• Sun, 06 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

غزہ کی مہلک ناکہ بندی کیخلاف ایک اور فلوٹیلا مہم

Updated: September 06, 2026, 11:44 AM IST | Rome

فریڈم فلوٹیلا کولیشن کا اعلان، مشن اکتوبر میں غزہ پہنچنے کی کوشش کرے گا، دو بحری جہاز پہلے ہی روانہ ہوچکے ہیں۔

A large-scale flotilla campaign has been launched before, in which several ships participated. Photo: INN
اس سے قبل بھی بڑے پیمانے پر فلوٹیلا مہم چلائی جاچکی ہےجس میں کئی جہازوں نے حصہ لیا تھا۔ تصویر: آئی این این

فریڈم فلوٹیلا کولیشن (ایف ایف سی) نے اعلان کیا ہے کہ ایک نیا بین الاقوامی مشن شروع ہو گیا ہے، جس کےتحت بحری جہاز غزہ کے ساحل تک پہنچنے کی کوشش سے قبل یورپی بندرگاہوں پر قیام کریں گے۔ یہ مشن اکتوبر میں غزہ پہنچنے کی کوشش کرے گا۔ کولیشن نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اسرائیل کی جانب سے غزہ کی ’غیر قانونی اور مہلک ناکہ بندی کو چیلنج کرنے‘کا مشن جاری رہے گا، باوجود اس کے کہ فلوٹیلاکےرضاکاروں اور کارکنوں کو اسرائیلی فورسیز کی جانب سے تشدد کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ کولیشن کے مطابق کارکنوں کو شدید مارپیٹ، بار بار ٹیزر گن کے استعمال اور جنسی زیادتی سمیت مبینہ بدسلوکی کا سامنا کرنا پڑا۔ کولیشن نے کہا کہ اکتوبر۲۰۲۵ءمیں جنگ بندی کے اعلان کے بعد دنیا کے ایک بڑےحصے کی توجہ غزہ سے ہٹ گئی ہے، اس لیے ’’اب پہلے سے کہیں زیادہ فوری کارروائی کی ضرورت ہے۔ ‘‘
بیان کے مطابق دو بحری جہاز پہلے ہی روانہ ہوچکے ہیں۔ ہنڈالانےجون اور جولائی میں اسکینڈینیویاکاسفر کیا اور ناروے، سویڈن اور ڈنمارک کی بندرگاہوں پر رکا، جبکہ کیٹ رواں ماہ کے آغاز میں برطانیہ کے شہر برسٹل سے روانہ ہوا اوراس کےبعد آئرلینڈ، جرمنی اور فرانس کی بندرگاہوں پر پہنچا۔ فلوٹیلا کے مطابق اسپین، پرتگال اور اٹلی میں قیام کے بعدیہ مشن غزہ کی جانب اپنا سفر جاری رکھے گا۔ ایف ایف سی کی اسٹیئرنگ کمیٹی کی رکن زوہارچیمبرلین ریگِیو نے کہا، ’’فریڈم فلوٹیلا دوبارہ روانہ ہو رہاہےکیونکہ ہماری حکومتیں اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہیں۔ ‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہر بندرگاہ پر ہم یہ مطالبہ کریں گے کہ فلسطینیوں کوباوقار زندگی گزارنے کی آزادی دی جائے۔ ‘‘انسانی حقوق کے کارکنوں، امن کے لیے کام کرنے والے کارکنوں، منتخب نمائندوں، صحافیوں، طبی ماہرین اور فلسطینی حقوق کے حامیوں نے نئے فلوٹیلا میں شمولیت اختیار کی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: امریکی اپنے بچوں کو اسرائیل کے کرائے کے فوجی نہ بننے دیں: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان

کولیشن اپنی جڑیں ۲۰۱۰ءتک لے جاتی ہے، جب اسرائیلی فورسز نے غزہ جانے کی کوشش کرنے والے فلوٹیلا کے جہاز ماوی مرمرہ پر ۱۰؍کارکنوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ اس کی تاریخ فری غزہ موومنٹ کے۲۰۰۸ءکے پہلے بحری مشنز تک بھی پہنچتی ہے۔ 
کولیشن کے مطابق اسرائیلی فورسز نے گزشتہ ایک سال کے دوران گلوبل صمود فلوٹیلا کو۲؍مرتبہ روکا۔ اکتوبر ۲۰۲۵ءمیں ۴۵۰؍ سےزیادہ شرکا کو حراست میں لیا گیا، جن میں جنوبی افریقی مصنفہ زوکیسوا وانر اور نیلسن منڈیلا کے پوتے منڈیلا منڈیلا بھی شامل تھے، جبکہ اپریل ۲۰۲۶ءمیں مزیدتقریباً ۱۷۵؍افراد کو حراست میں لیا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے جہازوں کو روکنے اور ان پر دھاوا بولنے کے بعد حراست میں لیے گئے کارکنوں کو نیند سے محروم رکھنے، پانی اور طبی امداد سے انکار سمیت دیگر ناروا سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔ 
فلوٹیلا کو محفوظ راستہ دینے کا مطالبہ
کولیشن نے حکومتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلوٹیلاکو محفوظ راستہ فراہم کرنے کی ضمانت دیں، اسرائیل پر غزہ میں خوراک، پانی اور ادویات کی رسائی میں رکاوٹیں ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالیں، یہ واضح کریں کہ بحری جہازوں پر کسی بھی حملےیا ان پر قبضےکے نتیجے میں سفارتی اقدامات کیے جائیں گے، اور ناکہ بندی ختم کرانے کیلئے سفارتی و اقتصادی ذرائع استعمال کریں۔ اس مشن میں شریک میری لینڈ سے تعلق رکھنے والے انجینئر ایڈورڈ ڈیجیلیو نے کہا، ’’ہم جانتے ہیں کہ غزہ کی جانب سفر کرنا سنگین خطرات کا حامل ہے، لیکن خاموشی اور بے عملی فلسطینیوں اور دنیا کے لیے کہیں زیادہ بڑی قیمت کا باعث بنتی ہے۔‘‘

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK