سیول کی عدالت نے معزول صدر یون سک یول کو مارشل لاء نافذ کرنے اور قومی اسمبلی کو مفلوج کرنے کی کوشش پر بغاوت کا مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنادی۔ اس فیصلے نے جنوبی کوریا کی حالیہ سیاسی تاریخ کے بڑے بحران پر مہر ثبت کر دی۔
EPAPER
Updated: February 19, 2026, 3:58 PM IST | Seoul
سیول کی عدالت نے معزول صدر یون سک یول کو مارشل لاء نافذ کرنے اور قومی اسمبلی کو مفلوج کرنے کی کوشش پر بغاوت کا مجرم قرار دے کر عمر قید کی سزا سنادی۔ اس فیصلے نے جنوبی کوریا کی حالیہ سیاسی تاریخ کے بڑے بحران پر مہر ثبت کر دی۔
جمعرات (۱۹؍ فروری) کو جنوبی کوریا کی عدالت نے معزول صدر یون سک یول کو بغاوت کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی۔ فیصلہ سیول سینٹرل ڈسٹرکٹ کورٹ کے جج جی کوئی یون نے سنایا۔ عدالت نے کہا کہ یون کا مارشل لاء کا اعلان قومی اسمبلی کو دانستہ طور پر ’’مفلوج‘‘ کرنے کی کوشش تھا۔ جج کے مطابق، اس اقدام سے ملک کو بھاری سماجی اور سیاسی قیمت چکانی پڑی، اور سابق صدر کی جانب سے کسی پشیمانی کا واضح اظہار بھی سامنے نہیں آیا۔ واضح رہے کہ یون سک یول نے ۳؍ دسمبر ۲۰۲۴ء کو ’’ریاست مخالف قوتوں‘‘ اور شمالی کوریا سے خطرات کا حوالہ دیتے ہوئے ملک میں مارشل لاء نافذ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ یہ تقریباً ۵۰؍ برسوں میں پہلی بار تھا کہ جنوبی کوریا میں ایسا اقدام کیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: ٹرمپ نے ایران کے ساتھ سفارتی تعلقات کا اعادہ کیا
اس فیصلے کے خلاف ملک بھر میں شدید ردِعمل سامنے آیا۔ سیاستدانوں، حتیٰ کہ ان کی اپنی جماعت پیپل پاور پارٹی کے بعض لیڈروں نے بھی اسے غیر آئینی قرار دیا۔ شہریوں نے پارلیمنٹ کے باہر احتجاج کیا جبکہ اراکینِ پارلیمنٹ نے اس اقدام کے خلاف ووٹ دیا۔ یون کو ۱۴؍ دسمبر ۲۰۲۴ء کو قانون سازوں کی جانب سے مواخذے کے بعد معطل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں اپریل میں آئینی عدالت نے انہیں باضابطہ طور پر عہدے سے ہٹا دیا۔ حزبِ اختلاف کی ڈیموکریٹک پارٹی آف کوریا جس کی قیادت لی جے میونگ کر رہے تھے، نے مواخذے کی تحریک پیش کی تھی جو کامیاب رہی۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ ایران کو ہرصورت جوہری صلاحیت حاصل کرنے سے روکے گا: امریکی وزیر توانائی
دیگر سزائیں اور سیکوریٹی صورتحال
یون کے وزیر دفاع کم یونگ ہیون کو بھی قصوروار قرار دے کر ۳۰؍ سال قید کی سزا سنائی گئی۔ فیصلے کے دن سیول میں سخت سیکوریٹی انتظامات کیے گئے تھے۔ عدالت کے باہر سیکڑوں پولیس اہلکار تعینات تھے جبکہ یون کے حامی اور ناقدین دونوں بڑی تعداد میں موجود تھے۔ اگرچہ عدالت نے بغاوت اور اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات ثابت قرار دیے، تاہم استغاثہ کے اس دعوے کے لیے ناکافی شواہد پائے گئے کہ یون نے ایک سال پہلے سے مارشل لاء کی منصوبہ بندی کر رکھی تھی۔یہ فیصلہ جنوبی کوریا کی جمہوری تاریخ میں ایک اہم موڑ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں ایک سابق صدر کو بغاوت کے جرم میں عمر قید کی سزا دی گئی۔