Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’عوام کو انصاف دلانے کے جذبہ نے مجھے جج بننے کی ترغیب دی‘‘

Updated: April 13, 2026, 7:21 PM IST | Shaikh Akhlaq Ahmad | Mumbai

سیف نے انقلاب سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ’’ میرا تعلق مہاراشٹر کے ضلع عثمان آباد کے کلمب میں واقع شرادھون گاؤں سے ہے۔ تعلیم کا آغاز لٹل فلاور اسکول سے ہوا ۔چوتھی جماعت کے بعد میں نے کرلا کے مائیکل ہائی اسکول میں داخلہ لیا اور ۲۰۱۴ء میں ۹۰؍فیصد مارکس کے ساتھ دسویں میں  کامیابی حاصل کی ۔‘‘

Saif Ali with his parents at Saki Naka after his success. Photo: INN
سیف علی کامیابی کے بعد ساکی ناکہ میں اپنے والدین کے ساتھ۔ تصویر: آئی این این

مہاراشٹر پبلک سروس کمیشن کے سول جج و جوڈیشل مجسٹریٹ کے مسابقتی امتحان میں شاندار کامیابی اور میرٹ میں جگہ پاکر جج کے عہدہ پر تقرری کیلئے منتخب ہونےوالے ساکی ناکہ کے سیف علی کی کامیابی ممبئی کے سلم علاقوں کے طلبہ کیلئے مشعل راہ کی اہمیت رکھتی ہے۔سیف علی کا تعلق ایک محنت کش گھرانے سے ہے۔ ان کے والد بی ایم سی کے سیوریج محکمہ میں ملازم ہیں، جنہوں نے بطور لیبر اپنی ملازمت کا آغاز کیا تھا۔

سیف نے انقلاب سے خصوصی گفتگو میں بتایا کہ’’ میرا تعلق مہاراشٹر کے ضلع عثمان آباد کے کلمب میں واقع شرادھون گاؤں سے ہے۔ تعلیم کا آغاز لٹل فلاور اسکول سے ہوا۔چوتھی جماعت کے بعد میں نے کرلا کے مائیکل ہائی اسکول میں داخلہ لیا اور ۲۰۱۴ء میں ۹۰؍فیصد مارکس کے ساتھ دسویں میں کامیابی حاصل کی۔‘‘ سیف نے ایس کے سومیہ کالج سے سائنس سے بارہویں ۶۲؍فیصد کے ساتھ کی اور انجینئرنگ کی تعلیم شروع کی لیکن عدم دلچسپی کی وجہ سے انجینئرنگ کی تعلیم ادھوری چھوڑدی اور وکالت کا پیشہ اختیار کرنے کافیصلہ کیا۔

یہ بھی پڑھئے: آپ کا بی ایل اوکون ہے؟ یہ کیسے معلوم کریں؟

سیف بتاتے ہیں کہ ’’حالات بہت ناگفتہ تھے۔ ۲؍ بہنوں کی پڑھائی اور میری تعلیم کے اخراجات کا بوجھ تھا۔ میں حالات سے واقف تھامگر جب میں نے انجینئرنگ چھوڑ کر وکالت کی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کا ذکر والدین سے کیا تو انھوں نے ساتھ دیا اور یوں میں نے رضوی کالج میں داخلہ لے کر قانون (لاء) کی تعلیم حاصل کی۔‘‘ سیف علی نے ۲۰۲۲ء میں ۶۵؍ فیصد مارکس کے ساتھ وکالت کی ڈگری حاصل کی۔‘‘ اس سوال پر کہ جج بننے اوراس کیلئے مقابلہ جاتی امتحان کاخیال کیسے آیا، انہوں نے بتایا کہ ’’ عوام کو انصاف دلانے کے جذبہ نے مجھے جے ایم ایف سی کی تیاری کی جانب موڑا اور ا س کیلئے میں نے پونے میں ایک کوچنگ کلاس جوائن کی۔ایک سال کی محنت کے بعد ۲۰۲۲ءکے امتحان میں شرکت کی اور پہلی ہی کوشش میں انٹرویو تک پہنچ گیا تاہم چند نمبرات کی کمی کے باعث کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔‘‘

سیف کے مطابق’’ اس ناکامی کے باوجود میں نے ہمت نہیں  ہاری، ممبئی واپس آ کر وکالت کی پریکٹس شروع کی اور ساتھ ہی ذاتی طور پرپڑھائی جاری رکھی۔ آخرکار ۲۰۲۳ء کے امتحان میں الحمد للہ مجھے کامیابی حاصل ہوئی اور میں نے اپنے والدین سے کئے گئے وعدے کو پورا کردیا۔‘‘ اس کامیابی پر سیف علی کے اہل خانہ اور علاقےجری مری ساکی ناکہ میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: زیر زمین پانی کی پائپ لائنوں سے بڑے پیمانے پر پانی کی چوری کا الزام

سیف علی  کے مطابق’’میں نے جج بننے کے فیصلہ اس لئےکیا کہ میں نے دیکھا کہ ایک وکیل صرف ایک فریق کے حق میں رہ کر قانون کا مطالعہ کرتا ہے جبکہ جج دونوں فریق کو سن کر انصاف کے مطابق فیصلہ کرتا ہے۔جھوپڑ پٹی علاقے میں رہتے ہوئے اورتمام دشوارویوں کا مقابلہ کرتے ہوئے غیر معمولی کامیابی حاصل کرنےوالے سیف علی کا کہنا ہےکہ ’’کامیابی کیلئے ضروری ہے کہ محنت کو اپنا شعار بنائیں، سوشل میڈیا سے دوری اختیار کریں اور غلط راستوں  اور صحبتوں سے بچتے ہوئے اپنے مقصد پر توجہ مرکوز رکھیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ’’ اگر محنت مثبت سوچ و فکر کے ساتھ صحیح سمت میں ہو تو اس کا پھل ضرور ملتا ہے۔‘‘ سیف علی  کے ساتھ امتحان میں شرکت کرنےوالے ۱۲۹؍طلبہ نے کامیابی حاصل کی ہے جن میں ۳؍مسلم امیدوار شامل ہیں۔ تاہم امسال صرف ۴۰؍ عہدوں پر تقرری ہونی ہے اس لئے ۱۲۹؍ میں سے اول تا۴۰؍ ویںپوزیشن تک آنےوالے طلبہ کی ہی تقرری عمل میں آئے گی۔ اس میں سیف علی واحد مسلم امیدوار ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK