خامنہ ای کی تدفین میں کئی ملکوں کے لوگ شامل، سوگواروں کا بے مثال نظم و ضبط، ہر آنکھ اشکبار ۔ امریکہ و اسرائیل سے انتقام کے نعرے
EPAPER
Updated: July 10, 2026, 8:55 AM IST | Mashhad
خامنہ ای کی تدفین میں کئی ملکوں کے لوگ شامل، سوگواروں کا بے مثال نظم و ضبط، ہر آنکھ اشکبار ۔ امریکہ و اسرائیل سے انتقام کے نعرے
۶؍دن تک جاری رہنے والی آخری رسومات کے بعد ایران کے سابق رہبر اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کو جمعرات کو ملک کے شمال مشرقی شہر مشہد میں سپردِ خاک کردیا گیا۔اس موقع پر لاکھوں افراد مشہد کی سڑکوں پر موجود تھے۔ بہت سے لوگ ایرانی پرچم لہرا رہے تھے جبکہ بعض افراد ایسے بینرز اٹھائے ہوئے بھی نظر آئے جن پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو قتل کرنے کے نعرے درج تھے۔یاد رہے کہ علی خامنہ ای فروری میں ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ کے ابتدائی گھنٹوں کے دوران مارے گئے تھے اور جمعرات کو ان کی تدفین۶؍ روزہ منظم تقریب کا اختتامی مرحلہ تھی ۔ اس عرصے کے دوران جہاں ان کے جسد خاکی کو تہران میں عوامی دیدار کے لئے رکھا گیا وہیں اسے ہمسایہ ملک عراق بھی لے جایا گیا جہاں نجف اور کربلا میں ان کی نمازِ جنارہ میں کثیر تعداد میں سوگواروں نے شرکت کی۔ایرانی حکام کا دعویٰ ہے کہ اس مدت کے دوران ملک کے مختلف علاقوں اور دنیا بھر سے تقریباً ایک کروڑ پچاس لاکھ افراد نے انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا۔علی خامنہ ای کو مشہد میں شیعہ مسلک کے آٹھویں امام، امام رضا کے روضے کے احاطے میں دفن کیا جائے گا۔بی بی سی فارسی کے مطابق بدھ اور جمعرات کو امریکی حملوں کی وجہ سے تہران سے مشہد جانے والی ریل سروس متاثر ہوئی ہے۔ اس کے نتیجے میں علی خامنہ ای کی آخری رسوم میں شرکت کے لئے سفر کرنے والے بہت سے مسافروں کو ٹرینوں سے اتار کر بسوں کے ذریعے مشہد روانہ کیا گیا۔
ایران اور اردن میں حملوں کی اطلاعات کے درمیان ایران کے سابق سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے جنازے کا جلوس شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد کی سڑکوں سے گزرا۔تدفین سے قبل گزشتہ چھ روز سے جنازے کی مختلف تقریبات جاری تھیں جن میں پیرکو دارالحکومت تہران میں ۱۰؍ کلومیٹر طویل جلوس بھی شامل تھا جو شہر کے معروف انقلاب اسکوائر سے ہو کر گزرا۔دوسری جانب ایران کے سرکاری میڈیااور آیت اللہ علی خامنہ ای کی سرکاری ویب سائٹ نے شہید ایرانی سپریم لیڈر کی رہائش گاہ کا ویڈیو جاری کردیا۔ ویڈیو میں امریکی اور اسرائیلی حملے کانشانہ بننے والے کمپاؤنڈ کے ایک حصے کو دکھایا گیا ہے۔ علی خامنہ ای کی رہائش گاہ پر حملہ جنگ کے پہلے ہی روز کیا گیا تھا جس میں آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے خاندان کے متعدد افراد شہید ہوگئے تھے۔