طویل عرصے بعد چاندنی رات میں تاج محل کے دیدار کی اجازت

Updated: August 19, 2021, 12:08 PM IST | Agency | Agra

مارچ ۲۰۲۰ء سے تاج محل سیاحوں کیلئے بند کیا گیاتھا ، اس کے بعد سے کئی مرتبہ کھولا گیا لیکن چاندنی رات میں سیاحوں کوروک دیا گیا تھا

A view of the Taj Mahal on a moonlit night.Picture:INN
چاندنی رات میں تاج محل کا ایک منظر۔ تصویر: آئی این این

 : سیاح اب چاندنی رات میں بھی تاج محل کا دیدار کرسکیںگے۔ کورونا انفیکشن کی پہلی لہر کے بعد سے بدھ کو پہلی مرتبہ انتظامیہ نے رات میں تاج محل دیکھنے کی اجازت دی ہے۔ اس سلسلے میں ضلع مجسٹریٹ پربھون این سنگھ نے بتایا کہ اب کووڈ پروٹوکول پر عمل کرنے کی شرط پر تاج محل کا دیدار رات میں بھی کیا جاسکے گا۔ ۲۱، ۲۳؍اور ۲۴؍ اگست کو تاج محل کارات میں دیدار کیا جائے گا، جس کے لئے ۳؍ وقت طے کئے گئےہیں۔ تاج محل سیاحوں کیلئے  رات ۳۰:۸؍ بجے   سے ۹؍ بجےتک ، ۹؍بجے سے ۳۰:۹؍ تک  اور۳۰:۹؍ سے۱۰؍بجےکےدرمیان کھلا رہے گا۔ تاج محل کا رات میں دیدار کرنے کے لئے ٹکٹ کا نظم ونسق پہلے کی طرح آن لائن رہے گا اور ایک دن پہلے ٹکٹ کی بکنگ کی جاسکے گی۔ کورونا انفیکشن کے سبب   رات میںتاج محل کا دیدار مارچ ۲۰۲۰ء سے بندتھا۔ کورونا کی پہلی لہر میں گزشتہ سال   ۱۷؍ مارچ کوتاج محل بند کردیا گیا تھا۔ ۱۸۸؍  دنوں  کے بعد تاج محل ۲۱؍ ستمبر کو کھلا تھا۔ دوسری لہر میں تاج محل ۱۶؍ اپریل سے ۱۵؍ جون تک بند رہا۔ ۱۶؍ جون سے تاریخی عمارت کو سیاحوں کے لئے کھول دیا گیا۔ تاج محل دن میں تو سیاحوں کے لئے دو بار بند ہونے کے بعد کھل گیا، لیکن رات میں دیدار کرنے پر پابندی تھی۔ اب  انتظامیہ نے اس کی اجازت دے دی ہے۔  انتظامیہ کےمطابق ساون کے ’پرنیما‘ سے ایک دن پہلے ۲۱؍ اگست کو تاج محل رات میں   دیدارکرنے کے لئے کھلے گا۔ لاک ڈائون کے سبب ۲۲؍ اگست کو بند رہے گا۔ اس کے بعد ۲۳؍ اور ۲۴؍ اگست کو بھی سیاح چاندنی رات میں تاج کا دیدار کرسکیں گے۔ ٹکٹ لینے کا نظم آن لائن رہے گا۔ ۱۹۸۴ء تک تاج محل رات میں کھلتا تھا، سابق وزیراعظم آنجہانی اندرا گاندھی کی شہادت  کے بعد   رات میں تاج کے دیدار پر پابندی لگ گئی تھی۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق نومبر ۲۰۰۴ء میں تقریباً ۲۰؍ برس کے بعد تاج محل کو دوبارہ رات میں کھول دیا گیا تھا۔ اس کے بعد   چاندنی کے موقع پر مہینےمیں ۵؍ دن تاج محل کو کھولنے کا انتظام کیا  گیا تھا۔ اس کے بعد کورونا میں یہ سلسلہ رک گیا تھا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK