مستقبل کو ملحوظ رکھتے ہوئے جین تھیراپی پر کام کرنے والی ایک بایوٹیک کمپنی کا کہنا ہے کہ ہندوستان جلد ہی کینسر کے ایسے علاج کا عالمی مرکز بن سکتا ہےجس میں صرف ایک انجکشن کے ذریعے بیماری سے لڑنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
EPAPER
Updated: May 30, 2026, 3:12 PM IST | Mumbai
مستقبل کو ملحوظ رکھتے ہوئے جین تھیراپی پر کام کرنے والی ایک بایوٹیک کمپنی کا کہنا ہے کہ ہندوستان جلد ہی کینسر کے ایسے علاج کا عالمی مرکز بن سکتا ہےجس میں صرف ایک انجکشن کے ذریعے بیماری سے لڑنے کی کوشش کی جاتی ہے ۔
کینسر کے علاج کی جین تھراپی کی بایوٹیک کمپنی’’میڈتھیراپی‘‘ نے ہندوستان کو جین تھیراپی کی تیاری کا عالمی مرکز بنانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔اس میں علاج بنیادی طور پر توجہ کینسر کے جدید طریقہ علاج’’CART-T Cell Therapy‘‘ کے ذریعہ کیا جاتا ہے۔ اس تھیراپی کو امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے ) نے پہلی بار۲۰۱۷ء میں منظوری دی تھی۔اس کے بعد سے اسے بعض اقسام کے کینسر کیلئے ممکنہ علاج قرار دیا جا رہا ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ امریکہ میں کئے گئے اس کے فیز-1 ٹرائل میں کینسر کے مریضوں میں حوصلہ افزا طبی نتائج سامنے آئے ہیں۔اب کمپنی ہندوستان میں فیز-۲؍ ٹرائل شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھئے : شاہ پور: ایک ہی خاندان کے ۲۲؍افراد غذائی سمیت کا شکار
ادارہ ٔ انقلاب نے ’میڈتھیراپی ‘ کے ایم ڈی اور سی ای او ڈاکٹر وکاس ورما سے تین اہم سوالات کئے:
کینسر کا یہ ممکنہ علاج یعنی’’جین تھیراپی کیاہے ؟
جین تھراپی میں جینیاتی انجینئرنگ کے ذریعے خراب جینز کی مرمت، تبدیلی یا بہتری کی جاتی ہے تاکہ جسم کا معمول کا نظام بحال ہو سکے۔ اس کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ علاج کی صرف ایک خوراک کسی بیماری کو ممکنہ طور پر ختم کر سکتی ہے۔ مختصراً، انسانی جسم میں خلیے ہوتے ہیں اور ان خلیوں میں جین موجود ہوتی ہیں، جو جسم کے سب سے پیچیدہ حصوں میں شمار کی جاتی ہیں۔ بیماریوں سے لے کر کسی بھی شخص کی جسمانی خصوصیات تک ہر چیز جین کے ذریعے کنٹرول ہوتی ہے۔ جین تھیراپی کے طریقۂ علاج میں ہم خراب جین کی نشاندہی کرتے ہیں اور ایک انجکشن کے ذریعے اسے نشانہ بناتے ہیں اور اس ایک انجکشن سے علاج اثر نظر آنا شروع ہو جاتاہے۔
اس علاج کے اخراجات کیاہیں اوراسے رعایتی اور عام آدمی کیلئے قابل رسائی بنانے کیلئے کیا منصوبہ ہے؟
اس وقت علاج میں ادویات کی تیاری کی لاگت فی مریض کم از کم۱۰؍ لاکھ روپے ہے۔ تاہم ہم چاہتے ہیں کہ یہ ہے کہ یہ طریقہ علاج صرف امیر طبقے تک محدود نہ رہے۔ زیادہ تر خرچ ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ پر آتا ہے کیونکہ ہر مریض کی جینیاتی ساخت کے مطابق الگ تھراپی تیار کرنی پڑتی ہے۔اس لئے بڑے پیمانے پر دوا کی تیاری مشکل ہو جاتی ہے۔ اسی مرحلے میں زیادہ وقت اور سرمایہ خرچ ہوتا ہے۔ لیکن مسلسل تحقیق اور طبی ماہرین کے تعاون سے بعض معاملات میں ہم نے تیاری کا وقت کئی مہینوں کے بجائے صرف ایک دن تک کم کرلیا ہے۔ اسی طرح ہم لاگت اور تیاری کے وقت کو کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تاکہ آنے والے برسوں میں یہ علاج زیادہ سستا اور قابل رسائی ہو سکے۔
یہ بھی پڑھئے : بھیونڈی : بقرعید کے موقع پر ٹریفک روٹس میں تبدیلی
فی الحال ٹرائل اور تجربہ کی کیا کیفیت ہے اور اس تھیراپی کی تیاری میں سب سے بڑا چیلنج کیا ہے؟
ہم امریکہ میں اپنا پہلے مرحلے کا ٹرائل کامیابی سے مکمل کر چکے ہیں اور حوصلہ افزا نتائج کے ساتھ ایف ڈی اے کی منظوری بھی مل گئی ۔ جلد ہی ہندوستان میں فیز-۲ یعنی دوسرے مرحلے کا ٹرائل شروع ہو گا، جس کیلئے ۵۰؍ سے ۱۰۰؍ مریضوں کے نمونے درکار ہوں گے۔ سب سے بڑا چیلنج اس شعبے میں تربیت یافتہ طبی ماہرین کی کمی ہے۔ ہمارے پاس اس شعبہ کیلئے تربیت یافتہ افراد خاطر خواہ تعداد میں موجود نہیں ہیں۔ ہم نے میڈیکل کالجوں کے ساتھ شراکت داری کی ہے جہاں امریکہ کے ماہرین ہندوستانی طلبہ اور پیشہ ور افراد کو تربیت دے رہے ہیں۔