مارشے دے زانفاں روژ میں پیر کی صبح لگی آگ نے تاریخی بازار کو مکمل طور پر تباہ کردیا؛ فائر فائٹرز نے شعلوں کو قریبی عمارتوں تک پھیلنے سے روک دیا، جبکہ حکام نے واقعے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کردیں۔
EPAPER
Updated: October 12, 2026, 7:03 PM IST | Paris
مارشے دے زانفاں روژ میں پیر کی صبح لگی آگ نے تاریخی بازار کو مکمل طور پر تباہ کردیا؛ فائر فائٹرز نے شعلوں کو قریبی عمارتوں تک پھیلنے سے روک دیا، جبکہ حکام نے واقعے کی وجہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات شروع کردیں۔
فرانس کے دارالحکومت پیرس کا قدیم ترین ڈھکا ہوا غذائی بازار پیر کی صبح شدید آتش زدگی کے بعد تباہ ہوگیا۔ شہر کے تاریخی علاقے مارے میں واقع مارشے دے زانفاں روژ میں رات گئے سے پیر کی صبح تک بھڑکنے والی آگ نے بازار کے اندرونی حصے اور دھاتی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچایا۔ حکام کے مطابق، آگ پر قابو پالیا گیا، تاہم عمارت کا دھاتی ڈھانچا اندر کی جانب جزوی طور پر منہدم ہوگیا۔ آتش زدگی کی وجہ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکی اور حکام نے اس کی تحقیقات شروع کردی ہیں۔ پیرس کے فائر بریگیڈ کے لیفٹیننٹ کرنل پیئر دے بوویے نے جائے وقوعہ پر صحافیوں کو بتایا کہ بازار مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے اور ڈھکے ہوئے بازار کی کوئی قابلِ استعمال ساخت باقی نہیں رہی۔ ان کے مطابق، آگ نے تقریباً ایک ہزار مربع میٹر کے رقبے پر پھیلے بازار کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ فائر فائٹرز نے شعلوں کو قریبی عمارتوں تک پہنچنے سے روک دیا، جس سے گنجان آباد مرکزی علاقے میں مزید نقصان کا خدشہ ٹل گیا۔
🇫🇷🚒 Un incendie spectaculaire a détruit, sans faire de victime, le marché historique des Enfants rouges, situé dans le Marais à Paris. 17 commerces sont partis en fumée, provoquant une vive émotion dans ce quartier touristique de la capitale ⤵️ https://t.co/fSk7Mum5YE
— Agence France-Presse (@afpfr) October 12, 2026
پیرس سینٹر کے میئر ایریل وائل نے بتایا کہ آگ پر قابو پالیا گیا ہے اور آس پاس کی عمارتیں متاثر نہیں ہوئیں۔ انہوں نے فائر فائٹرز کی کارروائی کو سراہتے ہوئے علاقے کے لوگوں سے rue de Bretagne کے اطراف جانے سے گریز کرنے کی اپیل کی، جہاں امدادی اور حفاظتی کارروائیاں جاری تھیں۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق، واقعے میں کسی شہری یا دکاندار کی ہلاکت کی اطلاع نہیں ملی، تاہم ایک فائر فائٹر کو کارروائی کے دوران مختصر وقت کے لیے طبیعت خراب ہونے کی شکایت ہوئی۔ مارشے دے زانفاں روژ کی بنیاد ۱۶۱۵ء میں فرانس کے بادشاہ لوئی ۱۳؍ ویں کے دور میں رکھی گئی تھی۔ چار صدیوں سے زیادہ پرانا یہ بازار پیرس کے تیسرے ضلع میں واقع ہے اور اسے شہر کا قدیم ترین ڈھکا ہوا غذائی بازار سمجھا جاتا ہے۔ ۱۹۸۲ء میں اسے تاریخی یادگاروں کی فہرست میں شامل کیا گیا تھا۔ اس کی تاریخی حیثیت کے باعث آگ سے ہونے والی تباہی صرف کاروباری نقصان نہیں، بلکہ پیرس کے ثقافتی ورثے کے لیے بھی بڑا دھچکا ہے۔
بازار کا نام، جس کا مطلب ’سرخ بچوں کا بازار‘ ہے، قریب واقع ایک یتیم خانے سے ماخوذ ہے۔ وہاں رہنے والے بچوں کو سرخ رنگ کے لباس پہنائے جاتے تھے، اسی لیے انہیں ’سرخ بچے‘ کہا جاتا تھا۔ یہ ادارہ ۱۵۳۶ء میں قائم ہوا اور ۱۷۷۲ء میں بند ہوگیا، لیکن اس سے وابستہ نام بازار کے ساتھ برقرار رہا۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ مقام تاریخی اہمیت کے علاوہ مقامی زندگی اور پیرس کی غذائی ثقافت کا بھی حصہ بن گیا۔ حالیہ برسوں میں یہ بازار مقامی شہریوں اور سیاحوں کے لیے کھانے پینے کی مقبول منزل بن چکا تھا۔ یہاں مختلف ممالک کے کھانے، تازہ غذائی اشیا، پنیر، گوشت، سبزیاں، پھول اور تیار شدہ کھانے فروخت کیے جاتے تھے۔ مشترکہ میزوں پر بیٹھ کر کھانا کھانے کی روایت نے اسے روایتی بازار کے ساتھ ایک مقبول فوڈ کورٹ کی شکل بھی دی تھی۔ فوڈ اینڈ وائن میگزین نے رواں سال اسے دنیا کے اسٹریٹ فوڈ مقامات کی فہرست میں پانچویں نمبر پر رکھا تھا۔
یہ بھی پڑھئے: نوبیل انعام برائے معاشیات ۲۰۲۶ء کا اعلان، رابرٹ ہال اور مائیکل ووڈ فورڈ فاتح
آگ کے بعد بازار کے تاجروں کو اپنے کاروبار اور روزگار کے مستقبل کے بارے میں غیر یقینی صورتِ حال کا سامنا ہے۔ بازار کی مکمل تباہی کے باعث اسٹالز اور دکانوں کو ہونے والے نقصان کا حتمی تخمینہ ابھی سامنے نہیں آیا۔ حکام نے یہ بھی اعلان نہیں کیا کہ بازار کو دوبارہ تعمیر کیا جائے گا یا متاثرہ تاجروں کے لیے متبادل جگہوں کا انتظام کب تک ممکن ہوگا۔ فی الحال تحقیقات کا بنیادی مقصد آگ لگنے کی وجہ معلوم کرنا اور اس تاریخی مقام کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لینا ہے۔