• Mon, 12 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

آواز اٹھائیں، احتجاج جاری رہنا چاہئے: شیکھر نے پرامن مظاہروں کی حمایت کی

Updated: October 12, 2026, 7:55 PM IST | Mumbai

چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے اور ووٹر فہرستوں کی خصوصی نظرثانی پر جاری تنازع کے درمیان اداکار نے شہریوں کے پُرامن احتجاج کے حق کی حمایت کی؛ مہاتما گاندھی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اجتماعی آواز حکومت کی توجہ حاصل کرسکتی ہے۔

Shekhar Suman. Photo: INN
شیکھر سمن۔ تصویر: آئی این این

بالی ووڈ اداکار اور ٹی وی میزبان شیکھر سمن نے چیف الیکشن کمشنر (سی ای سی) گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج کے دوران شہریوں کے پُرامن مظاہرے کے حق کی حمایت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ احتجاج سیاست اور سماج دونوں کا حصہ ہے اور جب لوگوں کے مطالبات پورے نہ ہوں تو انہیں اپنی آواز بلند کرنی چاہیے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب دہلی سمیت مختلف مقامات پر چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ مظاہرین کا الزام ہے کہ ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی (ایس آئی آر) کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں۔شیکھر سمن نے حال ہی میں ڈیجیٹل نیوز پلیٹ فارم ’دی لالن ٹاپ‘ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا، ’’احتجاج سیاست کا حصہ ہے اور سماج کا بھی۔ ہم بچپن سے ہی احتجاج کرتے آئے ہیں۔ جب ہمیں کوئی چیز نہیں ملتی تو ہم گھر میں بھی یہ کہتے ہوئے احتجاج شروع کردیتے ہیں کہ ہمیں یہ چاہیے یا وہ چاہیے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: آئینی حقوق کی خلاف ورزی پر عدالتوں کی مداخلت ضروری: چیف جسٹس سوریہ کانت

انہوں نے مزید کہا کہ اگر احتجاج پُرامن طریقے سے کیا جائے اور اس میں تشدد نہ ہو تو ان کے خیال میں ایسا احتجاج بالکل درست ہے اور اسے ہونا چاہیے۔ ان کے مطابق، جب کسی شخص کو اس کی خواہش کے مطابق نتیجہ نہیں ملتا تو اسے اپنی بات کے لیے مزید کوشش کرنی پڑتی ہے اور آواز اٹھانی ہوتی ہے۔ اداکار نے اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے مہاتما گاندھی کا حوالہ بھی دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر مطالبات پورے نہیں ہورہے ہیں تو لوگوں کو احتجاج کرنا چاہیے، کیونکہ جب عوام اجتماعی طور پر اپنی آواز بلند کرتے ہیں تو حکومت بھی اس پر توجہ دیتی ہے۔ شیکھر سمن نے کہا کہ ہر شخص کو اپنے نظریات اور یقین کے لیے احتجاج کرنے کا حق حاصل ہونا چاہیے، خواہ وہ کہیں بھی رہتا ہو یا سماج میں اس کی حیثیت کچھ بھی ہو۔

انہوں نے پُرامن احتجاج کو سماج کے لیے ایک مثبت عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اجتماعی طور پر آواز اٹھانے کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے۔ ان کے بیان میں زور اس بات پر تھا کہ اختلافِ رائے کا اظہار پُرامن طریقے سے کیا جائے اور شہریوں کو اپنے مطالبات پیش کرنے کا موقع ملے۔گیانیش کمار کے خلاف احتجاج ووٹر فہرستوں کی خصوصی جامع نظرثانی کے معاملے سے جڑا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں اور مظاہرین نے انتخابی فہرستوں میں مبینہ بے ضابطگیوں پر چیف الیکشن کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس معاملے پر سیاسی کشیدگی کے دوران دہلی میں مظاہرین کو حراست میں لیے جانے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ ’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق، اکتوبر کے اوائل میں جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت نہ ملنے کے بعد پولیس نے سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا تھا۔ تاہم، انتخابی فہرستوں سے متعلق الزامات اور ان پر الیکشن کمیشن کا مؤقف الگ الگ دیکھنا ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی: جنتر منتر احتجاجی فہرست سے خارج؛ سی جے پی کا ۲۴؍ گھنٹے کا الٹی میٹم

شیکھر سمن کے بیان کو اس لیے بھی اہمیت دی جارہی ہے کہ حالیہ دنوں میں تفریحی صنعت سے وابستہ دیگر شخصیات نے بھی احتجاج اور عوامی اظہارِ رائے کے معاملے پر اپنی بات رکھی ہے۔ ان کے مطابق، پُرامن احتجاج کو صرف سیاسی سرگرمی کے طور پر نہیں بلکہ سماجی زندگی کے ایک حصے کے طور پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔ شیکھر سمن کا اپنا ٹاک شو ’شیکھر ٹونائٹ‘ بھی سیاسی طنز اور تبصروں کے باعث خبروں میں رہا ہے۔ حال ہی میں اداکار سنجے دت کے ایک بیان پر تنازع پیدا ہوا تھا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ انہیں ہندوستان میں پہلے جیسا سکون محسوس نہیں ہوتا۔ بعد میں سنجے دت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں سمجھا گیا، جبکہ شیکھر سمن نے بھی اپنے مہمان کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنجے دت کو اپنے ملک اور ہم وطنوں کا بہت احترام ہے۔ شیکھر سمن کے تازہ بیان نے انتخابی تنازع کے درمیان پُرامن احتجاج، اختلافِ رائے اور شہریوں کے مطالبات پیش کرنے کے حق پر جاری بحث کو ایک بار پھر نمایاں کردیا ہے۔ ان کا مؤقف واضح ہے کہ جب عوام اپنے مطالبات کے لیے اجتماعی آواز اٹھائیں تو اس عمل کو سماج کے لیے مثبت سمجھا جانا چاہیے، بشرطیکہ احتجاج پُرامن رہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK