• Sun, 06 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

پے پال کی چھٹنی مہم امریکہ تک پہنچ گئی، اعلیٰ تنخواہ والے ملازمین بھی زد پر

Updated: September 06, 2026, 6:03 PM IST | New Delhi

امریکی ڈجیٹل ادائیگی کمپنی پے پال نے اپنے عالمی تنظیم نو پروگرام کے تحت امریکہ میں بھی ملازمتوں میں بڑی کٹوتی شروع کردی ہے۔ ہندوستان میں ملازمین کی تخفیف کے بعد اب کمپنی کے امریکہ میں واقع سان جوز ہیڈکوارٹرز کے سینئر اور زیادہ تنخواہ لینے والے ملازمین بھی اس اقدام سے متاثر ہوئے ہیں۔

PayPal.Photo:INN
پے پال تصویر:آئی این این

امریکی ڈجیٹل ادائیگی کمپنی پے پال (PayPal)  نے اپنے عالمی تنظیم نو پروگرام کے تحت امریکہ میں بھی ملازمتوں میں بڑی کٹوتی شروع کردی ہے۔ ہندوستان میں ملازمین کی تخفیف کے بعد اب کمپنی کے امریکہ میں واقع  سان جوز ہیڈکوارٹرز  کے سینئر اور زیادہ تنخواہ لینے والے ملازمین بھی اس اقدام سے متاثر ہوئے ہیں۔ تازہ رپورٹ کے مطابق سان جوز میں ۲۵۱؍ ملازمتیں ختم  کی جارہی ہیں، جن میں سینئر ڈائریکٹرز،منیجرز اور بڑی تعداد میں انجینئرنگ سے متعلق عہدے شامل ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے:غزہ کی مہلک ناکہ بندی کیخلاف ایک اور فلوٹیلا مہم

 رپورٹس کے مطابق پے پال کی تازہ امریکی چھٹنی میں تقریباً ۵۰؍ڈائریکٹرز، ۴۰؍سے زائد سینئر منیجرز اور  ۱۰۰؍سے زیادہ انجینئرنگ سے متعلق عہدے  شامل ہیں۔ ان میں سینئر سافٹ ویئر انجینئرز اور انجینئرنگ منیجرز کے علاوہ پروڈکٹ مینجمنٹ سے وابستہ عہدے بھی متاثر ہوں گے۔ یہ تخفیف ۳۰؍ اکتوبر ۲۰۲۶ء سے مؤثر ہونے کی اطلاع ہے۔  
پے پال نے اس سال اپنی عالمی افرادی قوت میں تقریباً  ۲۰؍فیصد کمی  کا منصوبہ بنایا ہے۔ ۲۰۲۵ءمیں کمپنی کے ملازمین کی تعداد تقریباً ۲۳۸۰۰؍ تھی، جس کے حساب سے یہ کمی تقریباً ۴۷۶۰؍ ملازمتوں  کے برابر بنتی ہے۔ کمپنی کا مقصد تنظیمی ڈھانچے کو آسان بنانا، انتظامی سطحوں کو کم کرنا اور آپریشنل اخراجات میں کمی لانا ہے۔ 
 امریکہ سے پہلے پے پال نے ہندوستان میں بھی اپنے ملازمین کی تعداد کم کی ہے۔  روئٹرز  کے مطابق  ہندوستان  میں تقریباً ۲۲۰؍ ملازمتیں  ختم کی گئی ہیں جبکہ دیگر رپورٹس میں ہندوستان  کے مختلف دفاتر میں مجموعی طور پر تقریباً ۶۰۰؍ ملازمین کے متاثر ہونے کا ذکر کیا گیا ہے۔ کمپنی نے ان تبدیلیوں کو اپنے پہلے سے اعلان کردہ ملٹی ایئر ٹرانسفورمیشن پلان   کا حصہ قرار دیا ہے، جس کا مقصد عالمی آپریشنز کو آسان بنانا، کارکردگی بہتر کرنا اور طویل مدتی ترقی کے لیے کمپنی کو زیادہ مؤثر بنانا ہے۔  

یہ بھی پڑھئے:اداکارہ مدھوبالا نے اپنی دلکش اداؤں سے پردۂ سیمیں کو سجایا

پے پال نے اخراجات کم کرنے کے لیے رواں سال تقریباً ۴۰۰؍ملین ڈالر کی بچت کا ہدف رکھا ہے، جبکہ اگلے دو سے تین برسوں میں کم از کم ۵ء۱؍ ارب ڈالر  کی مجموعی بچت حاصل کرنے کا منصوبہ ہے۔ کمپنی تنظیمی سطحوں کو کم کرنے کے ساتھ ساتھ اے آئی  اور آٹومیشن کے استعمال کو بڑھانے پر بھی توجہ دے رہی ہے۔ 
 پے پال کی یہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب عالمی ٹیکنالوجی اور فن ٹیک صنعت میں بڑے پیمانے پر ’لے آفس‘جاری ہیں۔ کمپنیاں بڑھتے اخراجات، مسابقت، کمزور کاروباری کارکردگی اور اے آئی  اور آٹومیشن  کے بڑھتے استعمال کے باعث اپنے روایتی افرادی قوت کے ڈھانچے پر نظرثانی کررہی ہیں۔ پے پال بھی اپنے کاروباری ماڈل کو زیادہ سادہ اور ٹیکنالوجی پر مبنی بنانے کی کوشش کررہی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK