• Fri, 13 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگلہ دیش میںپُرامن پولنگ ،آج نتائج

Updated: February 12, 2026, 11:25 PM IST | Dhaka

شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلے عام انتخابات میں ۴۸ ؍ فیصدپولنگ ، ساتھ ہی’’جولائی چارٹر‘‘ کیلئے ریفرنڈم بھی کروایاگیا

As soon as the polling was completed, the counting of votes began at the polling center in Dhaka. (Photo: PTI)
پولنگ مکمل ہوتے ہی ڈھاکہ کے پولنگ سینٹر میں ووٹوں کی گنتی بھی شروع کردی گئی ۔(تصویر: پی ٹی آئی )

بنگلہ دیش میں شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹنے کے بعدہونے والے پہلے عام انتخابات میں عوام نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا، اس دوران عبوری حکومت کے سربراہ محمد یونس نے اس انتخاب کوخوف کی رات کا خاتمہ اور امید کی صبح کا آغاز قراردیا۔خبروں کے مطابق ۴۸؍ فیصد عوام نے اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔ پولنگ جمعرات کی صبح مقامی وقت کے مطابق ساڑھے سات بجے شروع ہوئی اور ساڑھے چار بجے تک جاری رہی۔ حکام کا دعویٰ ہے کہ ووٹرس ٹرن آؤٹ امید سے بہتر رہا ہے، تاہم نتائج کا باضابطہ اعلان جمعہ کی دوپہر تک متوقع ہے۔ حالانکہ پولنگ مکمل ہوتے ہی کئی مراکز پر ووٹوں کی گنتی شروع کردی گئی تھی ۔ ان انتخابات کیلئے رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد۱۲؍کروڑ تھی جبکہ نوجوان ووٹرس کے کردار کو ان انتخابات میں فیصلہ کن قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اصل مقابلہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) اور جماعت اسلامی کے درمیان ہے۔کل۵۱؍ سیاسی جماعتیں اور ۲۰۳۴؍ امیدوار  ۳۰۰؍پارلیمانی نشستوں کے لئے میدان میں ہیں، جن میں ۲۷۵؍ آزاد امیدوار شامل ہیں۔
 ۳۰۰؍ عام نشستوں کے علاوہ، بنگلہ دیشی پارلیمنٹ میںخواتین کیلئے۵۰؍ سیٹیں مخصوص ہیں، جس سے ایوان کی کل رکنیت۳۵۰؍ ہو جاتی ہے۔واضح رہے کہ جمعرات کو نئی حکومت کے انتخاب کے ساتھ ساتھ بنگلہ دیش کے ووٹرس نے ریفرینڈم کیلئے بھی اپنی رائے دی۔ اس ریفرنڈم میں ’’جولائی چارٹر۲۰۲۵ء ‘‘ کے لئے عوام سے رائے مانگی گئی تھی۔ یہ جولائی چارٹر بنگلہ دیش کی ۳۰؍ سے زائد سیاسی پارٹیوں کے درمیان اتفاق رائے سے طے پانے والے مسودہ کو کہا جاتا ہے۔اس پر عوام نے کیا رائے دی یہ تو نتائج کے ساتھ ہی معلوم ہو سکے گا۔ 
  دریں اثناءبنگلہ دیش کے عبوری سربراہ محمد یونس نے دارالحکومت ڈھاکہ میں ووٹ ڈالا۔ ووٹ ڈالنے کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے یونس نے کہا ’’آج سارے بنگلہ دیش کے  لئے خوشی کا دن ہے ، ہمارے خواب پریشاں کا خاتمہ ہوا  اور نئے خوابوں کا آغاز ہو رہا ہے ۔‘‘انہوں نے کہا کہ انہیں عوامی انتظامیہ اور انصاف کا مکمل طور پر ٹوٹا پھوٹا نظام ملا تھا جس کی جامع اصلاحات کی ضرورت تھی۔علاوہ ازیں یونس نے جمہوری تبدیلی کیلئے اصلاحات کا ایک منشور پیش کیا تھا، جس کا مقصد آمرانہ یک جماعتی نظام کی واپسی کو روکنا ہے۔ واضح رہے کہ یہ ملک کا۱۳؍واں قومی انتخاب ہے، جس میں۱۹۷۱ء کے بعد پہلی بار بنگلہ دیش سے باہر مقیم تارکین وطن کو ڈاک کے ذریعے ووٹ ڈالنے کی سہولت دی گئی ہے۔یاد رہے کہ عوامی بغاوت کے بعد شیخ حسینہ کے ۱۵؍ سالہ دور اقتدار کے خاتمے کے بعد یہ پہلا عام انتخاب ہے۔ 
 دریں اثناء شیخ حسینہ نے اس انتخاب اور ریفرنڈم کو ڈھکوسلہ قرار دیتے ہوئے اسے رد کرنے کا مطالبہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ جب ان کی پارٹی کو اس میںشریک ہی نہیں ہونے دیا گیا تو پھر یہ جمہوری کیسے ہو گیا؟ انہوں نے محمد یونس پر شدید تنقیدیں بھی کیں۔ 

bangladesh Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK