• Sat, 10 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ریاستِ فلسطین نے نوی پلے کو ۲۰۲۶ء کیلئے امن کا نوبیل انعام دیئے جانے کا خیرمقدم کیا

Updated: October 10, 2026, 8:02 PM IST | Jerusalem

ناروے کی نوبیل کمیٹی نے ۸۵ سالہ ماہرِ قانون نوی پلے کیلئے اس انعام کا اعلان ”امن اور بین الاقوامی قانون کو فروغ دینے کی ان کی کوششوں کے اعتراف میں“ کیا۔ کمیٹی نے نشان دہی کی کہ انہوں نے بین الاقوامی عدالتوں میں اپنے کام اور اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے طور پر ”بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار اور اثرات کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے۔“

Navi Pillay. Photo: X
نوی پلے۔ تصویر: ایکس

ریاستِ فلسطین نے جمعہ کے روز جنوبی افریقہ کی ماہرِ قانون نوی پلے کو ۲۰۲۶ء کا امن کا نوبیل انعام دیئے جانے کا خیرمقدم کیا۔ فلسطینی وزارتِ خارجہ نے بیان دیا کہ یہ اعزاز بین الاقوامی قانون کے دفاع اور اسرائیلی جرائم کو دستاویزی شکل دینے کیلئے ان کی کوششوں کا اعتراف ہے۔ وزارت نے کہا کہ یہ کامیابی ”حق کی آواز اور مظلوموں کی آواز“ کی سربلندی کی نمائندگی کرتی ہے۔ وزارت نے جنوبی افریقہ اور فلسطینیوں سمیت دنیا بھر کے مظلوم عوام کیلئے قانون اور انصاف کو برقرار رکھنے کے سلسلے میں پلے کی زندگی بھر کی وابستگی کی ستائش کی۔ 

یہ بھی پڑھئے: نوبیل امن انعام کی فاتح نوی پِلے نے ٹرمپ کے ساتھ ایوارڈ شیئر کرنے پر مذاق کیا

وزارت نے نوی پلے کے ذریعے خاص طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں اور اسرائیل سے متعلق اقوامِ متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کی قیادت کو اجاگر کیا۔ پلے نے ۲۰۲۱ء سے ۲۰۲۵ء تک اس کمیشن کی سربراہی کی اور اسی کمیشن نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی، جنسی تشدد اور بچوں پر حملوں کو دستاویزی شکل دی۔ وزارت نے مزید کہا کہ یہ انعام بین الاقوامی قانون کے محافظوں کیلئے ایک اعتراف اور نسل کشی و جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو جوابدہ ٹھہرانے کی کوششوں کیلئے حوصلہ افزائی کا بھی کام کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ”سب کیلئے انصاف اور مساوات کے بغیر کوئی پائیدار امن قائم نہیں ہو سکتا۔“ 

یہ بھی پڑھئے: سابق جج کے نوبیل امن انعام جیتنے کے چند گھنٹوں بعد آئی سی سی پر امریکی پابندیاں

ناروے کی نوبیل کمیٹی نے ۸۵ سالہ ماہرِ قانون نوی پلے کیلئے اس انعام کا اعلان ”امن اور بین الاقوامی قانون کو فروغ دینے کی ان کی کوششوں کے اعتراف میں“ کیا۔ کمیٹی نے نشان دہی کی کہ انہوں نے بین الاقوامی عدالتوں میں اپنے کام اور اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے طور پر ”بین الاقوامی قانون کے دائرہ کار اور اثرات کو نمایاں طور پر وسعت دی ہے۔“ 

یہ بھی پڑھئے: نوبیل امن انعام نہ ملنے پر ڈونالڈ ٹرمپ برہم، ناروے پر ’ان مِٹ داغ‘ قرار دیا

نوی پلے، جو نسلی امتیاز (اپارتھائیڈ) کے دور میں ڈربن، جنوبی افریقہ میں ایک ہندوستانی تامل نژاد خاندان میں پیدا ہوئی تھیں، نے اپنے قانونی کریئر کا آغاز نسلی امتیازی سلوک کو چیلنج کرنے اور اپارتھائیڈ نظام کے مخالفین کے دفاع سے کیا۔ بعد ازاں انہوں نے اقوامِ متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جج، روانڈا کیلئے بین الاقوامی فوجداری ٹربیونل کی صدر اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف میں ایڈہاک جج کے طور پر خدمات انجام دیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن آف انکوائری کی سربراہی کی تھی جس نے اپنی ۲۰۲۵ء کی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے، ان نتائج کو اسرائیل نے مسترد کر دیا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکی طیارہ بردار جہازکی ایران جنگ سے واپسی، غذائی قلت،خودکشی کی کوشش کا انکشاف

پلے کو امن کا نوبیل امن انعام الفریڈ نوبل کی برسی کے موقع پر ۱۰ دسمبر کو اوسلو میں پیش کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK