پدم شری جیسا اعزاز پانے والے بشیر بدر نے ۱۵؍ فروری ۱۹۳۵ء کو کانپور میں آنکھیں کھولی تھیں (کئی جگہوں پر ایودھیا لکھا گیا ہے مگر اُنہوں نے خود کانپور لکھا تھا)۔ پہلے بی اے، پھر ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 4:17 PM IST | Mumbai
پدم شری جیسا اعزاز پانے والے بشیر بدر نے ۱۵؍ فروری ۱۹۳۵ء کو کانپور میں آنکھیں کھولی تھیں (کئی جگہوں پر ایودھیا لکھا گیا ہے مگر اُنہوں نے خود کانپور لکھا تھا)۔ پہلے بی اے، پھر ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔
دورِ حاضرکے مقبول جدید شاعر، کئی کتابوں کے مصنف، ادبی جریدوں میں اہتمام کے ساتھ شائع ہونے والے اور مشاعروں کی کامیابی کی ضمانت سمجھے جانے والے ڈاکٹر بشیر بدر نے کم و بیش دس سال بستر علالت پر رہنے کے بعد اس جہانِ فانی سے منہ موڑ لیا۔ اپنے خوبصورت لب و لہجے، شگفتہ لفظیات اور اچھوتے خیالات سے قارئین و سامعین کو متاثر کرنے والے ڈاکٹر بشیر بدر کے بارے میں یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ وہ اُن مٹھی بھر شعراء میں سے ایک تھے جنہوں نے ایک عہد پر حکمرانی کی اور اپنے اشعار سے ہر اُس شخص کا دامن بھر دیا جو شعر و سخن کا ذوق رکھتا ہے۔ ڈاکٹر بشیر بدر کی شہرت اور مقبولیت اُردو داں حلقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ وہ دیگر زبانوں کے باذوق حلقوں میں بھی پسندیدگی کی نگاہ سے دیکھے گئے۔ انتقال کے وقت اُن کی عمر ۹۱؍ سال تھی۔ بھوپال میں واقع رہائش گاہ سے اُن کا جسد خاکی بابِ علی میدان کے قریب مسجد قدیمی میں لے جایا گیا جہاں نمازِ جنازہ ادا کی گئی۔ بعد ازیں اُنہیں بڑا باغ قبرستان میں سپرد خاک کیا گیا۔ اُن کے پسماندگان میں بیوہ ڈاکٹر راحت بدر کے علاوہ ایک بیٹا طیب بدر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: ’’فاروق سید ادب اطفال کی صف اوّ ل میں شمار ہونگے‘‘
اکائی، آمد، امیج، آس اور آسمان جیسی شعری تصانیف کے خالق ڈاکٹر بشیر بدر کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اُن کے متعدد اشعار مثلاً ’’ذرا فاصلے سے ملا کرو، اُجالے اپنی یادوں کے، دشمنی جم کر کرو، کچھ تو مجبوریاں رہی ہوں گی، مسافر ہیں ہم بھی، بڑے لوگوں سے ملنے میں، انہی راستوں نے جن پر کبھی تم تھے، شہرت کی بلندی بھی‘‘ وغیرہ زبانِ زد خاص و عام ہیں، گویا انہیں ضرب المثل کا درجہ حاصل ہے۔
قارئین کو یاد دِلا دیں کہ ۱۹۸۶ء میں جب میرٹھ میں فرقہ وارانہ فساد پھوٹ پڑا تھا تب بشیر بدر کا مکان بھی شر پسندوں کے ’’عتاب‘‘ کا شکار ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ تب ہی اُنہوں نے ’’لوگ ٹوٹ جاتے ہیں ایک گھر بنانے میں، تم ترس نہیں کھاتے بستیاں جلانے میں ‘‘ کہا تھا۔
پدم شری جیسا اعزاز پانے والے بشیر بدر نے ۱۵؍ فروری ۱۹۳۵ء کو کانپور میں آنکھیں کھولی تھیں (کئی جگہوں پر ایودھیا لکھا گیا ہے مگر اُنہوں نے خود کانپور لکھا تھا)۔ پہلے بی اے، پھر ایم اے اور پھر پی ایچ ڈی کی تعلیم حاصل کی۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے والے بشیر بدر کو بحیثیت لیکچرر پہلی ملازمت علی گڑھ مسلم یونیورسٹی ہی میں ملی تھی مگر میرٹھ کالج میں موقع ملنے کے بعد وہ میرٹھ چلے گئے۔ میرٹھ کالج سے وہ کم و بیش ۱۷؍ برس وابستہ رہے جہاں پہلے لیکچرر مقرر ہوئے، بعد ازاں شعبۂ اُردو کے صدر منتخب کئے گئے۔ بلاشبہ، وہ شاعری ہی کے حوالے سے جانے جاتے ہیں مگر اُنہوں نے نثر بھی لکھی۔ ’’آزادی کے بعد اُردو غزل کا تنقیدی مطالعہ‘‘ اور ’’بیسویں صدی میں غزل‘‘ (حالیؔ سے ۱۹۷۴ء تک) جیسی تصانیف اس کا ثبوت ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: تخلیقی قوت و سلیقۂ اظہار کے سبب ادیب اپنے عہد اور انسانیت کا ترجمان بن جاتا ہے
ڈاکٹر بشیر بدر پر تقریباً ہر بڑے قلمکار فرمان فتح پوری، گوپی چند نارنگ، شمس الرحمان فاروقی، ڈاکٹر وزیر آغا، نامور سنگھ، اسلوب احمد انصاری اور پھر شہر یار، ندا فاضلی اور گلزار نے لکھا اور خوب لکھا مگر اپنی شعری صلاحیتوں کے نکھار کیلئے اُنہوں نے جن اکابرین کا نام لیا وہ آل احمد سرور اور خلیل الرحمان اعظمی کا ہے، بقول اُن کے: ’’علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں میرے لسانیات کے پروفیسر آل احمد سرور اور خلیل الرحمان اعظمی کی تربیت سے میرے اندر وہ اعتماد پیدا ہوگیا ہے جو مَیں ماضی کا احترام کروں اور حال کے فرائض کو پہچانوں۔ ‘‘ (بحوالہ: ’’اجنبی پیڑوں کے سائے‘‘ اشاعت ۲۰۰۸ء)۔ اسی کتاب میں محمد توفیق خاں (سرونج) نے اُن کے فن پر اظہار ِ خیال کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’’بشیر بدر کے صرف بیس شعر اُن کو زندہ رکھنے کیلئے کافی ہیں اور وہ شعر اُن کے وہ ہیں جو آج ساری دُنیا میں مشہور ہیں، ظاہرہے کہ ان شعروں میں جان تھی ورنہ بشیر بدر نے اندرا گاندھی سے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ ان کا شعر امریکہ میں جاکر سنائیں نہ بشیر بدر نے اُس لڑکی سے کہا تھا کہ وہ اس شعر کو یاد کرلے جس کی موت ایک فضائی حادثے میں ہوئی تھی اور اس کی ڈائری میں جسے وہ جان سے زیادہ عزیز رکھتی تھی، یہ شعر لکھا ہوا تھا: ’اُجالے اپنی یادوں کے ہمارے ساتھ رہنے دو، نہ جانے کس گلی میں زندگی کی شام ہوجائے‘۔ یہ وہ شعر ہے جو اندرا گاندھی کے مخصوص کمرے میں ایک فریم میں آویزاں تھا جسے اکثر اندرا گاندھی گنگناتی تھیں۔ ‘‘ (بحوالہ کتاب ہذا)
یہ بھی پڑھئے: ’’آپ غالب کو غلط سمجھے ہیں‘‘
بشیر بدر کی شخصیت اور فن پر جن رسائل نے ضخیم نمبر شائع کئے اُن میں بھوپال سے شائع ہونے والا ’’فکر و آگہی‘‘ (۳۸۸؍ صفحات) اور سرونج سے شائع ہونے والا ’’انتساب‘‘ (۷۲۸؍ صفحات) شامل ہیں۔
مشاعروں میں ترنم اور تحت اللفظ، ہر دو طریقے سے شعر سنانے والے ڈاکٹر بشیر بدر کی شرکت سے مشاعروں کے معیار، وقار اور اعتبار میں اضافہ ہوتا تھا۔ اُنہوں نے عوامی پسند ناپسند یا داد کیلئے شعر نہیں کہے بلکہ جو کچھ کہا اُسی پر داد پائی۔ اُن کے جس شعر کا ایک مصرعہ اس خبر کی سرخی میں استعمال ہوا ہے وہ مکمل شعر یوں ہے:
وہی شہر ہے وہی راستے، وہی گھر ہے اور وہی لان بھی= مگر اس دریچے سے پوچھنا وہ درخت انار کا کیا ہوا‘‘
ڈاکٹر بشیر بدر کی رحلت کی خر ہندی، انگریزی سمیت کئی زبانوں کے اخبارات میں شائع ہوئی ہے جو اپنے آپ میں بڑی بات ہے۔