Inquilab Logo Happiest Places to Work

دھولیہ کے اجمیرا نگر میں راہ گیر سڑک پر پھیلے گندے پانی سے پریشان

Updated: April 21, 2026, 11:39 AM IST | Ismail Shaad | Dhule

اسکول اور مدرسے کے طلبہ کی یہ راہ گزر گندے پانی سے بھری ہوئی رہتی ہے ،مقامی باشندوں کا مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کا مطالبہ۔

Ajmera Nagar Street Where Water Is Filled .Photo:INN
اجمیرا نگر کی گلی جہاں پانی بھرا ہوا ہے - تصویر:آئی این این

شہر کے مسلم اکثریتی  علاقے اجمیرا نگر پٹی سے گزرنے والی سڑک پر  نالیوں کا گندہپانی پھیل جانے سے راہ گیروں خاص کر مدرسے  اور اسکول کے طلبہ کا یہاں سے گزرنا دشوار ہوگیا ہے۔ اجمیرا نگر پٹی کے راستے سے مسلم نگر، ہزار کھولی، آشیانہ کالونی، اویشکار کالونی، رحمت پارک سمیت کئی بستیوں کے لوگ یہاں سے گزرتے ہیں۔ نیشنل اردو اسکول، عابدہ عبدالمغنی گرلز ہائی اسکول، سوئیس اردو اسکول ،حاجی محمد عثمان مراٹھی اسکول، مدرسہ باقیات الصالحات و دیگر مدرسوں اور اسکولوں کے طلبہ کا بھی یہی راستہ ہےلیکن جس دن گھروں میں نل میں پانی آتا ہے یہاں حالت ابتر ہو جاتی ہے۔ نالیوں کا پانی اوپر آجاتا ہے اور لوگوں کا چلنا دو بھر ہوجاتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے:اکشے کمار کی فلم ’’بھوت بنگلہ‘‘ دنیا بھر میں ۱۰۰؍ کروڑ کے کلب میں شامل

پیر کے دن بھی یہاں ایسا ہی کچھ منظر تھا۔  بابت مقامی باشندے عبدالطیف نے انقلاب کو بتایا کہ اجمیرا نگر پٹی کے علاقے میں نالیوں کاگندہ پانی راستے پر پھیل جانا کوئی نئی بات نہیں ہے ۔ جس دن اس علاقے میں نل میں پانی آتا ہے یہاں یہی صورت حال ہوتی ہے ۔ نالیوں کو مکینوں نے لادیوں سے ڈھاک رکھا ہے کسی نے نالی پر پکا باندھ کام کرلیا ہے۔اسلئے نالیوں کے پانی کی نکاسی میں رکاوٹ پیدا ہو تی ہے  اورپانی راستے پر پھیل جاتا ہے۔ صفائی ملازمین کا کہنا ہے کہ وہ نالیوں کی صفائی کیلئے وقت پر آتے ہیں لیکن لوگوں نے نالیوں پرپٹریاں باندھ رکھی ہیں۔نالیوں کو لادی سے ڈھاک دیا ہے اسلئے انھیں صفائی کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ ایک اور شخص نے بتایا کہ اس بستی کے چوراہے پر بڑے پائپ ڈالے گئے ہیں۔اسی پائپ میں چاروں طرف کی نالیوں کے نکاسی کی گئی ہے۔جب نل میں پانی آتا ہے تو چاروں طرف کا پانی اس پائپ میں تیزی سے بہتا ہے نالیوں کی چوڑائی کم ہونے سے تیز بہاو کا پانی روڈ پر پھیل جاتا ہے ۔وارڈ نمبر ۱۴؍کے لوگوں نے حکام سے اس مسئلےکو جلد از جلد حل کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK