کارروائی دوسرےدن بھی متاثررہی ۔گھر سے ایک کلومیٹر کےدائرے میں واقع اسکول کیلئے درخواست دینے کے ضابطے کےخلاف کچھ تعلیمی اورسماجی تنظیمیں عدالت سے رجوع ہوں گی۔
آر ٹی ای ایڈمیشن کیلئے والدین اور سرپرستوں کو دشواریوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ تصویر:آئی این این
مہاراشٹر اسکول ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کی نگرانی میں منگل سے شروع ہونے والےآر ٹی ای ۲۵؍فیصدکوٹہ کے آن لائن داخلے کا عمل دوسرے دن بھی بری طرح متاثر رہا۔ متعلقہ ویب سائٹ بندہونے سے لوگ پریشان رہے۔ اس کے علاوہ گھر سے ایک کلومیٹرکے احاطے کے اسکول میں درخواست دینے کے ضابطے کےخلاف کچھ تعلیمی اورسماجی تنظیمیں کورٹ کادروازہ کھٹکھٹانےکی تیاری کررہی ہیں کیونکہ متعدد علاقوںمیں ایک کلومیٹر کے دائرے میں کوئی ایسا اسکول نہیں ہے جس میں آرٹی ای کوٹہ کےتحت داخلہ لیاجاسکے۔ ان مسائل کو دیکھتےہوئے محسوس ہورہاہےکہ امسال داخلے میں زیادہ پریشانی ہوسکتی ہے۔
انودانیت شکشا بچائو سمیتی کے ترجمان کے نارائنن نے اس نمائندے کوبتایاکہ ’’ریاستی محکمہ تعلیم عوام کیلئے آسانی مہیا کروانے کےبجائے نئے ضابطے متعارف کرواکر پریشانی پیداکررہا ہے۔ ایک تومتعلقہ ویب سائٹ کام نہ کرنے سے دوسرے دن بھی سیکڑوں لوگ پریشان رہے۔ دوسرے درخواست کےساتھ داخلے کیلئے ذات، آمدنی، رہائش اور پیدائش کی تاریخ وغیرہ جیسے دستاویزات کو اپ لوڈ کرنے کی شرط سے بھی لوگوںکی مشکلوں میں اضافہ ہواہے۔ حکومت کو اس طرح کا فیصلہ کرنے سے قبل اس کاجائزہ لیناچاہئے۔ ‘‘ انہوںنےیہ بھی کہاکہ ’’ متعدد تبدیلیوںکےعلاوہ طالب علم کے گھر سے ایک کلومیٹر کےدائرہ میں واقع اسکول میں داخلہ لینےکی جو شرط عائدکی گئی ہے، اس کی وجہ سے سیکڑوں طلبہ داخلے سےمحروم رہ سکتےہیں کیونکہ کئی علاقوںمیں ایک کلومیٹر کے دائرہ میں آرٹی ای کےتحت داخلہ دینےوالے اسکول نہیں ہیں۔ چنانچہ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جسے فوری طورپرمنسوخ کرناچاہئے ۔ہم اس فیصلہ کے خلاف جلد ہی کورٹ کادروازہ کھٹکھٹائیں گے۔ اس کیلئے منگل کوہی ہم نےایک میٹنگ کی ہے ۔ چنددنوںمیں عدالت میں اس تعلق سے عرضداشت داخل کی جائے گی۔ ‘‘
کرلا مغرب کے علاقے جری مری کےسابق کارپوریٹر واجد قریشی جو آر ٹی ای ایڈمیشن کیلئے گزشتہ ۸، ۹؍ سال سے اپنے علاقے میں کیمپ منعقد کر رہےہیں ، نے بتایاکہ ’’ آر ٹی ای کیلئے آن لائن داخلہ کی درخواست دینے کا عمل ۱۷؍فروری سے شروع کرنےکااعلان کیاگیاتھالیکن منگل کو ایک ساتھ ویب سائٹ پر بوجھ پڑنے سے وہ رک گئی ۔ ہرسال کی طرح امسال بھی یہ مسئلہ درپیش ہے۔ ایک آدھ ہفتہ میں اُمیدواروںکی تعداد کم ہونے پر یہ مسئلہ حل ہوجائے گالیکن فی الحال ویب سائٹ جاری نہ رہنے سے لوگوںکو دقت ہورہی ہے۔‘‘ ایک سوال کے جواب میں انہوںنے بتایاکہ ’’طلبہ کی رہائش گاہ کے ایک کلومیٹرکے دائرہ میں اسکول میں داخلہ لینے کی ہدایت پریشان کن ہے کیونکہ متعدد علاقے ایسےہیں جہاں ایک کلومیٹر کے دائرہ میںآر ٹی ای کے داخلے والے اسکول نہیں ہیں۔ایسےعلاقوںکے بچے کہاں داخلہ لیں گے؟ کم ازکم ۳؍ کلومیٹر کےدائرے میں واقع اسکولوںمیں داخلہ لینےکی اجازت دی جانی چاہئے۔میرے وارڈ میں ایک کلومیٹرکے دائرہ میں ۳؍اسکول شیواجی ودیالیہ، شیشوودیالیہ اور انجمن اسلام ہیں، اس لئے ان اسکولوں میں بچوںکو داخلہ ملنےکی اُمید ہے لیکن جن علاقوںمیں ایک کلومیٹر کے دائرہ میں آرٹی ای والے اسکول نہیں ہے ،ان علاقوں کے طلبہ داخلہ کیسے لیں گے؟ ‘‘