Inquilab Logo Happiest Places to Work

بائے پاس سرجری کیلئے مریضوں کو سرکاری اسکیموں کا فائدہ نہیں مل رہا ہے

Updated: March 17, 2026, 9:13 AM IST | Iqbal Ansari | Mumbai

بی جے پی رکن اسمبلی نے ایوان کو بتایا کہ ان کے حلقے میں ۶؍ لاکھ روپے کی اسکیم کے تحت اسپتال ایک مریض کو صرف ایک لاکھ روپے کی مدد دے رہا ہے۔

There Are Various Government Schemes For Many Patients In Hospitals.Photo:INN
اسپتالوں میں کئی مریضوں کیلئے کئی طرح سرکاری اسکیمیں موجود ہیں- تصویر:آئی این این
مہاراشٹر اسمبلی کے اجلاس میں پیر کے روز ریاست کی سرکاری صحت اسکیموں پر اہم بحث ہوئی جس کے دوران وزیر صحت پرکاش ابیٹکر نے یقین دہانی کروائی کہ بائی پاس جیسی بڑی سرجری کیلئے مریض کو ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑنا چاہئے۔
بحث کے دوران پارتور (پربھنی) سے بی جے پی کے رکن اسمبلی ببن راؤ لونیکر نے مہاتما پھلے جن آروگیہ یوجنا اور آیوشمان بھارت یوجنا کے نفاذ کے بارے میں سنگین سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کئی مریضوں کو ان اسکیموں کا متوقع فائدہ نہیں مل رہا ہے۔  انہوں نے اپنے حلقے کے ایک مریض کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ ایک کسان وٹھل کدم کو بائے پاس سرجری کی ضرورت ہے جس پر تقریباً ۱۱؍ لاکھ روپے خرچ آتا ہے، لیکن انہیں اسکیم کے تحت مناسب مالی امداد نہیں مل رہی ہے۔لونیکر نے بتایا کہ ان اسکیموں کے تحت مجموعی طور پر ۶؍ لاکھ روپے کی مدد فراہم کی جاتی ہے جس میں ۳؍ لاکھ روپے مرکزی حکومت اور ۳؍ لاکھ روپے ریاستی حکومت کی جانب سے دیئے جاتے ہیں۔ تاہم متعلقہ اسپتال نے مریض کو بتایا کہ صرف ایک لاکھ روپے کی منظوری دی جائے گی، جسکے باعث گزشتہ دو ماہ سے سرجری نہیں ہو سکی۔ 
انہوں نے حکومت سے سوال کیا کہ جب اسکیم کے تحت ۶؍ لاکھ روپے کی سہولت موجود ہے تو پھر مریض کو صرف ایک لاکھ روپے کیوں دیئے جا رہے ہیں؟ ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کے مسائل غریب خاندانوں کو شدید مشکلات میں ڈال دیتے ہیں اور فلاحی اسکیموں کے مقصد کو ناکام بنا دیتے ہیں۔ ان سوالات کے جواب میں وزیر صحت پرکاش ابیٹکر نے کہا کہ بائے پاس جیسی بڑی سرجریوں کیلئے مہاتما پھلے اور آیوشمان بھارت دونوں اسکیموں میں واضح اصول اور معیار مقرر کئے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ آیوشمان بھارت یوجنا کو ریاستی اسکیم کے ساتھ ضم کر دیا گیا ہے جسکے بعد علاج کے اخراجات کی حد میں اضافہ کیا گیا ہے۔  وزیر صحت نے واضح طور پر کہا کہ ان اسکیموں کے تحت بائی پاس جیسی سرجری کیلئے مریض کو اپنی جیب سے ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرنا چاہئے۔ 
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر کوئی اسپتال قواعد پر عمل نہیں کرتا یا مریضوں سے رقم طلب کرتا ہے تو فوری طور پر حکومت کو اطلاع دی جائے، ایسی صورت میں متعلقہ اداروں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔  وزیر نے تمام عوامی نمائندوں سے اپیل کی کہ وہ پرائمری ہیلتھ سینٹر، دیہی اسپتالوں اور سب ڈسٹرکٹ اسپتالوں کے ذریعے اس اسکیم کے مؤثر نفاذ میں تعاون کریں تاکہ زیادہ سے زیادہ مستحق افراد کو اس کا فائدہ مل سکے۔  یاد رہے کہ ایکناتھ شندے کی سابقہ حکومت نے جیوبا پھلے جن آروگیہ یوجنا شروع کی تھی جس کے تحت بائے پاس سرجری کیلئے مریض کو مکمل مالی اعانت کا وعدہ کیا گیا تھا لیکن خود بی جے پی رکن اسمبلی کا الزام ہے کہ اس اسکیم کے تحت مریضوںکو امداد نہیں مل رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK