Updated: October 10, 2026, 4:03 PM IST
| Washington
نوبیل امن انعام نہ ملنے پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے انعام کے انتخاب کو شرمناک قرار دیا اور ناروے کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ جنگی جرائم کے خلاف خدمات پر ناوی پلّے کو انعام دیئے جانے کے بعد ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ یہ اعزاز انہیں ملنا چاہئے تھا۔
ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: آئی این این۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے نوبیل امن انعام کے انتخاب کو ’’شرمناک‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے نے ناروے پر ’’ ان مٹ داغ(نہ مٹنے والا)‘‘ چھوڑ دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ انعام انہیں دیا جانا چاہئےتھا۔ جنوبی افریقہ کی جج اور انسانی حقوق کی علمبردار ناوی پلّے کو جمعہ کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے خلاف ان کی خدمات کے اعتراف میں اس باوقار انعام سے نوازا گیا۔ تاہم، ٹرمپ نے ناروے کی نوبیل کمیٹی کے فیصلے کو ’’شرمناک اور باعثِ خفت‘‘ قرار دیا۔ نیویارک کے شہر سیراکیوز میں اپنے حامیوں کی ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ناوی پلّے کا نام پہلے کبھی نہیں سنا۔ ٹرمپ نے کہا، ’’میں نے اس مخصوص شخصیت کے بارے میں کبھی نہیں سنا، لیکن پھر بھی انہیں مبارک باد دیتا ہوں۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’امریکہ، جس کی نمائندگی میں بحیثیت صدر کر رہا ہوں، کو نوبیل امن انعام ملنا چاہئے تھا، لیکن ایسا نہیں ہوا۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: غزہ: یرغمالوں کی سلامتی اسرائیل کی ترجیحات میں شامل ہی نہیں تھی: سابق امریکی سفیر
ٹرمپ کے مطابق ناوی پلّے کو انعام دینے کے فیصلے نے ناروے پر ’’ ان مٹ داغ‘‘ چھوڑ دیا ہے۔ جنوری۲۰۲۵ء میں دوبارہ وہائٹ ہاؤس میں واپسی کے بعد سے ٹرمپ نے نوبیل امن انعام حاصل کرنے کی اپنی خواہش کو کبھی پوشیدہ نہیں رکھا۔ انہوں نے متعدد تنازعات کا ذکر کیا جن کے حل میں ان کے بقول انہوں نے کردار ادا کیا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے شمالی کوریا اور جنوبی کوریا، جاپان اور شمالی کوریا، نیز چین اور تائیوان کے درمیان جنگیں چھڑنے سے روکنے میں مدد کی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: نوبیل امن انعام کی فاتح نوی پِلے نے ٹرمپ کے ساتھ ایوارڈ شیئر کرنے پر مذاق کیا
’’ہم اسے نہیں بھولیں گے‘‘، ٹرمپ
نوبیل امن انعام کے تحت طلائی تمغہ، اعزازی سند اور۱۲؍ لاکھ ڈالر کی انعامی رقم دی جاتی ہے۔ ٹرمپ نے کہا، ’’نوبیل امن انعام کو چند انتہا پسند نظریات کے حامل افراد نے ہمیشہ کیلئے بے اعتبار کر دیا ہے، جو جمہوریت کے مخالف اور درحقیقت تہذیب کے دشمن ہیں۔ اور ناروے، ہم اسے نہیں بھولیں گے۔ ‘‘ادھر، ناوی پلّے نے ٹرمپ کے ساتھ اپنا انعام بانٹنے کے حوالے سے ایک مذاق بھی کیا۔ انعام کے اعلان کے بعد ان کی پذیرائی کیلئے جمع ہونے والے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ’’اگر آپ کچھ اور تالیاں بجائیں تو شاید میں یہ انعام ٹرمپ کے ساتھ بانٹ لوں۔ ‘‘ان کا یہ طنزیہ جملہ بظاہر وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو کی جانب اشارہ تھا، جنہوں نے گزشتہ سال نوبیل امن انعام جیتنے کے بعد اپنا طلائی تمغہ ٹرمپ کو دے دیا تھا۔