اداکار علی فضل ۲۰۲۶ء میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار ہیں، جہاں وہ سال کے چند سب سے زیادہ متوقع پروجیکٹس میں بالکل مختلف کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔
EPAPER
Updated: April 22, 2026, 12:03 PM IST | Mumbai
اداکار علی فضل ۲۰۲۶ء میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار ہیں، جہاں وہ سال کے چند سب سے زیادہ متوقع پروجیکٹس میں بالکل مختلف کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔
اداکار علی فضل ۲۰۲۶ء میں اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کرنے کے لیے تیار ہیں، جہاں وہ سال کے چند سب سے زیادہ متوقع پروجیکٹس میں بالکل مختلف کردار ادا کرتے نظر آئیں گے۔ شدید ایکشن سے بھرپور کہانیوں سے لے کر جذباتی رومانوی کرداروں تک، وہ ایک ایسے توازن کو قائم کرنے جا رہے ہیں جسے بہترین انداز میں اداکاری کا امتحان کہا جا سکتا ہے۔
ایک جانب، علی دوبارہ ’’مرزا پور‘‘ کی سخت اور سنسنی خیز دنیا میں لوٹ رہے ہیں، ایک ایسی فرنچائز جس نے انہیں ایک مضبوط اداکار کے طور پر پہچان دلائی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ’’راکھ‘‘ جیسے پروجیکٹس ان کے ایکشن اور شدت سے بھرپور پہلو کو مزید اجاگر کریں گے۔ دوسری طرف، وہ ’’لسٹ اسٹوریز ۳‘‘ میں ایک دلکش عاشق کے کردار میں نظر آئیں گے، جہاں وہ اپنی شخصیت کا ایک نرم اور نفیس رخ پیش کریں گے۔
اس متنوع فہرست میں ’’بٹوارا ۱۹۴۷ء (پہلے لاہور۱۹۴۷ء) بھی شامل ہے، جو ہندوستان کی آزادی کے پس منظر میں بنائی گئی ایک پیریڈ ڈرامہ فلم ہے، جس میں علی ایک تاریخی اور جذباتی کہانی کا حصہ ہوں گے۔
یہ بھی پڑھئے:بی آر چوپڑہ نے سماجی موضوعات پر فلمیں بنائیں
اس حوالے سے علی نے کہاکہ ’’۲۰۲۶ء دیانتداری سے کہیں تو میری تخلیقی زندگی کے سب سے تسکین بخش سالوں میں سے ایک محسوس ہو رہا ہے۔ میں ہمیشہ یہ مانتا آیا ہوں کہ ایک اداکار کے طور پر آپ کو خود کو مشکل حالات میں ڈالنا چاہیے اور یہ سال بھی کچھ کم نہیں تھا۔ ایک طرف میں ’’مرزا پور‘‘ کی دنیا میں واپس جا رہا ہوں، جو کہ کچی، شدید اور جسمانی طور پر چیلنجنگ ہے، مگر اس فلم میں ایک تازگی بھی ہے جس کی مجھے توقع نہیں تھی اور دوسری طرف، میں ایسی کہانیوں میں کام کر رہا ہوں جو مکمل طور پر مختلف جذباتی زبان کا تقاضہ کرتی ہے۔چاہے وہ رومانس ہو، تھرل ہو یا ایک پرسکون اور باوقار کردار۔ جو چیز مجھے سب سے زیادہ پرجوش کرتی ہے وہ یہ مسلسل بدلتی ہوئی توانائی ہے کیونکہ زندگی بھی ایسی ہی ہوتی ہے—ہر طرف سے چیلنجز دیتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:زیرو ویلی:اروناچل پردیش میں دلکش اور منفرد ہل اسٹیشن
انہوں نے مزید کہاکہ ہم روزانہ کئی کردار ادا کرتے ہیں، بس ہمیں اس کا احساس نہیں ہوتا۔ شاید یہی چیز مجھے متحرک رکھتی ہے اور یاد دلاتی ہے کہ میں نے اداکاری سے محبت کیوں کی تھی—مختصر وقت میں کئی زندگیاں جینے کی جدوجہد۔ یہاں ایکشن بھی ہے، رومانس بھی ہے، تھرل بھی ہے، اور ہر ایک کردار مجھ سے نہ صرف جسمانی بلکہ جذباتی طور پر بھی سنجیدہ محنت کا تقاضہ کرتا ہے۔ یہی تضاد مجھے بہت پسند آ رہا ہے۔ مجھے یہ بھی اچھا لگتا ہے کہ ہدایت کار ہمیں خود کو مختلف انداز میں دیکھنے کا موقع دے رہے ہیں۔ یہ حوصلہ افزائی بھی اتنی ہی اہم ہے اور اسی کے ساتھ چلتی ہے۔‘‘ اتنے متنوع پروجیکٹس کے ساتھ، علی فضل ایک بار پھر اپنی ہمہ جہتی صلاحیتوں کو ثابت کرنے کے لیے تیار ہیں، اور یہ دکھانے کے لیے بھی کہ وہ ہر نئے کردار کے ساتھ اپنی فنی حدود کو وسعت دینے سے نہیں گھبراتے۔