• Mon, 12 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیرالا اسمبلی کا تاریخی قدم، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو ہٹانے کی قرارداد منظور

Updated: October 12, 2026, 7:55 PM IST | Thiruvananthapuram

کیرالا اسمبلی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے قرارداد منظور کرلی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ وی ڈی ستیشن کی جانب سے پیش کردہ قرارداد میں ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں، اہل ووٹروں کے نام حذف کیے جانے اور الیکشن کمیشن کی غیر جانب داری پر تشویش ظاہر کی گئی۔

Chief Election Commissioner Gyanesh Kumar. Photo: INN
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار۔ تصویر: آئی این این

کیرالا قانون ساز اسمبلی نے پیر کو چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کا مطالبہ کرتے ہوئے ایک قرارداد منظور کرلی۔ قرارداد میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کی غیر جانب داری، ووٹر فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی (ایس آئی آر) کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں اور اہل شہریوں کو حقِ رائے دہی سے محروم کیے جانے کے خدشات پر شدید تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ وزیرِ اعلیٰ وی ڈی ستیشن نے یہ قرارداد ایوان میں پیش کی۔ اس میں ووٹر فہرستوں میں ترمیم کے عمل کے دوران سامنے آنے والی مبینہ خامیوں کو دور کرنے اور ان تمام اہل ووٹروں کے نام بحال کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جنہیں غلط طریقے سے فہرست سے خارج کردیا گیا تھا۔ اس قرارداد کے ساتھ کیرالا ملک کی پہلی ریاستی اسمبلی بن گئی ہے جس نے چیف الیکشن کمشنر کو عہدے سے ہٹانے کے مطالبے پر باضابطہ قرارداد منظور کی ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں ایس آئی آر کے طریقۂ کار اور چیف الیکشن کمشنر کے کردار کے خلاف احتجاج جاری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آئینی حقوق کی خلاف ورزی پر عدالتوں کی مداخلت ضروری: چیف جسٹس سوریہ کانت

ووٹر فہرستوں سے نام حذف کیے جانے پر اعتراض

قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ووٹر فہرستوں کی نظرثانی کے دوران اہل شہریوں کے نام خارج کیے جانے سے ان کے آئینی حقِ رائے دہی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ اس میں مبینہ بے ضابطگیوں کی جانچ اور ووٹر فہرستوں میں شفافیت یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ کیرالا حکومت کا مطالبہ ہے کہ جن اہل شہریوں کے نام غلط طور پر حذف کیے گئے ہیں، انہیں دوبارہ ووٹر فہرستوں میں شامل کیا جائے تاکہ کوئی بھی اہل ووٹر انتخابی عمل سے باہر نہ رہ جائے۔ ایس آئی آر انتخابی فہرستوں کی خصوصی گہری نظرثانی کا عمل ہے، جس کے تحت ووٹروں کے اندراج اور ان کی تفصیلات کی دوبارہ جانچ کی جاتی ہے۔ اس عمل پر تنازع اس وقت شدت اختیار کرگیا جب اپوزیشن جماعتوں نے الزام لگایا کہ نظرثانی کے دوران اہل ووٹروں کے نام حذف کیے جارہے ہیں اور طریقۂ کار میں شفافیت کی کمی ہے۔ یہ الزامات قرارداد اور اپوزیشن کے موقف کا حصہ ہیں؛ انہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے تسلیم شدہ حقائق کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکتا۔

الیکشن کمشنروں کے انتخاب کا طریقۂ کار بدلنے کا مطالبہ

کیرالا اسمبلی نے الیکشن کمشنروں کی تقرری کے لیے قائم کمیٹی کی تشکیل میں تبدیلی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ قرارداد میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ اس کمیٹی میں وزیرِ اعظم، لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف اور چیف جسٹس آف انڈیا کو شامل کیا جائے۔ قرارداد کے مطابق، اس تبدیلی کا مقصد الیکشن کمیشن کی خود مختاری، غیر جانب داری اور ادارہ جاتی ساکھ کو مضبوط بنانا ہے۔ موجودہ تنازع کے دوران اپوزیشن جماعتوں نے انتخابی ادارے کے کام کاج اور اس کی قیادت پر سوالات اٹھائے ہیں۔ چیف جسٹس آف انڈیا کو الیکشن کمشنروں کے انتخاب کے عمل میں شامل کرنے کی تجویز اس بحث کو نمایاں کرتی ہے کہ ایک آزاد انتخابی ادارے کی تقرری کا نظام کس طرح تشکیل دیا جانا چاہئے تاکہ اس پر سیاسی جماعتوں اور ووٹروں کا اعتماد برقرار رہے۔

یہ بھی پڑھئے: دہلی: جنتر منتر احتجاجی فہرست سے خارج؛ سی جے پی کا ۲۴؍ گھنٹے کا الٹی میٹم

وزیرِ اعلیٰ ستیشن: ووٹ کا حق جمہوریت کی بنیاد

قرارداد منظور ہونے کے بعد وزیرِ اعلیٰ وی ڈی ستیشن نے کہا کہ ووٹ ڈالنے کا حق جمہوریت کی بنیاد ہے اور کسی بھی ادارے کو شہریوں کے اس آئینی حق کو پامال کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا، ’’ہمارا موقف بالکل واضح اور غیر مبہم ہے۔ ووٹ کا حق محفوظ ہونا چاہئے، آئین کی بالادستی برقرار رہنی چاہئے اور جمہوریت کی جیت ہونی چاہئے۔ کیرالا آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے لیے مضبوطی سے کھڑا ہے۔‘‘ ستیشن کے مطابق، ووٹر فہرستوں میں موجود خامیوں کو دور کرنا اور اہل شہریوں کے حقِ رائے دہی کا تحفظ کرنا انتخابی نظام پر اعتماد برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔

قرارداد سے فوری برطرفی نہیں ہوگی

اسمبلی کی قرارداد کو چیف الیکشن کمشنر کی فوری برطرفی کے حکم کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کے ذریعے ریاستی اسمبلی نے گیانیش کمار کو عہدے سے ہٹانے کے لیے اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ چیف الیکشن کمشنر کی برطرفی کا آئینی طریقۂ کار الگ ہے اور اس کے لیے متعلقہ آئینی شرائط پوری کرنا ضروری ہیں۔ اس لیے قرارداد کی منظوری ایک اہم سیاسی اور ادارہ جاتی پیش رفت ہے، لیکن اس سے گیانیش کمار خود بخود اپنے عہدے سے برطرف نہیں ہوجاتے۔ ایس آئی آر پر جاری تنازع، ووٹر فہرستوں سے نام حذف کیے جانے کے اعتراضات اور الیکشن کمیشن کی تقرری کے نظام میں تبدیلی کے مطالبات نے انتخابی عمل کی غیر جانب داری اور اہل شہریوں کے حقِ رائے دہی کے تحفظ کو قومی سیاسی بحث کا اہم موضوع بنادیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK