Inquilab Logo Happiest Places to Work

انڈونیشیا: ۱۶؍سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی

Updated: March 09, 2026, 2:58 PM IST | Jakarta

انڈونیشیا نے اعلان کیا ہے کہ ۱۶؍سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے جارہا ہے، وزیر ذرائع ابلاغ کے مطابق یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز، ایکس، بگولیو اور روبلوکس کے استعمال پر پابندی۲۸؍ مارچ سے نافذ العمل ہوگی۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

انڈونیشیا نے جمعہ کے روز اعلان کیا کہ وہ۱۶؍ سال سے کم عمر بچوں کے سوشل میڈیا استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے جارہا ہے۔ وزیر مینتیا حفیظ نے کہا کہ یہ اقدام۲۸؍ مارچ سے نافذ العمل ہوگا اور ۱۶؍ سال سے کم عمر بچے خطرے والے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر اکاؤنٹ نہیں رکھ سکیں گے۔ مینتیا نے امریکی سوشل میڈیا کمپنی ایکس پر کہاکہ یہ فیصلہ انڈونیشیا کے بچوں کے مستقبل کے لیے کیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے ساتھ، انڈونیشیا آسٹریلیا کے بعد بچوں کی سوشل میڈیا تک رسائی کو محدود کرنے والا دوسرا ملک بن گیا ہے، جس نے گزشتہ دسمبر میں اسی قسم کا قانون پاس کیا تھا جسے دنیا کا پہلا قانون قرار دیا جا رہا تھا۔

یہ بھی پڑھئے: ایران کے اسکول پر حملہ: امریکی تحقیقات میں ممکنہ امریکی کردار کا اعتراف

دریں اثناء مینتیا کے مطابق، اس کا نفاذ بتدریج کیا جائے گا، جس کا آغاز یوٹیوب، ٹک ٹاک، فیس بک، انسٹاگرام، تھریڈز، ایکس، بگولیو اور روبلوکس جیسے پلیٹ فارمز سے ہوگا۔انہوں نے ڈیجیٹل دنیا میں موجود خطرات بشمول فحش مواد، سائبر بلیئینگ (آن لائن غنڈہ گردی)، آن لائن فراڈ اور ڈیجیٹل لت کا حوالہ دیا۔ان کا کہنا تھا، ہم سمجھتے ہیں کہ اس قدم سے ابتدائی طور پر تکلیف ہو سکتی ہے۔ تاہم، حکومت اس وقت خاموش نہیں بیٹھ سکتی جب بچوں کا مستقبل داؤ پر لگا ہو۔ حکومت اس بات کو یقینی بنائے گی کہ بچوں کے تحفظ کی ذمہ داری ڈیجیٹل اسپیس کو چلانے والے پلیٹ فارمز پر عائد ہو۔ تاکہ والدین کو ان چیلنجز کا اکیلے سامنا نہ کرنا پڑے۔مینتیا نے مزید کہا، ٹیکنالوجی کو انسانیت کو انسان بنانا چاہیے، نہ کہ ہمارے بچوں کے بچپن کی قربانی دینی چاہیے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK