یکم جون سے کاروبار شروع کرنےکی اجازت دی جائے

Updated: May 30, 2021, 8:17 AM IST | saadat khan | Mumbai

لاک ڈائون کے سبب گزشتہ ۲؍مہینے سے بند کاروبار سے پریشان حال تاجروںکے ایک وفد نے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کے دوران گزارش کی ،کاروبارکے بندہونےسے مالی مشکلات میں مبتلا بیوپاریوںنے کہاکہ اب ہم مزید لاک ڈائون برداشت نہیں کرسکتے

A delegation of businessmen called on Governor Bhagat Singh Koshiari.Picture:Inquilab
تاجروں کا وفد گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کےد وران ۔ تصویر،انقلاب

کوروناوائرس کی دوسری لہر کی وجہ سے نافذ کئے گئے لاک ڈائون سے گزشتہ ۲؍مہینے سے ممبئی سمیت ریاست کے دیگر اضلاع کی لاکھوں دکانیں بند ہیں۔کاروبار بند ہونے سے بیوپاریوںاور دکانوں کے ملازمین کی روزی روٹی کا مسئلہ پیداہوگیا۔ بے روزگاری سے پریشان حال مختلف کاروباری تنظیموں کے نمائندوں نے سنیچر کو بی جے پی کے لیڈر منگل سنگھ پربھات لودھا کی قیادت میں ریاست کے گورنر بھگت سنگھ کوشیاری سے ملاقات کرکے یکم جون سے کاروبار شروع کرنےکی اجازت دیئے جانےکی اپیل کی ہے ۔ گورنر کوشیاری نے وفد کو یقین دلایاہے کہ وہ اس بارےمیںریاستی وزیر صحت راجیش ٹوپےاور چیف سیکریٹری سے بات چیت کرکے کاروبار شروع کرنےکی اجازت دلوانےکی پوری کوشش کریں گے ۔ 
 چیمبرآف اسوسی ایشن آف مہاراشٹرانڈسٹری اینڈ ٹریڈ،مہاراشٹر چیمبر آف کامرس ،انڈسٹری اینڈ ایگریکلچر ، فیڈریشن آف ریٹیل ٹریڈرس اسوسی ایشن، اسٹیل یوزرس فیڈریشن آف انڈیا، فیڈریشن آف اسوسی ایشن آف مہاراشٹر اور دی ممبئی گرین ڈیلرس اسوسی ایشن نے اس ضمن میں ٹریڈرس یونائٹیڈفورم آ ف مہاراشٹر کا قیام کیاہے جس کے نمائندوں کے وفد نے گورنربھگت سنگھ کوشیاری کو جو مکتوب دیاہے ، اس میں لاک ڈائون میں ڈھیل دیئے جانے کی اپیل کی گئی ہے ۔ اس کے ساتھ ہی غیر ضروری اشیاء کی دکانوںکےساتھ سبھی دکانوںکو روزانہ کم ازکم ۸؍گھنٹے کھولنےکی اجازت دیئے جانےکی درخواست کی ہے۔اس دوران دکانداروںکی جانب سے کووِڈ کیلئے مختص تمام ضروری احتیاطی تدابیر پر عمل کرنےکی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔ کاروبارکرنےکی اجازت دیئے جانے سےتاجر اپنے اسٹاف کو تنخواہیں ادا کرسکیں گے۔ سرکاری واجبات کے ساتھ ہی بینک کی قسط وغیرہ بھر سکیں گے۔اس کےعلاہ یومیہ مزدو روںکو مزدوری دی جاسکے گی۔جو فی الحال دکانوں کے بند ہونے سے بھوکے رہنے پر مجبو ر ہیں۔یکم جون سے اگر دکانیں کھولنے کی اجازت دی جاتی ہےتو مانسون شروع ہونے سے پہلے دکانداراپنا مال محفوظ طورپر رکھ سکیں گے علاوہ ازیںبارش کا پانی بھرنے سے ہونےوالے نقصانات سے بچنےکا بھی بندوبست کرسکیں گے۔‘‘
  اس کےعلاوہ مذکورہ تنظیموںنےلاک ڈائون کی وجہ سے جو تاجر وینٹی لیٹر پرپہنچ گئے ہیں انہیں آکسیجن پہنچانےکیلئے لاک ڈائون کے وقفہ کافیکسڈ الیکٹرک بل ، ۲؍سال کا پروفیشنل ٹیکس، مقامی ادارہ مثلاً بی ایم سی ، مہانگر پالیکا اور نگر پالیکاوغیرہ کی جانب سے وصول کیاجانےوالا کرایہ اورلائسنس فیس معاف کرنے کا مطالبہ کیاہے۔
 مہاراشٹر چیمبر آف کامرس ،انڈسٹری اینڈ ایگریکلچرکے صدر موہن گرنانی نے انقلا ب کو بتایاکہ ’’گزشتہ ڈیڑھ سال سے لاک ڈائون کے کالے بادل بیوپاریوںکے سر  پر منڈلا رہےہیں۔کاروبار کے بندہونے سے آمدنی رُک گئی ہے ۔ جبکہ خرچ کا سلسلہ جاری ہے ۔ حتیٰ کہ ان سروِس کی بھی قیمت چکانی پڑرہی ہے جس کا لاک ڈائون میں استعمال نہیں کیاگیاہے۔مثلاً دکانداروںکے پاس کمرشیل میٹر ہے ۔ لاک ڈائون میں دکانوںکےبندہونے کے باوجود دکانداروںکو اوسط بل روانہ کیاگیاہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پرانےاور مستقل عملے کی ضروریات پوری کرنا ہماری ذمہ داری ہے چاہے کام ہو یانہ ہو۔ ان کا گھر ہمارے ذریعہ چلتاہے لیکن اب دکانداروںکے پاس ان اخراجات کیلئے پیسہ نہیں ہے ۔ اس لئے وہ چاہتےہیں کہ یکم جون سے انہیں کاروبار شروع کرنےکی اجازت دی جائے ۔ حالانکہ ہم نے متعددسیاسی پارٹیوںکےسامنے اپنی بات رکھی ہےمگر کہیں سے کوئی حل نہیں نکلا۔ اس لئے سنیچر کو ہم نے گورنر سے اس بارےمیں ملاقات کی۔‘‘
    فیڈریشن آف اسوسی ایشن آف مہاراشٹرکے صدر وینش مہتا نےکہاکہ ’’ اب ہم مزید لاک ڈائون برداشت نہیں کرسکتے۔لاک ڈائون کی وجہ سے گزشتہ ۲؍مہینے سے ممبئی سمیت مہاراشٹرکی ۱۳؍لاکھ دکانیں بندپڑی ہیں۔ ایک دکان میں اوسطاً ۴؍افراد کام کرتےہیں۔اس طرح تقریباً ۵۰؍ لاکھ افرادکی روزی روٹی بندہے۔ ‘‘
  فیڈریشن آف ممبئی ریٹیل کلاتھ ڈیلرس اسوسی ایشن کے سیکریٹری ہیرن مہتا کےمطابق ’’یکم جون سے کاروبار شروع کرنےکےعلاوہ ہمارےپاس کو ئی متبادل نہیں ہے۔ کام کاج بندہونےسے بڑا مسئلہ پیداہورہاہے۔ اس کے علاوہ ہمیں سرکارکی جانب سے کسی طرح کی مدد نہیں فراہم کی جارہی ہے البتہ ہم پر الیکٹر ک بل، پروفیشنل ٹیکس، لائسنس فیس اور دیگر واجبات کا بوجھ مزید بڑھ رہاہے ۔ ایسےمیں کاروبارکرکےہی ان ضروریات کو پورا کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK