Updated: October 12, 2026, 7:55 PM IST
| Bijnor
اتر پردیش کے ضلع بجنور کے نجیب آباد میں پولیس نے مسجد کے موذن محمد فیضان کو اذان کی آواز مقررہ حد سے زیادہ ہونے کے الزام میں گرفتار کرکے ۱۴؍ دنوں کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ پولیس نے نجیب الدولہ مسجد کا لاؤڈ اسپیکر بھی ضبط کرلیا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کرشن کمار بشنوئی کو سرکاری انٹر کالج کے قریب سے ظہر کی اذان کی آواز سنائی دی۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں تھی۔
علامتی تصویر: آئی این این
اتر پردیش کے ضلع بجنور کے قصبہ نجیب آباد میں مسجد سے اذان کی آواز بلند ہونے کے معاملے میں پولیس نے موذن محمد فیضان کو گرفتار کرکے ۱۴؍ دنوں کی عدالتی تحویل میں بھیج دیا۔ پولیس نے مسجد کا لاؤڈ اسپیکر بھی ضبط کرلیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی مقررہ صوتی حدود کی مبینہ خلاف ورزی پر کی گئی۔ یہ واقعہ سنیچر کو اس وقت پیش آیا جب سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کرشن کمار بشنوئی عوامی شکایات کے ازالے کے لیے منعقد ہونے والے ’سمادھان دیوس‘ پروگرام میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔ نجیب آباد کے سرکاری انٹر کالج کے قریب واقع نجیب الدولہ مسجد میں دوپہر تقریباً ۱۲؍ بج کر ۴۰؍ منٹ پر ظہر کی اذان دی جارہی تھی۔ ایس پی کو راستے سے اذان کی آواز سنائی دی، جس کے بعد انہوں نے مقامی پولیس کو مسجد کا معائنہ کرنے کی ہدایت دی۔ پولیس اہلکار مسجد پہنچے اور لاؤڈ اسپیکر ضبط کرلیا۔ اس کے بعد سب انسپکٹر سوربھ سنگھ کی جانب سے نجیب آباد پولیس اسٹیشن میں شکایت درج کرائی گئی۔ پولیس نے محمد فیضان کو گرفتار کرکے سب ڈویژنل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا، جہاں سے انہیں ۱۴؍ دنوں کے لیے عدالتی تحویل میں بھیج دیا گیا۔
یہ بھی پڑھئے: آئینی حقوق کی خلاف ورزی پر عدالتوں کی مداخلت ضروری: چیف جسٹس سوریہ کانت
پولیس کا دعویٰ: مقررہ حد سے زیادہ تھی آواز
پولیس کے مطابق مسجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کی اجازت نہیں تھی اور اذان کی آواز مقررہ حدود سے زیادہ تھی۔ بعض رپورٹوں میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ لاؤڈ اسپیکر مسجد کے اندر اس طرح نصب تھا کہ باہر سے دکھائی نہیں دیتا تھا۔ پولیس شکایت میں دعویٰ کیا گیا کہ بلند آواز سے بزرگوں، بچوں اور بیمار افراد کو پریشانی ہوسکتی تھی اور اس سے مقامی لوگوں میں ناراضگی پیدا ہوئی۔ تاہم، دستیاب رپورٹوں میں یہ واضح نہیں کیا گیا کہ اذان کے وقت آواز کی سطح کتنے ڈیسیبل تھی۔ یہ تفصیل بھی سامنے نہیں آئی کہ کارروائی سے قبل ڈیسیبل میٹر کے ذریعے آواز کی باضابطہ پیمائش کی گئی تھی یا نہیں۔ اس لیے فی الحال معاملے میں بلند آواز اور صوتی ضوابط کی خلاف ورزی پولیس کے الزامات ہیں؛ آواز کی پیمائش کے نتائج عام طور پر دستیاب معلومات میں موجود نہیں ہیں۔
شہر قاضی نے گرفتاری پر سوال اٹھائے
نجیب آباد کے شہر قاضی عفان الحق نے پولیس کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ موذن کو گرفتار کرکے جیل بھیجنے کے بجائے پہلے تنبیہ دی جانی چاہئے تھی۔ اخبار امر اجالا کے مطابق، قاضی عفان الحق نے کہا، ’’مساجد کے موذن مذہبی شخصیات ہوتے ہیں۔ پولیس کو چاہئے تھا کہ وہ انہیں غلطی نہ دہرانے کی ہدایت دے کر چھوڑ دیتی۔‘‘ ان کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعتراض صرف لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے ضوابط پر نہیں بلکہ مبینہ خلاف ورزی کے خلاف اختیار کیے گئے طریقۂ کار اور کارروائی کی شدت پر بھی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی: جنتر منتر احتجاجی فہرست سے خارج؛ سی جے پی کا ۲۴؍ گھنٹے کا الٹی میٹم
بیٹ اہلکار معطل، مذہبی مقامات کو ہدایت
واقعے کے بعد ایس پی کرشن کمار بشنوئی نے متعلقہ بیٹ اہلکار للت کمار کو معطل کردیا۔ حکام نے کہا کہ مذہبی مقامات پر مقررہ حدود سے زیادہ آواز میں لاؤڈ اسپیکر چلانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ایس پی کے مطابق، مذہبی رہنماؤں کو صوتی آلودگی سے متعلق قواعد کی پابندی کے بارے میں متنبہ کیا گیا ہے۔ تمام تھانہ انچارجوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اپنے علاقوں کے بیٹ کانسٹیبلوں سے اس سلسلے میں حلف نامے لیں کہ متعلقہ علاقوں میں شور و غل کے قوانین پر عمل ہورہا ہے۔ حکام نے خبردار کیا ہے کہ آئندہ خلاف ورزی سامنے آنے پر متعلقہ تھانہ انچارج اور بیٹ کانسٹیبل کے خلاف بھی کارروائی کی جاسکتی ہے۔
گزشتہ ماہ بھی لاؤڈ اسپیکروں کے خلاف مہم
یہ کارروائی بجنور میں مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال کو ضابطوں کے مطابق رکھنے کے لیے جاری مہم کے دوران سامنے آئی ہے۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق، ستمبر میں ضلع انتظامیہ نے مساجد، مندروں اور گردواروں میں مقررہ صوتی حدود سے زیادہ آواز میں چلنے والے لاؤڈ اسپیکروں کے خلاف کارروائی کی تھی۔ امر اجالا کی رپورٹ کے مطابق، اس مہم کے دوران ۱۳۲۳؍ مساجد، ۱۱۱۶؍ مندروں اور ۷۰؍ گردواروں سے لاؤڈ اسپیکر ہٹائے گئے۔ باقی آلات کی آواز بھی مقررہ حدود کے مطابق رکھنے کی ہدایت دی گئی تھی۔ یہ کارروائی اتر پردیش میں مذہبی مقامات سمیت عوامی مقامات پر صوتی آلودگی کے ضوابط پر سختی سے عمل کرانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔
اذان اور لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر الہ آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ
مئی ۲۰۲۰ء میں الہ آباد ہائی کورٹ نے واضح کیا تھا کہ اذان دینا مذہبی آزادی کے تحت محفوظ ہوسکتا ہے، لیکن لاؤڈ اسپیکر یا دیگر آواز بڑھانے والے آلات کے ذریعے اذان نشر کرنا اسلام کا لازمی مذہبی عمل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ عدالت نے یہ بھی کہا تھا کہ مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر اور پبلک ایڈریس سسٹم کا استعمال متعلقہ ضوابط اور ضروری اجازت کے تابع ہے۔ اس فیصلے میں اذان دینے کے حق اور اسے لاؤڈ اسپیکر کے ذریعے نشر کرنے کے حق کے درمیان فرق واضح کیا گیا تھا۔ صوتی آلودگی کے ضوابط کے تحت رہائشی علاقوں میں عمومی ماحولیاتی شور کی حد دن کے وقت ۵۵؍ ڈیسیبل اور رات کے وقت ۴۵؍ ڈیسیبل مقرر ہے۔ رات ۱۰؍ بجے سے صبح ۶؍ بجے تک لاؤڈ اسپیکر اور پبلک ایڈریس سسٹم کے استعمال پر عمومی پابندی بھی نافذ ہے، جس میں قواعد کے مطابق محدود استثنا ہوسکتے ہیں۔ بجنور کے موجودہ معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کے لیے مطلوبہ اجازت موجود تھی، آواز کی مقررہ حدود کی خلاف ورزی ہوئی تھی یا نہیں، اور کارروائی کے لیے کیا شواہد پیش کیے گئے ہیں۔ پولیس نے فی الحال گرفتاری اور عدالتی تحویل کی تصدیق کی ہے، جبکہ آواز کی مخصوص ڈیسیبل سطح کی تفصیل دستیاب نہیں ہے۔
یہ بھی پڑھئے: دہلی: جنتر منتر احتجاجی فہرست سے خارج؛ سی جے پی کا ۲۴؍ گھنٹے کا الٹی میٹم
صوتی آلودگی کے ضوابط پر عمل درآمد کا معاملہ
بجنور کا یہ واقعہ مذہبی مقامات پر لاؤڈ اسپیکروں کے استعمال، شہریوں کو شور سے تحفظ اور مذہبی آزادی کے دائرۂ کار سے متعلق جاری بحث کو دوبارہ سامنے لاتا ہے۔ قانونی طور پر اذان دینے اور لاؤڈ اسپیکر استعمال کرنے کے معاملات الگ ہیں۔ مذہبی مقامات کو بھی صوتی آلودگی سے متعلق قابلِ اطلاق قواعد کی پابندی کرنا ہوتی ہے، جبکہ کسی مخصوص خلاف ورزی کے تعین کے لیے متعلقہ اجازت، صوتی حدود اور دستیاب شواہد اہم ہوتے ہیں۔ محمد فیضان کو عدالتی تحویل میں بھیجنے اور لاؤڈ اسپیکر ضبط کیے جانے کے بعد معاملے میں پولیس کے الزامات اور ان کی قانونی بنیاد اہم رہیں گے۔