مسلمانوں نے ذمہ داری کا ثبوت دیا ،احتیاط کے ساتھ اور برادران وطن کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے قربانی کی گئی ، برادران وطن کی اہم شخصیات نے بھی ستائش کی۔
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 3:12 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
مسلمانوں نے ذمہ داری کا ثبوت دیا ،احتیاط کے ساتھ اور برادران وطن کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے قربانی کی گئی ، برادران وطن کی اہم شخصیات نے بھی ستائش کی۔
عید الاضحی میں محتاط انداز میں قربانی کرنے کی اپیلوں کا اثر نظر آیا۔ خطبہ عیدالضحی میں ائمہ کرام نے بھی سنت ابراہیمی کے فلسفے ، تاریخی اہمیت، پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے نام ونمود اور تشہیر سے بچنے کی تلقین کی۔ شہر ومضافات میں عید قرباں جوش وخروش سے منائی گئی اور اچھی بات یہ رہی کہ کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہیں ہوا۔نمائندہ انقلاب نے اس تعلق سے شہر ومضافات کے الگ علاقوں میں ذمہ دار اشخاص سے بات چیت کی اور یہ جاننا چاہا کہ موجودہ حالات کے تناظر میں جس طرح کی اپیلیں کی گئی تھیںان پر کتنی توجہ دی گئی اور خود انہوں نے کیا دیکھا اور محسوس کیا۔
یہ بھی پڑھئے : بھیونڈی بس اسٹیشن کی از سر نو تعمیر کےلئے بجٹ منظور
اطمینان بخش حالات رہے
مولانا سید معین الدین اشرف عرف معین میاں ، جن کا قیام آگری پاڑہ میں ہے اور انہوں نے خود ویڈیو پیغام بھی جاری کیا تھا، نے بتایا کہ اپیلوں کا اثر نظر آیا۔ صاف صفائی پر خاص توجہ دی گئی۔ اسی طرح عمارتوں کے احاطے یا کنارے قربانی کرنے والوں نے بھی براداران وطن کے جذبات کا خیال رکھتے ہوئے پردے کے اہتمام کے ساتھ قربانی کی۔
یہ بھی پڑھئے : شاہ پور: ایک ہی خاندان کے ۲۲؍افراد غذائی سمیت کا شکار
معین میاں کے مطابق ہمارے جاننے اور ماننے والے شہر اور مضافات کے جن دوسرے علاقوں ہیں وہاں سے بھی یہی اطلاعات ملیں کہ مسلمانوں نے سنت ابراہیمی کی ادائیگی جوش وخروش سے تو کی مگر احتیاط کے ساتھ اور ویڈیو گرافی کے بھی گریز کیا، حتیٰ کہ قربانی کے تعلق سے کی گئی اپیل کی تو برادران وطن کی اہم شخصیات نے فون کرکے ستائش کی اور اس پہل کو سراہا۔ اس سے ایک اچھا پیغام عام ہوا اور پولیس اور انتظامیہ کی جانب سے بھی تعاون کیا گیا۔
باندرہ میں مقیم محمد صدیق تاراپور والا نے بتایا کہ قربانی میں ضابطوں کی تکمیل کی گئی، صفائی پر خاص توجہ دی گئی، گوشت وغیرہ لانے میں بھی احتیاط برتی گئی ۔ اس کے علاوہ جانور ذبح کرنے کے وقت ویڈیو نہ بنانے کے تئیں جس طرح توجہ دلائی گئی تھی اس کا بھی اثر نظر آیا۔ اس طرح مجموعی طور پر عیدقربان خیریت سے گزری اور کسی کو شکایت کا موقع بھی نہیں ملا۔
یہ بھی پڑھئے : کلیان: عید الاضحی کی نماز کے دوران ہندو تنظیموں کا گھنٹہ ناد آندولن
نوی ممبئی سی ووڈ میں مقیم مولانا محمد حسین پٹیل نے بتایا کہ ہمارے علاقے میں مکمل امن وامان رہا اور لوگوں نے اپنی استطاعت کے مطابق ضابطے کی تکمیل کرتے ہوئے قربانی کی۔ مولانا سے یہ پوچھنے پر کس طرح کی احتیاط برتی گئی تو انہوں نے بتایا کہ سب سے خاص بات صاف صفائی پر توجہ تھی اور پردے وغیرہ کے اہتمام کے ساتھ قربانی کی گئی۔ اس جانب انتظامیہ نے تو توجہ دلائی تھی مگر اس سے زیادہ اہم یہ تھا کہ خود قربانی کرنے والوں نے اسے محسوس کرتے ہوئے اپنی ذمہ داری ادا کی۔ ہاں ، یہ ضرور ہے کہ چھوٹے بچے اپنے علاقے میں بکرے گھماتے نظر آئے۔ اس طرح عید قرباں کا تہوار جوش وخروش کے ساتھ منایا۔
نوجوانوں نے بھی توجہ دی
حاجی محمد الیاس قادری (گوونڈی) نے بتایا کہ عید سے قبل کچھ علاقوں کے تعلق سے جس طرح کی خبریں ملی تھیں اس سے بہت سے لوگ تشویش میں مبتلا تھے کہ کہیں کچھ شرپسند رخنہ اندازی نہ کریں مگر ایسا کچھ نہیں ہوا ۔ اس کے علاوہ اطمینان اور جوش وخروش کے ساتھ قربانی کی گئی ۔ انتظامیہ اور پولیس کا بھی تعاون رہا۔
یہ بھی پڑھئے : اسکولوں میں آن لائن پڑھائی کی تجویز کی مخالفت
مالونی ملاڈ میں مقیم خورشید عالم نے بتایا کہ عمارت کے احاطے میں بکروں کی قربانی تو برسہابرس سے کی جاتی ہے مگر اس دفعہ باہمی مشورے سے مزید محتاط رہ کر قربانی کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ اس میں صاف صفائی کا خاص خیال رکھنا، نوجوانوں کو یہ سمجھانا کہ جانور ذبح کرتے وقت ویڈیو نہ بنائیں اور نہ ہی ایسا ویڈیو وائرل کریں، اس سے بہت غلط پیغام عام ہوتا ہے۔ اس طرح کی کوششوں اور احتیاط کا نتیجہ تھا کہ بہتر انداز میں قربانی کا تہوار منایا گیا ۔ ورنہ مہاڈا کی ہی ایک سوسائٹی میں قربانی کے پہلے مسئلہ پیدا ہوگیا تھا ۔
دیونار میں قربانی کی صورتحال
عید قرباں میں دیونار سلاٹر ہاؤس میں پہلے دن۵؍ ہزار۱۹۷؍ جانور جبکہ۶؍ ہزار سے زائد دوسرے دن ذبح کئے گئے ۔ دیونار مذبح کے جنرل منیجر کلیم پاشا پٹھان نے مذکورہ تفصیلات کے ساتھ یہ بھی بتایا کہ اس دفعہ جانور ذبح کرنے اور گوشت لے جانے کے لئے ٹوکن سسٹم سے مزید سہولت ہوئی۔اسی طرح اس دفعہ دیونار منڈی میں ایک لاکھ۶۹؍ ہزار۹۲؍ بکرے لائے گئے، ایک لاکھ۵۸؍ ہزار فروخت ہوئے اور خبر لکھے جانے تک۱۱؍ ہزار بچے ہوئے تھے۔