوں کا حوالہ دیتے ہوئے صدارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ شہاب الدین اپریل۲۰۲۳ء سے صدر تھے۔بعد ازاں چیف وہپ نور الاسلام مونی نے کہا کہ بی این پی نے پہلے ہی اعلان کر دیا ہے کہ مرزا فخر الاسلام عالمگیر، جو بنگلہ دیش کے نئے صدر بننے والے ہیں، جمعہ کی شام (21 اگست) کو بنگ بھون میں حلف اٹھائیں گے ۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: مشی گن میں مسلم مخالف ریلی کے خلاف عوام کی مزاحمت، متعدد گرفتار
یاد رہے کہ ۷۸؍سالہ عالمگیر بی این پی کے سیکرٹری جنرل اور مقامی حکومت کے وزیر رہ چکے ہیں۔ ۲۶؍ جنوری۱۹۴۸ء کو پیدا ہوئے اور معاشیات میں تربیت یافتہ، انہوں نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز مشرقی پاکستان کے دور میں طالب علم کارکن کے طور پر کیا۔ انہوں نے۱۹۹۰ء کی دہائی کے آخر میں بی این پی میں شمولیت اختیار کی اور۱۱۹۹۲ء میں انہیںٹھاکرگاؤں ضلعی یونٹ کا صدر مقرر کیا گیا، جس سے پارٹی کی رسمی قیادت میں ان کا عروج شروع ہوا۔۲۰۱۶ء میں وہ پارٹی کے جنرل سیکرٹری بنے۔ علاوہ ازیںپارلیمانی انتخابات میں بی این پی کی فتح کے بعد انہوں نے مقامی حکومت کے وزیر کا عہدہ سنبھالا، اس سے قبل وہ ۲۰۰۱ء تا ۲۰۰۶ءکے دوران زراعت، شہری ہوابازی اور سیاحت کے قلمدان سنبھال چکے ہیں۔