’دھرم کے نام پر نہیں بٹیں گے ‘کا نعرہ۔گرگام چوپاٹی سے اگست کرانتی میدان تک مارچ میں نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت کے امکان کے پیش نظر پولیس کا سخت بندوبست۔
EPAPER
Updated: August 10, 2026, 12:19 PM IST | Saeed Ahmed Khan | Mumbai
’دھرم کے نام پر نہیں بٹیں گے ‘کا نعرہ۔گرگام چوپاٹی سے اگست کرانتی میدان تک مارچ میں نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت کے امکان کے پیش نظر پولیس کا سخت بندوبست۔
’انگریزوبھارت چھوڑو تحریک‘ کی ۸۴؍ ویں سالگرہ پر اتوار کی صبح پر امن مارچ نکالا گیا جس کے دوران ’نہیں بٹیں گے ،نہیں بٹیں گے ، دھرم کے نام پر نہیں بٹیں گے‘ اور ’انقلاب زندہ باد‘ کے نعرے بلند کئے گئے۔اس مارچ میں شامل شرکاء بینر اٹھائے آگے بڑھتے رہے اور انہوں نے امن اور ایکتا کا یہ کہتے ہوئے پیغام دیا کہ ہمیں اس تحریک کو زندہ رکھنا ہے ، گاندھی جی اور دیگر شہیدوں کی قربانیوں کو یاد رکھنا ہے اور ان کے سپنوں کو پورا کرنے کی کوشش کرنی ہے، یہی ملک کیلئے قربانی دینے والوں کو سچا خراج عقیدت ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: تھانے ضلع پریشد محکمۂ تعلیم کی جانب سے اساتذہ کی بھرتی کا اشتہار جاری
مارچ میں شامل کسان لیڈر ڈاکٹر سنیلم نے کہا کہ’’ آج کا تاریخی دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جس طرح ہم سب نے اور دیش کے لئے قربانی دینے والوں نے انگریزوں کو بھگایا تھا اسی طرح نفرت، تشدد، بھید بھاؤ ، اونچ نیچ ، بدعنوانی اور بے روزگاری وغیرہ کے خاتمے کے لئے ہمیں متحد رہنا ہوگا اور دیش کو اس بلندی پر لے جانا ہوگا جس کا ہمارے پرکھوں نے خواب دیکھا تھا۔ ایسا نہ کرنا گویا وطن کے لئے شہید ہونے والوں کا اپمان کرنے کے مترادف ہوگا۔‘‘ڈاکٹر یوسف مہر علی سینٹر کی رکن اور مارچ میں پیش پیش رہنے والے گڈی نے کہا کہ ’’آج کا دن ہم سب ہندوستانیوں کو یہ سبق یاد دلاتا ہے کہ ہم اس تحریک کو زندہ رکھیں گے اور ملک میں اتحاد و سالمیت اور بھائی چارہ کے لئے کوشاں رہیں گے۔ ان طاقتوں کو منہ توڑ جواب دیں گے جو اس کے برعکس نظریات کی حامل ہیں۔‘‘’ہم بھارت کے لوگ‘ کے رکن فیروز میٹھی بور والا نے کہا کہ ’’ہم سب اس کا عہد کرتے ہیں کہ دیش کے لئے قربانی دینے والوں کو یاد رکھیں گے اور ان کے جذبے سے تحریک لے کر ہم بھی ان کے نقش قدم پر چل کر ملک کو ترقی کی راہ پر لے جائیں گے۔ اس دیش کو نفرت، ذات پات اور دھرم کے نام پر کسی قیمت بننے یا بانٹنے نہیں دیں گے۔‘‘
گرگام چوپاٹی سے اگست کرانتی میدان تک نکالے جانے والے اس مارچ میں نوجوانوں کی بڑی تعداد میں شرکت کے امکان کے پیش نظر پولیس کا سخت بندوبست تھا۔