پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ امریکہ-ایران جنگ کے اخراجات۴۷؍ بلین ڈالر سےتجاوز کر گئے، اس کے علاوہ آلات کے نقصانات میں۶؍ بلین ڈالر سے زیادہ کے نقصان کا اندازہ ہے، جبکہ یہ اعداد و شمار جولائی میں محکمہ دفاع کے تخمینے سے۲۵؍ فیصد سے زیادہ ہے۔
EPAPER
Updated: October 29, 2026, 9:04 PM IST | Washington
پینٹاگون کا اندازہ ہے کہ امریکہ-ایران جنگ کے اخراجات۴۷؍ بلین ڈالر سےتجاوز کر گئے، اس کے علاوہ آلات کے نقصانات میں۶؍ بلین ڈالر سے زیادہ کے نقصان کا اندازہ ہے، جبکہ یہ اعداد و شمار جولائی میں محکمہ دفاع کے تخمینے سے۲۵؍ فیصد سے زیادہ ہے۔
رائٹرز کے ذریعہ حاصل کردہ پینٹاگون کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکی فوج نے اب تک ایران میں جنگ لڑنے کے لیے۴۷؍ بلین ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں، جو جولائی میں محکمہ دفاع کے تخمینے سے۲۵؍ فیصد سے زیادہ ہے۔ تاہم پینٹاگون نے فوری طور پر اپنے تخمینے پر تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا، جو عوامی طور پر شیئر نہیں کیا گیا ہے۔ واضح رہے کہ ایران جنگ کی بڑھتی ہوئی لاگت کے بارے میں انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ریپبلکن۳؍ نومبر کے انتخابات سے قبل غیر مقبول تنازع کے سیاسی اثرات سے نبرد آزما ہیں جو اگلے دو سالوں کے لیے کانگریس کے کنٹرول کا تعین کریں گے۔
یہ بھی پڑھئے: نیتن یاہو واپوزیشن کو اکثریت نہ ملنے پر فلسطینیوں کی زیرقیادت جماعتیں کنگ میکر
جنگ کے عالمی توانائی کے اخراجات پر اثرات نے ریپبلکن امیدواروں کی حمایت کو متاثر کیا ہے اور صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی منظوری کی درجہ بندی کو نقصان پہنچایا ہے۔ ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو کانگریس کے دونوں ایوانوں میں معمولی اکثریت حاصل ہے۔پینٹاگون کا تازہ ترین تخمینہ جنگ کو انجام دینے کے آپریشنل اخراجات سے منسلک تھا، جس میں تنازع میں استعمال ہونے والے خرچ شدہ گولہ بارود کو تبدیل کرنے کے لیے۲۹؍ بلین ڈالر سے زیادہ کی متوقع لاگت تھی۔ساتھ ہی فوجی سازوسامان اور نام نہاد پلیٹ فارم نقصانات، کو تبدیل کرنے کے لیے۶؍ بلین ڈالر سے زیادہ کی ضرورت ہوگی، جس میں جنگ کے دوران کھوئے گئے بہت سے ڈرونز سمیت طیاروں کا نقصان بھی شامل ہے۔
جبکہ ٹرمپ نے یہ پیش گوئی کرتے ہوئے کہ تنازع مختصر وقت تک جاری رہے گافروری میں اسرائیل کے ساتھ مشترکہ طور پر ایران جنگ کا آغاز کیا ۔بعد ازاں ایران جنگ میں ٹرمپ کی ابتدائی حکمت عملی پہلے مہنگے، اعلیٰ درجے کے درست میزائلوں کو ایران کے دفاع پر بمباری کرنے کے لیے استعمال کرنے پر مرکوز تھی تاکہ بعد میں وہ کم مہنگا گولہ بارود استعمال کر سکے، بشمول کشش ثقل کے بم جیسے ہوا سے لانچ کیے گئے JDAMs، جو وافر مقدار میں ہیں۔
لیکن اپریل کی جنگ بندی نے ایران کو زیر زمین ذخیرہ کرنے کی سہولیات کو کھودنے کا وقت دیا، جس سے کچھ ایرانی دفاع، نیز میزائل اور ڈرون واپس آن لائن آ گئے جو پہلے ناقابل رسائی تھے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ کا ڈیزل مذاکرات کے درمیان روسی انویسٹمنٹ فنڈ پر پابندی ہٹانے پرغور: رپورٹ
ٹرمپ نے اس کے بعد سے ایران پر بحری ناکہ بندی لگا دی ہے تاکہ اسے تیل کی برآمدی آمدنی سے محروم کیا جا سکے اور وسط مدتی انتخابات کے بعد جنگی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کو برقرار رکھا ہے۔ امریکی حکام، گمنامی کی شرط پر بات کرتے ہوئے، کہتے ہیں کہ پینٹاگون نے ایسا کرنے کا حکم دیے جانے پر بھاری لڑائی دوبارہ شروع کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔
تازہ ترین پینٹاگون تخمینہ کا موازنہ وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ کے جولائی کے۳۷؍ اعشاریہ ۵؍ بلین ڈالر کے جنگ کے اخراجات کے تخمینے سے کیا جاتا ہے۔اگرچہ امریکی فوج کے ایران جنگ کے لاگت کے تخمینے میں ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں سے امریکی اڈوں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کے لیے متوقع بڑے اخراجات کا واضح طور پر حساب نہیں تھا۔