بس ڈرائیوروں کی ۲؍دن سے جاری ہڑتال سے مسافر بے حال

Updated: October 26, 2022, 8:37 AM IST | saeed Ahmed | Mumbai

مرول اوردندوشی ڈپو میں دوسر ےدن بھی کام ٹھپ رہا اور مسافر پریشان رہے ۔کمپنی نے انتباہ دیتے ہوئے ۴۸؍گھنٹے میںکام پرلوٹنے کا نوٹس جاری کیا مگر ڈرائیور جھکنے کو تیار نہیں

The drivers` strike continued for the second day outside the Marul depot and the company`s warning had no effect on them.
مرول ڈپو کے باہر دوسرے دن ڈرائیوروں کی ہڑتال جاری رہی اورکمپنی کے انتباہ کا ان پرکوئی اثر نہیںہوا۔

بس ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کی جاری ہڑتال سے مسافر بے حال ہیں۔ دیوالی میںانہیں مزید دقتوں کا سا منا کرنا پڑرہا ہے۔حالات یہ ہیں کہ مرول اوردندوشی ڈپو میںدوسرے دن بھی بسیں بند رہیںاورڈرائیور ڈپوکےباہر بیٹھے نعرے بازی کرتے رہے۔
 اس پر۲۴؍اکتوبر کو سٹی بس سروس کمپنی نے ہڑتال کرنے والے ملازمین کو۴۸؍گھنٹے میںکام پرلوٹنے کا انتباہ دیتے ہوئے نوٹس جاری کیا ہے لیکن ان پرکوئی اثر نہیںہوا اور انہوں نےہڑتال جاری رکھی ہے ۔ ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ جب تک مطالبات پورے نہیں کئےجاتے اس وقت تک وہ احتجاج جاری رکھیں گے۔ مرول ڈپو میں مذکورہ کمپنی کے توسط سے چلائی جانے والی پرائیویٹ اے سی بسیں۱۱۴؍ہیںاور۳۰۰؍ ڈرائیور ہیں جبکہ دندوشی میں۸۰؍بسیں اور ڈرائیوروں کی تعداد ۲۰۰؍ہے۔ چونکہ کنڈکٹر س بسوں میںنہیں ہوتے وہ بس اسٹاپ پر ہی ٹکٹ دیتے ہیں اس لئے ان کی تعداد شامل نہیںکی گئی ہے۔
مسافروں کی پریشانی مگربیسٹ کی آمدنی جاری 
 اس ہڑتال کاخمیازہ مسافرو ںکوبھگتنا پڑرہا ہے اوروہ اپنی منزل تک پہنچنے کےلئے پریشان ہورہےہیں۔ مذکورہ دونوںڈپو سےیومیہ ہزاروں مسافر ایک جگہ سے دوسری جگہ جاتے ہیںلیکن اس وقت ان کوکافی پریشانی اٹھانی پڑرہی ہے۔دوسری جانب بیسٹ کا وہی پرانا جواب ہےکہ چونکہ یہ ہنسا سٹی بس پرائیویٹ لمیٹیڈ کمپنی کا اورملازمین کا مسئلہ ہے اس سے بیسٹ کا کوئی لینا دینا نہیںہے۔
 بیسٹ کے پی آر او منوج وراڈے کے مطابق بسیں جب نہیںچلتی ہیںتوایک بس کے نہ چلنے کے حساب سےکمپنی پریومیہ ۵؍ہزارروپے جرمانہ عائد کیا جاتا ہے اوران ۲؍ دنوں ڈپومیںجتنی بسیں نہیںچلی ہیں،اس کے عوض جرمانہ وصول کیا جائےگا۔ظاہر ہے کہ بیسٹ انتظامیہ جرمانہ وصول کرکے اپنے خزانہ بھررہا ہے اور معاہدہ کاحوالہ  دے رہا ہے لیکن مسافروں کی پریشانی کا ازالہ کیسے  ہوگا ؟مسافروں کو کیسے راحت ملے گی؟ اس کا بیسٹ کے پاس کوئی انتظام نہیں ہے ۔ بیسٹ کی جانب سے کچھ بسیںضرور چلائی جاتی ہیں لیکن ان کی تعداد اتنی کم ہوتی ہے کہ برائے نام مسافر ہی اس سے فائدہ اٹھاپاتے ہیں۔
۴۸؍ گھنٹے میں کام پرلوٹنے کا نوٹس جاری کیا 
 سٹی بس سروس پرائیویٹ لمیٹیڈ کی جانب سے دو نوں ڈپو کے ملازمین کو۲۴؍اکتوبر کو نوٹس جاری کیا گیاہے (نوٹس کی کاپی انقلاب کے پاس موجود ہے )کہ آپ لوگوںنے کوئی پیشگی اطلاع نہیںدی اورنہ ہی بسیں نہ چلانے کا کوئی معقول عذر پیش کیا ۔ یہ دیوالی کا موقع ہے اورآپ لوگ جانتے ہیںکہ لوگ اپنے رشتہ داروں کے یہاں جاتے ہیںایسے میںان کوسخت پریشانی ہورہی ہے ۔ اس لئے آپ لوگوں کومتنبہ کیاجاتا ہے کہ ۴۸؍ گھنٹے کے اندر کام پرلوٹئے ورنہ سخت ایکشن لیا جائے گا۔اس لئے بھی کہ آپ کایہ عمل غیرقانونی اورغیر اخلاقی بھی ہے۔ 
ملازمین کے مطالبات اورفیصلے پراٹل 
 انقلاب نے ہڑتال کرنے والے مرول اور دندوشی ڈپو کے کچھ ڈرائیوروں سے بات چیت کی، ان کانام مخفی رکھا جارہا ہے ۔ انہوںنے کہاکہ ’’کمپنی دیوالی کا حوالہ دے رہی ہےکہ مسافروں کو پریشانی ہورہی ہے اسے ہماری پریشانی کااحساس نہیں ہے ؟ ۵؍ہزارروپے بونس کا اعلان کیا گیا وہ بھی آدھا ادھورا دیا گیا۔دوسرے بیسٹ کے ڈرائیور جو کام کرتے ہیں وہی کام ہمارا ہے تو ہمارے ساتھ بھید بھاؤ کیوں کیا جارہا ہے ؟ ہمیں بھی ان ڈرائیوروں کی طرح سے تنخواہ اور دیگر مراعات دی جائیں۔اسکے ساتھ ہی بہت سی بسیں خراب ہیں انہیں بنوائے بغیرہم سے زبردستی ان بسوں کوچلانے کو کہا جارہا ہے ۔ اسکے علاوہ معقول عذر کے باوجود چھٹی لینے پرتنخواہ کاٹ لی جاتی ہے،کیا اس طرح کمپنی ہمارے ساتھ نا انصافی نہیں کررہی ہے۔ اس لئے ہمارے مطالبات پر توجہ دی جائے ورنہ ہڑتال جاری رہے گی۔‘‘

BEST BUS Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK