۳۵۰؍ نشستوں کیلئے ۲۰۰۰؍ امیدوار مقابلہ کر رہے ہیں جن میں سے تقریباً۱۴۰۰؍ پہلی بار انتخاب لڑ رہے ہیں۔
EPAPER
Updated: February 12, 2026, 11:05 AM IST | Agency | Dhaka
۳۵۰؍ نشستوں کیلئے ۲۰۰۰؍ امیدوار مقابلہ کر رہے ہیں جن میں سے تقریباً۱۴۰۰؍ پہلی بار انتخاب لڑ رہے ہیں۔
بنگلہ دیش میں عام انتخابات کے لئے آج ووٹ ڈالے جائیں گے،الیکشن کمیشن کے مطابق پولنگ ۱۲؍ فروری کو صبح۳۰:۷؍ بجے سے شام۴؍بجے تک جاری رہے گی۔ ووٹوں کی گنتی شام۴؍ بجے کے فوراً بعد شروع کی جائے گی۔ باضابطہ نتائج کا اعلان۱۳؍ فروری کی صبح کیا جائے گا۔شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد بنگلہ دیش کے تاریخی عام انتخابات ہوں گے جس میں جماعت اسلامی اور بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے درمیان کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔انتخابات میں ۲۰۰۰؍ امیدوار ۳۵۰؍ نشستوں کے لیے مقابلہ کر رہے ہیں۔ ان میں سے تقریباً۱۴۰۰؍ پہلی بار انتخابات لڑ رہے ہیں۔
انتخابی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق۶۰۰؍ سے زائد امیدوار۴۴؍ سال یا اس سے کم عمر کے ہیں ۔ سروے کے مطابق طارق رحمان کی قیادت میں بی این پی اس وقت سب سے بڑی اور مضبوط جماعت کے طور پر ابھری ہے۔جماعت اسلامی بی این پی کو سخت مقابلہ دے رہی ہے۔ ۱۹۹۱ء کے بعد سے تقریباً تین دہائیوں تک بنگلہ دیش کی قیادت خاتون وزرائے اعظم خالدہ ضیا اور شیخ حسینہ کے ہاتھ میں رہی۔ مگر آنے والے انتخابات پہلی بار ایسے ہوں گے جن میں کسی بڑی جماعت کی قیادت کسی خاتون کے پاس نہیں۔
یہ بھی پڑھئے:اداکارہ سری لیلا نے ایم بی بی ایس مکمل کیا، تقسیم اسناد کی تقریب کا ویڈیو وائرل
جماعت اسلامی کی قیادت میں۱۱؍ جماعتوں کا اتحاد میدان میں ہے اور بعض تجزیوں کے مطابق بی این پی اور جماعت کے درمیان ووٹوں کا فرق بہت کم (تقریباً۲؍ فیصد) رہ سکتا ہے۔شیخ حسینہ کی جماعت عوامی لیگ رجسٹریشن معطل ہونے کی وجہ سے انتخابات سے باہر ہے۔ تاہم جائزوں کے مطابق ان کے سابقہ ووٹرز کی ایک بڑی تعداد اب بی این پی کو ووٹ دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ عام انتخابات سے قبل ڈھاکہ سمیت مختلف شہروں کے ریلوے اسٹیشنوں پر ہزاروں افراد کا غیر معمولی رش دیکھنے میں آیا جو اپنے آبائی علاقوں میں ووٹ ڈالنے کے لئے ٹرینوں کے ذریعے روانہ ہو رہے ہیں۔